صحت

گورمے، بٹ اور حافظ سویٹس کے خلاف کارروائی: بھاری جرمانہ عائ

پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے آج کارروائی کرتے ہوئے ’’گورمے بیکرز اینڈ سویٹس‘‘ شاد باغ پر چھاپہ مارا۔ اس چھاپے کے دوران ٹیم نے دکان میں موجود فریزروں کا جائزہ لیا۔ فریزروں کی صفائی نہ ہونے اور متعدد ان لیبل آئٹمز کی فروخت پر چھاپہ مار ٹیم نے گورمے سویٹس پربھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔شالیمار ٹاؤن کی ٹیم نے ہی ٹوکے والا چوک میں واقع حافظ سویٹس پر بھی چھاپہ مارا۔ اس کارروئی کے دوران ٹیم نے کھانے پینے کی اشیاء کھلی رکھنے اور بغیر لیبل آئٹمز کی فروخت پر بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔داتا گنج بخش ٹاؤن کی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے بٹ سویٹس ابدالی روڑ کو سیل کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق چھاپہ مار ٹیم جب دکان پر پہنچی تو وہاں مٹھائی کے تمام ریکوں سے مری اور زندہ مکھیاں موجود تھیں اس کے علاوہ پیزا اور چکن کی آئٹمز پر ایکسپائری کی کوئی تاریخ موجود نہ تھی۔ جب کہ فریز کریم کیکوں پر ایکسپائری کی دو تاریخیں ڈالی گئیں تھیں

سندھ کے تعلیمی ادارے 3 اگست کو کھولنے کی سمری وزیر اعلیٰ نے مسترد کر دی

کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک ) سندھ کے صوبائی محکمہ تعلیم نے سکولوں میں تعطیلات سے متعلق چھٹیوں کے ختم ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا لیکن  اس سمری کو وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے مسترد کر دیا ہے۔ اب سندھ کے تعلیمی ادارے  11 اگست کو ہی کھلیں گے۔

تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر سندھ میں تعطیلات بڑھائے جانے پر بات کی جا رہی تھی جسے پرائیوٹ سکولز کی جانب سے مسترد کر دیا گیا تھا ۔ اس کے بعد سیکرٹری تعلیم سندھ کی جانب سے دوبارہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق سندھ بھر کے تعلیمی ادارے 3 اگست کو کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ سیکرٹری تعلیم کا کہنا تھا کہ صوبے میں سنگین سیلابی صورتحال نہیں ہے اس لیے طلبہ کے مفاد اور انہیں تعلیمی نقصان سے بچانے کے لیے 3 اگست کو تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے ۔دوسری جانب سیکرٹری تعلیم کی جانب سے پیش کردہ سمری کو وزیر اعلیٰ سندھ نے مسترد کر دیا ہے اور انہوں نے تعلیمی ادارے 11 اگست کو ہی کھولنے کا حکم نامہ برقرار رکھا ہے ۔ اس کے بعد سیکرٹری تعلیم کا کہنا تھا کہ انہوں نے سمری ارسال کی تھی لیکن مسترد  ہو گئی ہے اب کیا ہو سکتا ہے

لائٹ یا کم تارکول والے سگریٹ زیادہ خطرناک ہیں: تحقیق

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق غیر تمباکو نوش افراد کو سگریٹ کا عادی بنانے اور بظاہر ’لائٹ‘ یا ’کم تارکول والے‘ سگریٹوں میں زیادہ ذائقے کی خاطر استعمال کیے جانے والے اضافی کیمیائی مادے عام لوگوں کو اس نشے کا عادی بنانے میں خطرناک کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ بات ایک نئی لیکن وسیع تر طبی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج کے مطابق تمباکو کی بین الاقوامی صنعت کی طرف سے سگریٹوں کی تیاری میں خالص تمباکو کے پتوں کے علاوہ جو اضافی کیمیائی مادے استعمال کیے جاتے ہیں انہیں عرف عام میں additives اور کیمیائی حوالے سے ’’پائیرازائنز‘‘ کہا جاتا ہے۔ خام مادے کے طور پر تمباکو میں یہ pyrazines تمباکو نوش افراد کے لیے خاص طور پر’ ’لائٹ کہلانے والے، کم نکوٹین کے حامل اور کم تارکول والے‘‘ سگریٹوں کو’ ’زیادہ ذائقے دار اور پرکشش‘‘ بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ لیکن نئی تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ یہی کیمیائی مادے تمباکو مصنوعات کے استعمال کرنے والوں کو ’’نشے کا عادی بنا دینے کی اضافی صلاحیت کے حامل‘‘ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس تحقیق کے دوران ماہرین نے طویل عرصے تک انٹرنیشنل ٹوبیکو انڈسٹری کی سات ملین سے زائد ایسی دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا، جو انہی اضافی کیمیائی مادوں یا additives کے بارے میں تھیں۔ پتہ یہ چلا کہ آج کل سگریٹ سازی میں ایسے جو اضافی کیمیائی مادے استعمال ہوتے ہیں، ان کا استعمال 1960ء کی دہائی میں اس وقت شروع کیا گیا تھا جب تمباکو نوش افراد نے low۔tar والی مصنوعات کے طور پر تیار کردہ اولین سگریٹوں کو ’’بے ذائقہ‘‘ کہہ کر مسترد کر دیا تھا۔ اس بارے میں امریکی ریاست نیو یارک کے شہر Buffalo کے رَوس وَیل پارک کینسر انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر ماسیئے گونِیوِچ نے رائٹرز کو بتایا، ’’تمباکو میں پائی جانے والی نکوٹین ایک ایسا کیمیکل ہے، جس کے انسانی جسم، اعصاب اور دوران خون پر اثرات پوشیدہ نہیں ہیں اور یہ بات مدت سے طے ہے کہ نکوٹین ایک addictive یا اپنے استعمال کا عادی بنا دینے والا مادہ ہے۔‘‘ ڈاکٹر ماسیئے گونِیوِچ کے مطابق، ’’نئی تحقیق اس بارے میں تازہ شواہد مہیا کرتی ہے کہ تمباکو مصنوعات تیار کرنے والے اداروں نے اضافی کیمیائی مادوں کا استعمال ممکنہ طور پر اسی وجہ سے شروع کیا کہ سگریٹ نوشوں کو ’نشے کا عادی بنا دینے کی اسی صلاحیت‘ میں اضافہ کیا جا سکے۔‘‘نیو یارک کے اس محقق نے مزید بتایا کہ ’’یہ اضافی کیمیائی مادے نکوٹین کی انسانی دماغ تک ترسیل کو آسان بنا سکتے ہیں، اس طرح تمباکو نوش افراد کے لیے نکوٹین کی ان کے جسم میں موجودگی کا تجربہ زیادہ شدید اثرات کا حامل ہوتا ہے یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے جسم میں نکوٹین کی موجودگی کے اثرات میں تیز رفتاری آ جاتی ہے۔‘‘ تمباکو نوشی انسانی اموات کی ان سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے، جن کا تدارک کر کے ہر سال کئی ملین انسانوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا سکتا ہے۔

Google Analytics Alternative