صحت

سگریٹ نوشی کرنے والے الرٹ ہو جائیں

ہم سب کو معلوم ہے کہ سگریٹ نوشی صحت کے لئے خطرناک اور متعدد بیماریوں کا سبب بنتی ہے،مگر ایک نئی تحقیق
میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ایک سگریٹ اتنے خطرناک چیزوں سے بھرا ہوتا ہے کہ جسےکوئی بھی ہوش کی حالت میں منہ لگانا پسند نہیں کرسکتا۔
اسموک فری فار سیٹھ نامی ویب سائٹ نے انکشاف کیا ہےکہ ایک سگریٹ میں نیل پالش ریمور سے لے کرچوہے مارنے کا زہر
تک نہ جانے کتنے خطرناک کیمیکلز شامل ہیں۔
اس امریکی ویب سائٹ کے مطابق سگریٹ 4 ہزار کیمیکلزسے بنتا ہے،جن میں سے اکثر اُس فضلےسے ملتے جُلتے ہیں، جنہیں بمشکل تلف کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ اس میں ایسٹون جو نیل پالش ریمور میں استعمال ہوتا ہےٹوائلٹ صاف کرنے والا ایمونیاسنکھیایاآرسینک،
پینٹ،میتھین گیس،کاربن مونو آکسائڈ،مومی کیمیکل،سٹر ک ایسڈ،نکوٹین اور دیگر قابلِ ذکر ہیں۔
اب یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ سنکھیا زہر چوہے مارنے کے لئے استعمال ہوتا ہے، جبکہ کاربن مونو آکسائڈایک زہریلی گیس ہے،
جو کینسر کا سبب بنتی ہے۔اس کے علاوہ سگریٹ میں فور ملاڈی ہائیڈ بھی موجود ہوتا ہے،جو مردہ جانوروں کو محفوظ
کرنے کے لئے استعمال کیا جانے والا کیمیکل ہے

سستاگنّا اورمیٹھاعلاج

گنّا کھانے کو ہضم کرتا ہے اور نظام ہاضمہ کوطاقت دیتا ہے ۔ یہ جسم کوطاقت اور خون دینے کے ساتھ ساتھ موٹا بھی کرتا ہے ، خشکی دور کرتا ہے ، پیٹ کی گرمی اور جلن کودور کرتا ہے ،پیشاب کی جلن کو دور کرتا ہے، اس کا بیلنے سے نکلا ہوا رس دیر سے ہضم ہوتا ہے چناچہ اسے دانتوں سے چوسنا زیادہ مفید ہے ۔ اس طرح اس میں لعاب دہن شامل ہوجاتا ہے جو ہاضم ہے ۔

پوری دنیا میں شکر، گلوگوز،فروٹوز،گنّے سے حاصل کی جاتی ہیں۔ اس کی گنڈیریاں بنا کر چوسنے سے گرمی دور کرنے، بدن سے زہریلی کثافتیں باہر نکالنے، بدنی مشنری چلانےکے لئے گرمی پیدا کرنے والی شکر بنانے اور دانتوں کی میل کچیل صاف کر کے مسوڑوں کو حرکت دے کرمضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے ۔

2 گلاس گنّے کے رس میں 2 ہلکی چپاتیوں کے برابرغذائیت ہوتی ہے ۔
جوان اور گرم مزاج رکھنے والے اگر کھانے بعد چند گنڈیریاں چوس لیں تومعدہ ہلکا، دانت صاف، اور طبعت چست اور ہشاش بشاش ہوجاتی ہے ۔

گنے کے رس کا ایک گلاس پینے سے قبض ختم اور معدے کی تیزابیت میں کمی ہوجاتی ہے ۔ ساتھ ساتھ بدنی تناؤکم اورخون کا دباؤ گھٹ کر کم ہوجاتا ہے ۔
اطباء کا کہنا ہے کہ دل کی گرمی اوردھڑکن کی زیادتی کو دورکرنے لئے آدھا پاؤسے آدھا سیرتک گنڈیریاں رات کو شبنم میں رکھ کرصبح کو بطورناشتہ چوس لی جائیں تو چند ایام میں گرمی دوراور دل مضبوط ہوجاتا ہے ۔

بعض لوگ نیند کی کمی ، طبعت کے بھاری پن اور چڑچڑے مزاج کا شکار رہتے ہیں ۔ ایسے افراد بھی اگر صبح کے وقت گنڈیریاں چوسیں تو نیند کی کمی دورطبعت ہلکی پھلکی اور چڑچڑاپن جاتا رہتا ہے ۔

گلابیٹھ جائے اورآواز بھاری ہوجائے تو گنے کو پانچ ساتھ منٹ بھوبل میں دبا کر چوسنے سے آواز صاف ہوجاتی ہے ۔

گنّے کا رس بادی طبعت رکھنے والوں کے لئے بے حد مفید ہے۔ اس سے قبض دور ہوجاتی ہے۔

ہرے پیلے رنگ کے قے ہوتو گنّےکا ٹھنڈا میٹھا رس بہت فائدہ دیتا ہے ۔

اس کے سنگھانے سے نکسیر بھی بند ہوجاتی ہے۔

خشک کھانسی دور ہوجاتی ہے بلغم صاف ہوتا ہے ۔

یرقان کی بیماری میں آنکھیں اور پیشاب کا رنگ ذرد ہوجاتا ہے ، بعض کا سارا بدن پیلا اور بدن میں خارش بھی ہوجاتی ہے ۔ اس کے لئے اگر تین تین گھنٹے کے بعد گنڈیریاں چوسیں اور علاج کے ساتھ ساتھ گنّے کا رس بھی پۂیں تو چند روز میں پیلاہٹ ختم اورصحت اچھی ہوجاتی ہے ۔

بدن میں جابجا گلٹیاں اورگانٹھیں نمودار ہوں تو عمر اور جسمانی طاقت کے مطابق چند روزتک صبح ہرڑ کے ساتھ گنّے کا رس پیا جائے تو بڑھے ہوئے غدودوں اورگلٹیوں کا نام ونشان مٹ جاتا ہے ۔

ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنے کا صحت پر کیا اثر ہوتا ہے؟

میونخ: آپ بھی زندگی میں کبھی نہ کبھی ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھتے ہوں گے اور کبھی بھی یہ نہ سوچا ہوگا کہ اس طرح بیٹھنے سے صحت پر کیا اثر ہوتا ہوگا۔لیکن اب ایک جرمن ماہر ہڈی رینہارڈشنیڈیران نے خبردار کیا ہے کہ اگر صرف 30منٹ تک ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا جائے تو اس کی وجہ سے ریڑھ کی ہڈی ،گردن اور کمر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتاہے اور ان میں درد رہنے لگتا ہے۔
اس کاکہنا ہے کہ انسانی جسم اس طرح کی پوزیشن کے لئے نہیں بنا لیکن ہم بے دھیانی میں اس طرح بیٹھنے لگتے ہیں جس کا نقصان کمر اور گردن کے درد کی صورت میں سامنے آنے لگتا ہے۔ڈاکٹر رینہا کا کہنا ہے کہ چونکہ لوگوں کو یہ علم ہی نہیں ہوپاتا کہ اس طرح بیٹھنے کی وجہ سے یہ نقصان ہورہا ہے اور وہ بے دھیانی میں ایسا کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔
ایک اور ماہر ہڈی ویون ایسین سٹاڈ کا کہنا ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے ہمارے چوکلوں اس طرح کی پوزیشن میں ہوتے ہیں جس سے ہماری کمر کت مہروں کو نقصان پہنچتا ہے اور کمر میں پریشر کی وجہ سے اس کا اثر گردن پر جاتا ہے جس میں درد رہنے لگتی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ جتنی زیادہ دیر آپ اس پوزیشن میں بیٹھیں گے اتنا ہی زیادہ نقصان آپ کی کمر اور ریڑھ کی ہڈی کو ہوگا۔اس کا کہنا ہے کہ کوشش کریں کہ اس طرح بیٹھنے سے مکمل نہیں تو زیادہ سے زیادہ پرہیز کیا جائے اور ٹانگیں سیدھی کرکے بیٹھا جائے۔

ایسے ٹوٹکےجو نا کوئی طبیب اور نہ ہی کوئی حکیم بتائےگا

سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں!

سردیوں میں روزانہ صبح ایک برفیلے پانی کی بالٹی سے نہالیں تو ۔۔۔سردی کا اثر بہت کم محسوس ہوتا ہے ۔
اگر آپ نےکہیں جاناہے اور آپ کو نیند آرہی ہے تو ۔۔۔آنکھوں میں مرچیں ڈالنے سے کبھی نیند نہیں آئے گی۔
اگر آپ کے ہاتھ میں درد ہورہا ہو اور آپ اسے توجہ نہ ہٹا پارہے ہوں تو۔۔۔۔ اپنے پاؤں پر ہتھوڑی مارلیں آپ ہاتھ کا درد بھول جائیں گے۔
اگر سردیوں میں آپ کے پیروں کی ایڑیاں پھٹ جائیں اور کوئی کولڈ کریم اثر نہیں کر رہی تو آپ سوئی دھاگہ لے کر اپنی ایڑیوں کو سی لیں۔۔
اگر آپ کے بچے زیادہ مٹی کھاتے ہیں تو ۔۔۔۔ انہیں تھوڑی سیمنٹ بھی کھلا دیں تو بنیاد پکی ہوجائے گی
اگر گوشت میں ڈالنے کے لئے کوئی سبزی سمجھ نہ آئے تو ۔۔۔ آپ بھنگڑا ڈال لیں۔
اگر آپ کے تھوڑے بال سفید ہوں تو۔۔۔ ان میں چونا لگالیں سب بال ایک جیسے ہو جائیں گے
اگر آپ کے کھانے میں مکھی گر جائے تو۔۔۔ اسے نکال کر اتنا چبائیں کہ کسی اور مکھی کی جرات نہ ہو آپ کے کھانے کی طرف آنے کی۔
چہرے کو گلابی کرنا ہو تو دو انڈوں میں ایک سرخ مرچ پھینٹ کر چہرے پہ مانچ منٹ تک مساج کرکے دھولیں،، سرخی آنا شروع ہوجائے گی۔

بچوں کو سردیوں میں امراض سے بچانے کے لیےمفیددیسی ٹوٹکے

دراصل اپنی ناتواں قوت مدافعت کے باعث نوزائیدہ بچے موسمی سختی برداشت نہیں کر پاتے اور ماحول اور آب و ہوا کی تبدیلی سے بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ناسمجھی کے باعث انہیں احتیاطی تدابیر کا بھی زیادہ شعور نہیں ہوتا اور وہ نتائج سے بے پروا ہو کر اپنے کاموںمیں مگن رہتے ہیں، لہٰذا سردیوں میں ان کا متاثر ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔
ایسے میں اکثر مائیں موسم کو الزام دیتی نظر آتی ہیں جو کہ نہایت عجیب امر ہے، کیوں کہ بچے تو ٹھہرے بچے، وہ کیوں کر موسم اور اس کے لیے احتیاطوں کو سمجھ سکتے ہیں؟ یہ کام تو ہے ہی سراسر ان کی مائوں کا کہ انہیں احتیاط کرائیں۔ اگر سرد موسم کے شروع ہوتے ہی بچوں کو مناسب گرم کپڑے پہنائے جائیں۔ انہیں پانی میں کھیلنے سے دور رکھا جائے۔ ٹھنڈے پانی سے ہاتھ منہ دھونے اور نہانے سے روکا جائے۔ چاکلیٹ، غیر معیاری ٹافیوں اور مٹھائیوں سے دور رکھا جائے تو بچے سینے کی جکڑن، سانس کی تکلیف، نزلے، گلے کی خرابی یا گلے کے غدود میں سوجن کی شکایت سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
سردی کے موسم میں نوزائیدہ بچوں کے پائوں، سینے اور خاص طور پر سر کو گرم رہنا چاہیے۔ شیر خوار اور کم از کم پانچ برس تک کے بچوں کے سر اور سینے کو ڈھانپ کر رکھیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پانچ برس سے بڑے بچوں کو گرم کپڑے نہ پہنائے جائیں، اور ان کو سرد ہوا کے جھونکوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے بلکہ احتیاط سب کے لیے ضروری ہے۔
ماہرین طب کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کی چالیس فیصد حرارت سر کے راستے داخل ہوتی ہے اس لیے محتاط رہیں۔ موسم کی سختی کے حساب سے بچوں کے سر پر اونی ٹوپی اور پائوں میں موزے پہنانے کے ساتھ ساتھ سینہ بند یا کوئی ہاف سوئٹر کپڑوں کے اندر پہنائیں۔ ہائی نیک سوئٹر پہنانا بھی مفید رہے گا، گرم کپڑے پہناتے وقت موسم کی شدت کا درست اندازہ کریں اور اس ہی حساب سے کپڑے پہنائیں۔ ایسا نہ ہو کہ موسم کی شدت سے زیادہ بھاری کپڑے پہنا دیے جائیں، جس سے بچہ گھبرا جائے۔
پانی کی بے احتیاطی سے عام طور پر بچوں کی قوت مدافعت کم زور پڑجاتی ہے اور وہ نزلے زکام اور نمونیے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نمونیے کی صورت میں ان کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے پسلیاں چلنے لگتی ہیں۔ تیز بخار ہو جاتا ہے اور بچہ سانس لینے میں دقت محسوس کرتا ہے۔
نمونیے کی صورت میں فوری طور پر معالج سے رجوع کیا جائے، کیوں کہ پاکستان میں بچوں کی اموات کی بڑی وجہ نمونیہ ہے جس کی وجہ سے سالانہ 19 فیصد بچے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ اپنے بچوں کو پہلے ہی نمونیے سے بچائو کے ٹیکے لگوالیں۔ بہ حثیت ماں آپ کو اس بیماری کی علامات بھی معلوم ہونی چاہییں تا کہ بروقت تشخیص کی جاسکے۔
ماہرین کے مطابق جب بچہ کراہنا شروع کرے تو والدین کو چاہیے کہ فوری توجہ دیں، جب کہ سانس لینے میں سیٹی کی آواز نکلنا، پسلی چلنا، بچے کا نڈھال ہونا، بخار، نزلہ اور کھانسی کے ساتھ جھٹکے لگنا شدید نمونیے کی علامات ہیں، ایسی کیفیت میں ہنگامی بنیادوں پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں، اور اسے حرارت پہنچائیں۔ ضرورت ہو تو کمرے میں انگھیٹی جلا لیں، لیکن یہ بھی دھیان رکھیں کہ کمرے میں ہوا کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ اگر بچے کو پائوڈر کا دودھ دیا جا رہا ہے تو ہر بار بوتل کو گرم پانی سے اچھی طرح دھوئیں۔
سردی سے نارمل بخار ہونے کی صورت میں خود سے اینٹی بایوٹک دینے سے گریز کریں۔ بچے کو بخار سے سردی لگ رہی ہو اور وہ کانپنے لگے تو اسے روئی کا بنولہ نا بنائیں بلکہ ذرا ڈھیلے کپڑے پہنائیں اکثر مائیں بچوں کو بخار میں گرم کپڑوں سے سر سے پیر تک ڈھانپ دیتی ہیں جس سے بعض اوقات ان کی حرارت معمول سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ بخار کی صورت میں بچے کو سوپ اور یخنی دیں۔ وقفے وقفے سے بچے کا درجہ حرارت نوٹ کرتے رہیں اور بخار بڑھنے کی صورت میں معالج سے ضرور رجوع کریں۔
بچوں میں سردی کی وجہ سے نزلہ اور گلے میں خراش کی شکایت بھی ہوتی ہے۔ نزلہ بہ ظاہر معمولی نظر آتا ہے مگر اس کی وجہ سے ناک میں ورم کے باعث سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے۔ زکام میں گرم پانی پینا مفید ہے۔ شیر خوار بچوں کو دودھ میں دو پیپل کے پتے، دو چھوہارے، چار کھجوریں ان میں سے کوئی ایک چیز دودھ میں ابال کر پلائیں۔ ادرک کا رس اور شہد مکس کر کے چٹائیں، گاجر پالک کا رس پلائیں، موسمی کا رس پلائیں، چنے ابال کر ان کا پانی پلائیں، سونٹھ اور گڑ پانی میں ڈال کر ابال لیں اور وقفے وقفے سے پلائیں جائفل کو پانی میں گھس کر شہد میں ملا کر صبح و شام چٹانے سے زکام وغیرہ کی شکایات دور ہوجائیں گی۔ ٹھوس غذا کھانے والے بچوں کو زکام میں گڑ اور سیاہ تل کے لڈو کھلائیں، آنولے کا مربہ دیں، چائے اور جوشاندہ پلائیں۔ منقہ، امرود اور کچا پیاز کھانے سے بھی زکام ٹھیک ہو جاتا ہے۔
بچوں کو سرسوں یا زیتون کے تیل کی مالش کر کے دھوپ میں لٹائیں یا بٹھائیں۔ مناسب احتیاط اور تدابیر اختیار کرکے ہم اپنے بچوں کو سردی کے امراض اور تکلیف سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ بچے کے سینے کو ٹھنڈ لگ جانے کی صورت میں پرانی روئی گرم کرکے سینکیں، سینے پر تارپین کا تیل یا معیاری بام مالش کریں۔
نظام تنفس کی تکالیف کے سلسلے میں یہ بہت ضروری ہے کہ بچے کا پیٹ صاف رہے یعنی وہ قبض میں مبتلا نہ ہو اسے دور کرنے کے لیے دس دانے منقہ ایک دو خشک انجیر وغیرہ کا استعمال کافی ہوتا بچہ چھوٹا ہو تو کیسٹر آئل دینا بھی مفید ہوگا۔ نوزائیدہ بچے کو اجوائن اور ہرڑ گھس کر نیم گرم دودھ میں یا گھٹی کی صورت میں پلائیں۔
بچے کو خسرہ نکل آئے تو بارہ گرام خاکسیر ایک کپڑے میں باندھ کر ایک لیٹر پانی میں ڈبوئیں اور یہی پانی پلاتے رہیں۔ گلا خراب ہونے کی صورت میں ذرا سی گلیسرین شہد ایک کپ دودھ میں ملا کر پینے سے افاقہ ہوگا۔قبض کی صورت میں اسپغول پانی کے ساتھ پلائیں ۔
چھینکوں کی صورت میں روغن گل دو تین قطرے کان اور ناک میں ڈالیں۔ پسلی چلنے کی صورت میں بارہ گرام لہسن کچل کر اس کا پانی نکال لیں اور شہد میں مکس کر کے چٹائیں۔
چھوٹے بچوں کو کھانسی ہو تو چھوٹی الایچی پیس کر چٹا دیں ایک سیب پیس کر ایک صاف رومال میں رکھ کر اس کا پانی نچوڑ لیں اور اس میں تھوڑی سی مصری ملا کر صبح و شام پلائیں۔ ابلے ہوئے انڈے کی زردی اور اسے شہد میں ملا کر کھلائیں، اس عمل سے سخت سے سخت کھانسی میں بھی آرام آجائے گا۔ ادرک کے رس میں شہد ملا کر چٹائیں کھانسی دور ہو جائے گی۔

‘اب اچار سے بے چینی دور’

اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ سائنسدانوں نے ایک طریقہ دریافت کرلیا ہے جو ممکنہ طور پر بے چینی پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

سائکیاٹری ریسرچ میں شائع ہونے والی 700 طالب علموں پر کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اچار میں ایسے اجزاء موجود ہوتے ہیں جس سے بے چینی ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

تو پھر اچار اس سلسلے میں ہماری مدد کس طرح کرتا ہے؟ ریسرچ میں ہاضمے کے نظام اور بے چینی کے درمیان قریبی رابطہ پایا گیا ہے۔

ریسرچ میں پایا گیا کہ اچار کھانے سے سوزش کم کرنے میں مدد ملتی ہے جس کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ یہ تناؤ پیدا کرنے والے ہورمونز کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ اچار کھاتے ہی آپ کا تناؤ پوری طرح ختم ہوجائے گا۔ یہ نسخہ ایک حد تک تو کام کرتا تاہم اگر علامات طویل عرصے تک جاری رہیں تو ماہر نفسیات سے رجوع کیا جائے۔

ریسچر میتھیو ہلیمائر نے بتایا کہ اچار کھانے سے بے چینی کم ہوتی ہے تاہم پوری طرح ختم نہیں ہوتی۔

اس آرٹیکل کی مصنف کہتی ہیں کہ اسے لکھنے کے دوران انہوں نے روزانہ اچار کھانا شروع کیا جس کے ان کے موڈ پر مثبت نتائج مرتب ہوئے۔

کھانسی سے آرام کے لیے5مفیدگھریلو نسخے

کھانسی کے شکار افرادکسی مہنگی دوا یا ڈاکٹر سے رجوع کرنے سے قبل ان قدرتی نسخوں کو استعمال کرکے دیکھیں جو آپ کو گھر بیٹھے آرام دلا سکتے ہیں۔

شہد، السی اور شہد

السی کے بیجوں کو پانی میں ابالنے سے ایک گاڑھا جیل بن جاتا ہے جس میں شہد اور لیموں کا اضافہ کھانسی میں کمی لاتا ہے۔ یہ سیرپ یا شربت کھانسی کے لیے زبردست ثابت ہوتا ہے۔ اس کے لیے آپ دو سے تین چائے کے چمچ السی کے بیجوں کو ایک کپ پانی میں اس وقت تک ابالیں جب تک پانی گاڑھا نہ ہوجائے۔ پھر اس میں تین تین، چائے کے چمچ شہد اور لیموں کے عرق کو ملائیں۔اس کے بعد ضرورت پڑنے پر چائے کے ایک چمچ کے ذریعے اسے استعمال کریں۔

گیلی کھانسی کے لیے کالی مرچ کی چائے

کالی مرچ بلغم کو حرکت میں لاکر اس میں کمی لاتی ہے۔ اس چائے کو بنانے کے لیے ایک چائے کا چمچ کالج مرچ اور دو چائے کے چمچ شہد کو ایک کپ میں ڈال کر اسے ابلتے ہوئے پانی سے بھردیں اور پھر اسے پندرہ منٹ تک ڈھانپ کر رکھیں۔ پھر اسے پی لیں۔ یہ نسخہ اس کھانسی کے لیے بہترین ہے جس میں بلغم بن رہا ہو جبکہ خشک کھانسی کے لیے موزوں نہیں۔

لیموں چوسنا کھانسی میں تیز ریلیف کا باعث

یہ سننا عجیب تو لگے مگر گھر میں عام پائے جانے والے لیموں کا ایک چوتھا حصہ لیں اس پر نمک اور کالج مرچ پاﺅڈر چھڑکیں اور چوس لیں۔ اس سے کھانسی کو فوری ریلیف ملے گا۔

گرم دودھ بھی بہترین

کھانسی میں آرام کے لیے ایک اور مقبول گھریلو نسخہ ایک کپ گرم دودھ کا استعمال ہے جس میں شہد کو ملایا گیا ہو۔

بادام

مانا جاتا ہے کہ بادام گلے کے مسائل بشمول کھانسی سے بچاﺅ کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس کے لیے چند چائے کے چمچ اچھے طرح کٹے ہوئے باداموں کو مالٹے کے جوس میں شامل کریں اور چسکیاں لے کر پی لیں یہ کھانسی میں کمی لانے کے لیے قدرتی نسخہ ثابت ہوگا۔

رات گئے کھانا ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ہے

امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شفٹوں میں کام کرنے کے نتیجے میں کھانے کے اوقات میں بے ترتیبی ذہنی مسائل کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔
تحقیق کے مطابق جو لوگ رات گئے کھانا کھاتے ہیں انہیں اطلاعات کو یاد کرنے اور چیزیں سیکھنے میں مشکلات کا تجربہ ہوسکتا ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ سونے کے مخصوص سمجھے جانے والے وقت پر کھانا سیکھنے اور یاداشت کی صلاحیتوں میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے نتیجے میں دماغ کا ہپو کیمپس نامی حصہ متاثر ہوتا ہے جو یاداشت کو تشکیل دینے اور ذخیرہ کرنے سمیت جذبات کا کام کرتا ہے۔
ان کے بقول یہ عادات میٹابولک صحت پر بھی اثرانداز ہوتی ہے جس سے ذیابیطس سے قبل کی علامات واضح ہونے لگتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق یہ بات پہلی بار سامنے آئی ہے کہ کھانے کے اوقات میں بے ترتیبی ذہنی مسائل کا باعث بنتی ہے۔ اس تحقیق کے دوران چوہے پر تجربات یے گئے جس سے یہ نتائج سامنے آئے بلکہ یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کی طویل المعیاد یاداشت میں خوفناک حد تک کمی آئی ہے۔
اسی طرح غلط اوقات میں کھانا نیند کے معمولات کو بھی متاثر کرتا ہے جس سے جسمانی گھڑی متاثر ہوکر مختلف طبی مسائل کا باعث بنتی ہے۔

Google Analytics Alternative