صحت

عمر کے ساتھ جسمانی طور پر متحرک رہنا جان لیوا امراض سے بچائے

عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی طور پر متحرک رہنا ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ کم کرسکتا ہے۔

یہ بات جنوبی کوریا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

سییﺅل نیشنل یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وقت کے ساتھ ورزش یا جسمانی سرگرمیوں سے دور ہوجانے والے افراد میں دل اور خون کی شریانوں کے مسائل کا خطرہ 27 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 60 سال سے زائد عمر کے11 لاکھ سے زائد مردوں اور خوایتن کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔

یہ ڈیٹا نیشنل ہیلتھ انشورنس سروس کے ایک ہیلتھ انشورنس سروے سے حاصل کیا گیا تھا جو جونبی کوریا کے 97 فیصد افراد کو طبی سہولیات فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔

اس سروے میں لوگوں کا 4 سال میں 2 بار طبی معائنہ کیا گیا تھا اور ان افراد کا ڈیٹا اس نئی تحقیق کے لیے سائنسدانوں نے حاصل کیا۔

محققین نے دن بھر میں 30 منٹ یا اس سے زائد وقت تک کی جسمانی سرگرمی جیسے تیز چہل قدمی، باغبانی یا سیڑھیاں چڑھنے کو متعدل جبکہ 20 منٹ تک جاگنگ، سائیکل چلانا اور ایروبک وغیرہ سخت ورزش کا حصہ قرار دیا۔

انہوں نے جنوری 2013 سے دسمبر 2016 کے دوران دل کے امراض اور فالج سے جڑے کیسز کے ڈیٹا کا تجزیہ بھی کیا۔

تحقیق کے اختتام تک امراض قلب یا فالج کے ایک لاکھ 14 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے اور محققین کا کہنا تھا کہ 60 سال کی عمر کے بعد معتدل یا سخت جسمانی سرگرمیاں برقرار رکھنا جان لیوا امراض سے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

ان کے مطبق ڈیٹا کے تجزیے سے ثابت ہوتا ہے کہ ہفتے میں 3 یا 4 بار معتدل یا سخت جسمانی سرگرمیاں امراض قلب اور فالج کا خطرہ 11 فیصد تک کم کرسکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے یورپین ہارٹ جرنل میں شائع ہوئے۔

اس سپرفوڈ کو کھانا عادت بنالیں

انڈے کو ان چند غذاﺅں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے جن کو سپرفوڈ قرار دیا جاسکتا ہے۔

انڈے لاتعداد غذائی اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں اور ان میں سے چند اجزا آج کل کی غذاﺅں میں بہت کم پائے جاتے ہیں۔انڈے آسانی سے تیار ہوجانے والی غذا ہے جو پروٹین سے بھرپور ہوتی ہے اس کے علاوہ وٹامن اے، بی ٹو، بی سکس، بی 12 اور ڈی، زنک، آئرن اور کاپر بھی اس میں موجود ہوتے ہیں، یعنی صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہیں۔

یہاں انڈے کھانے کے وہ فوائد جانیں جو انسانوں پر ہونے والی طبی تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوئے ہیں۔

بہت زیادہ مقوی

انڈے ان چند غذاﺅں میں سے ایک ہیں جن میں غذائیت بہت زیادہ ہوتی ہے، ایک انڈے میں اتنی غذائیت ہوتی ہے جو ایک سنگل خلیے کو چوزے میں بدلنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔

ایک بڑے ابلے ہوئے انڈے میں روزانہ درکار وٹامن اے کی 6 فیصد مقدار، روزانہ درکار فولیٹ کی 5 فیصد مقدار، روزانہ درکار وٹامن بی 5 کی 7 فیصد مقدار، روزانہ درکار وٹامن بی 12 کی 9 فیصد مقدار، روزانہ درکار وٹامن بی 2 کی 15 فیصد مقدار، روزانہ درکار فاسفورس کی 9 فیصد مقدار، روزانہ درکار سلینیم کی 22 فیصد مقدار، وٹامن ڈی، وٹامن ای، وٹامن کے، وٹامن بی سکس، کیلشیئم اور زنک کی مناسب مقدار ہوتی ہے۔

ایک انڈے میں 77 کیلوریز، 6 گرام پروٹین اور 5 گرام صحت بخش چکنائی ہوتی ہے، اس کے علاوہ صحت کے لیے ضروری متعدد غذائی اجزا بھی کچھ مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔

درحقیقت انڈے کھانے کی عادت بہترین ثابت ہوتی ہے اور اس سے لگ بھگ ہر وہ غذائی جز جسم کو مل جاتا ہے، جس کی جرورت ہوتی ہے۔

زیادہ کولیسٹرول خون کے کولیسٹرول پر منفی اثرات مرتب نہیں کرتا

یہ درست ہے کہ انڈوں میں کولیسٹرول کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، یعنی ایک انڈے میں 212 ملی گرام غذائی کولیسٹرول ہوتا ہے جو کہ روزانہ جزوبدن بنانے کے لیے مجوزہ 300 ملی گرام کے قریب ہے۔

تاہم یہ بات ذہن میں رکھی چاہیے کہ غذا میں موجود کولیسٹرول ضروری نہیں کہ خون میں کولیسٹرول کی سطح بڑھائے، جگر روزانہ بڑی مقدار میں کولیسٹرول بناتا ہے، جب غذائی کولیسٹرول کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، تو جگر کم کولیسٹرول بنانے لگتا ہے۔

تاہم انڈے کھانے کا اثر ہر ایک پر مختلف ہوسکتا ہے،جیسے 70 فیصد افراد میں انڈے کھانے سے بلڈ کولیسٹرول کی سطح نہیں بڑھتی، دیگر 30 فیصد افراد میں مجموعی اور ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح میں معمولی اضافہ ہوسکتا ہے، تاہم جینیاتی امراض کے شکار افراد کو انڈوں سے گریز کا بہت کم کھانا چاہیے۔

فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ

ایچ ڈی ایل ایسے کولیسٹرول کو کہا جاتا ہے جسے اکثر صحت کے لیے اچھا قرار دیا جاتا ہے۔ جن لوگوں میں اس کولیسٹرول کی سطح زیادہ ہوتی ہے ان میں امراض قلب، فالج اور دیگر امراض کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ انڈے ایچ ڈی ایل کی سطح میں اضافے کا اچھا ذریعہ ہیں، ایک تحقیق کے مطابق 6 ہفتے تک روزانہ 2 انڈے کھانے سے ایچ ڈی ایل کی سطح میں 10 فیصد اضافہ ہوجاتا ہے۔

کولین کے حصول کا اچھا ذریعہ

کولین ایسا غذائی جز ہے جس کا بیشتر افراد کو علم ہی نہیں اور یہ بی وٹامنز کے ساتھ کام کرنے والا انتہائی اہم مرکب ہے۔

کولین خلیات کی جھلی بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ سگنل دینے والے دماغی مالیکیولز بنانے میں بھی کردار ادا کرتا ہے جبکہ دیگر افعال کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

کولین کی کمی کی علامات بہت سنگین ہوتی ہیں مگر خوش قسمتی سے بہت کم افراد کو ان کا سامنا ہوتا ہے۔ انڈے اس جز کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے کیونکہ ایک انڈے میں سو ملی گرام کولین موجود ہوتا ہے۔

امراض قلب کا خطرہ کم کرے

ایل ڈی ایل کولیسٹرول کو صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول سمجھا جاتا ہے، اس کولیسٹرول کی سطح میں اضافے سے امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مگر بیشتر افراد کو معلوم نہیں کہ ایل ڈی ایل ذرات کے حجم کے مطابق مختلف شاخوں میں تقسیم ہوجاتا ہے، یعنی چھوٹے اور گنجان ایل ڈی ایل ذرات اور بڑے ایل ڈی ایل ذرات۔

متعدد تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چھوٹے ایل ڈی ایل ذرات سے امراض قلب کا خطرہ بڑے ذرات کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

انڈے سے اگر کچھ افراد میں ایل ڈی ایل کی سطح میں معمولی اضافہ بھی ہوتا ہے تو بھی تحقیقی رپورٹس کے مطابق انڈے چھوٹے ذرات کو بڑے ایل ڈی ایل میں بدل دیتے ہیں جو کہ بہتری ہی سمجھا جاسکتا ہے۔

آنکھوں کے لیے مفید

عمر بڑھنے کے نتیجے میں بینائی کمزور ہونے لگتی ہے، ایسے متعدد غذائی اجزا ہیں جو عمر بڑھنے سے آنکھوں میں آنے والی تنزلی کے اثرات میں کمی لانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

ان میں سے 2 لیوٹین اور zeaxanthin بھی ہیں اور انتہائی طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹس ہیں جو آنکھوں کی پتلی میں اکٹھے ہوتے ہیں۔

طبی سائنس کے مطابق ان دونوں اجزا کو مناسب مقدار میں جزوبدن بنانا آنکھوں کے پٹھوں میں آنے والی کمزوری اور موتیے کے خطرات کم کرتے ہیں، انڈے کی زردی میں ان دونوں اجزا کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چند ہفتوں روزانہ ایک انڈے کی زردی کھانے سے خون میں لیوٹین کی سطح میں 28 سے 50 فیصد جبکہ zeaxanthin کی سطح میں 114 سے 142 فیصد اضافہ ہوجاتا ہے۔

انڈوں میں وٹامن اے کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ آنکھوں کے لیے صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے اور اس کی کمی سے بینائی سے محرومی کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔

اومیگا تھری فیٹی ایسڈز ٹرائی گلیسڈرز کی سطح کم کرے

انڈوں میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز خون میں ٹرائی گلیسڈر کی سطح کمی لاتے ہیں، ٹرائی گلیسڈر کو امراض قلب کا بڑا عنصر سمجھا جاتا ہے۔

معیاری پروٹین

پروٹین انسانی جسم کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں کیونکہ یہ تمام ٹشوز اور مالیکیولز میں استعمال ہوتے ہیں جو جسمانی افعال کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

غذا کے ذریعے مناسب مقدار میں پروٹین کو جزوبدن بنانا بہت ضروری ہوتا ہے اور تحقیقی رپورٹس کے مطابق انڈے پروٹین کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، کیونکہ ایک انڈے میں 6 گرام پروٹین ہوتا ہے۔

انڈوں میں امینوایسڈز بھی ہوتے ہیں جو جسم کو پروٹین کے مکمل استعمال کے لیے بھی تیار کرتا ہے، پروٹین سے جسمانی وزن میں کمی لانے، مسلز بڑھانے، بلڈ پریشر میں کمی لانے اور ہڈیوں کی صحت میں بہتری آتی ہے۔

فالج کا خطرہ کم کریں

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق روزانہ ایک انڈا کھانا فالج کا خطرہ کم کرتا ہے، حال ہی میں ایک چینی طبی تحقیق میں دریافت کیا گیا جو لوگ روزانہ ایک انڈا کھاتے ہیں، ان میں دماغی شریان یا برین ہیمرج کا خطرہ 30 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی

انڈے پروٹین سے بھرپور غذا ہے اور پروٹین پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتا ہے جس سے بے وقت منہ چلانے کی عادت پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ناشتے میں انڈے کھانے سے پیٹ بھرنے کا احساس بڑھ جاتا ہے اور اگلے 36 گھنٹوں میں کم کیلوریز جزوبدن بنتی ہیں۔ ایک اور تحقیق میں 8 ہفتوں تک ناشتے میں انڈے کے استعمال سے جسمانی وزن میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

ملک بھر میں ڈینگی کے کیسز کی تعداد 50 ہزار کے قریب پہنچ گئی

اسلام آباد: ملک بھر میں ڈینگی کے پھیلاؤ نے ایک مرتبہ بھر نیا ریکارڈ قائم کردیا اور رواں برس کے دوران اب تک 49 ہزار 5 سو 87 افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ دو ہفتے سے بھی کم وقت میں 5 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں۔

اس سے قبل ملک میں ڈینگی کے سب سے زیادہ کیسز 8 برس قبل رپورٹ کیے گئے تھے اور 2011 میں 27 ہزار افراد ڈینگی سے متاثر ہوئے تھے۔

تاہم اُس وقت ڈینگی کے نتیجے میں 370 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، یہ تعداد رواں برس ہونے والی 79 اموات سے 4 گنا زیادہ تھیں۔

ڈینگی کے کیسز میں اضافے کی بڑی وجوہات بتاتے ہوئے وزارت صحت کے ترجمان ساجد شاہ نے بتایا کہ ‘رواں برس دنیا بھر میں ڈینگی کے کیسز کی غیر معمولی تعداد رپورٹ ہوئی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ملک بھر میں ڈینگی کے کیسز ریکارڈ کرنے کے طریقہ کار میں بہتری آئی ہے’۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ دنیا بھر میں ڈینگی کی غیر معمولی تعداد کے مقابلے میں پاکستان کی کارکردگی دیگر ممالک سے بہتر ہے۔

دوسری جانب ڈان کے پاس موجود دستاویز کے مطابق رواں سال کے دوران ملک بھر میں ڈینگی کے 49 ہزار 5 سو 87 کیسز کی تصدیق ہوئی، جس میں سب سے زیادہ 13 ہزار ایک سو 79 کیسز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رپورٹ ہوئے۔

سندھ میں ڈینگی کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 13 ہزار 2 سو 51، پنجاب میں 9 ہزار 8 سو 55، خیبرپختونخوا میں 7 ہزار 7 سو 76 اور بلوچستان میں 3 ہزار 2 سو 17ہے۔

علاوہ آزاد کشمیر سے ایک ہزار 6 سو 90 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 6 سو 25 کیسز کو ‘دیگر’ کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔

‘دیگر’ کیٹیگری ان کیسز کی نشاندہی کرتی ہے جن کا اصل مقام معلوم نہیں ہوسکا۔

اسی طرح ڈینگی سے خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں کوئی اموات رپورٹ نہیں ہوئیں جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 22 افراد جاں بحق ہوئے۔

علاوہ ازیں ڈینگی سے سب سے زیادہ اموات سندھ میں ہوئیں جن کی تعداد 33 ہے، اس کے بعد پنجاب میں 22, بلوچستان میں 3 جبکہ آزاد کشمیر میں ڈینگی کے باعث ایک شخص جاں بحق ہوا۔

امراض قلب کے لیے ادویات اسٹنٹس اور بائی پاس جتنی موثر، تحقیق

امراض قلب کے شکار افراد میں ہارٹ اٹیک اور موت سے بچانے کے لیے خطرناک سرجریز جیسے بائی پاس ادویات اور طرز زندگی میں بہتری سے زیادہ بہتر نہیں ہوسکتی۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

بند ہوجانے والی شریانوں کو کھولنے کے لیے طبی سرجری جو کہ بیشتر کیسز میں اسٹنٹ ڈالنا ہوتا ہے، جسے مریضوں میں سینے کی درد میں کمی لانے کے لیے ادویات سے زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے، مگر اس نئی تحقیق مین دریافت کیا گیا کہ اس سے امراض قلب کے نتیجے میں سامنے آنے والے واقعات جیسے ہارٹ اٹیک، ہسپتال میں پہنچ جانا اور موت وغیرہ پر کوئی اضافہ اثر مرتب نہیں ہوتا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اسٹنٹس اور بائی پاس سرجری کا فیصلہ مریضوں میں جلد بازی کی بجائے احتیاط سے کرنا چاہیے۔

10 کروڑ ڈالرز سے کی جانے والی تحقیق کے نتائج امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس کے دوران پیش کیے گئے اور یہ بند شریانوں کے علاج کے حوالے سے بحث میں ایک نیا اضافہ ہے۔

12 سال قبل ایک ایسی ہی تحقیق میں اس طرح کے طبی طریقہ علاج کو اپنانے والے ڈاکٹروں اور ماہرین کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کارڈیالوجسٹ ایلیٹ انٹمین (اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے) نے کہا ‘یہ ایک تاریخ ساز تحقیق ہے جس کے بارے میں لوگ برسوں سے بات کررہے تھے، نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ ابتدائی مراحل میں سرجریز کو اپنانا مریضوں میں ہارٹ اٹیک کا امکان کم کرتا، بس یہ سینے میں درد میں کمی لاتا ہے’۔

ادویات استعمال کرنے والے مریضوں میں بھی بند شریانوں سے ہارٹ اٹیک کا امکان اتنا ہی ہوتا ہے جتنا سرجری کرانے والے افراد میں، اور یہ دریافت دہائیوں سے موجود عام طبی علم کو چیلنج کرتی ہے۔

اس تحقیق میں 5 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لینے کے بعد بتایا گیا کہ بائی پاس اور اسٹنٹ سے جو سب سے بڑا فائدہ ہوتا ہے ہو سینے میں درد یا انجائنا کے شکار افراد کو مدد ملنا ہے۔

نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بوسٹن یونیورسٹی کی ماہر ڈاکٹر ایلس جیکبس نے کہا کہ آپ سوچتے ہیں کہ اس سرجری سے مریض بہتر محسوس کرنے لگے گا یا اس کی حالت بہتر ہوگی، مگر یہ نتائج ہمارے طبی طرز فکر کو چیلنج کرے گی۔

ایک اور ڈاکٹر نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ مریض سرجری پر ادویات کو ترجیح دے کر ہر سال 77 کروڑ ڈالرز بچاسکتے ہیں۔

اسٹنٹس اور شریانوں کی صفائی کرنے والی دیگر ڈیوائسز کے حوالے سے برسوں سے اعتراض سامنے آرہے ہیں، مگر یہ تحقیق جسے Ischemia کا نام دیا گیا، میں زیادہ گہرائی میں جاکر اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

بیلور کالج آف میڈیسین کے کارڈک کییئر کے ڈائریکٹر اور امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی گائیڈلائن کمیٹی میں شامل ڈاکٹر گلین لیونی کے مطابق یہ انتہائی اہمیت کی حامل تحقیق ہے، جس کے نتائج کو علاج کی گائیڈلائنز میں شامل کیا جانا چاہیے۔

تازہ آکسیجن 300 روپے میں خریدیں گے؟

دنیا کے سب سے آلودہ ترین شہر نئی دہلی میں سانس لینا نہایت مشکل ہوگیا ہے تاہم اب اس کا حل تلاش کرلیا گیا ہے۔

بھارتی اخبار انڈینفضائی آلودگی سے لڑنے کے لیے حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام کے لیے نئی دہلی میں ایک اور آپشن بھی متعارف کرایا گیا ہے جہاں انہیں 15 منٹ تک کے لیے 80 سے 90 فیصد خالص آکسیجن فراہم کی جائے گی۔

آریا ویر کمار اور مارگاریتا کرتسیانا نے نئی دہلی میں عوام کو تازہ ہوا فراہم کے لیے پہلا ‘آکسی پیور’ بار کھول لیا جہاں صرف 300 روپے میں عوام کو 15 منٹ کے لیے تازہ ہوا فراہم کی جائے گی۔

اس بار کو مئی کے مہینے میں کھولا گیا تھا جہاں صارفین کو متعدد خوشبو سے لے کر بغیر خوشبو کے خالص آکسیجن فراہم کی جارہی ہے۔

بار میں عوام کو ٹیوب کے ذریعے تازہ آکسیجن فراہم کی جاتی ہے — فوٹو انڈین ایکسپریس
بار میں عوام کو ٹیوب کے ذریعے تازہ آکسیجن فراہم کی جاتی ہے — فوٹو انڈین ایکسپریس

ان خوشبوؤں میں لیموں کے پتوں، لیونڈر، چیری، یوکلپٹس و دیگر شامل ہیں۔

صارفین کو آکسیجن لینے کے لیے استعمال ہونے والی ایک ٹیوب دی جاتی جسے وہ ناک کے پاس رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سانس لینے کا کہا جاتا ہے۔

جس خوشبو کو آپ منتخب کرتے ہیں، اس کے ذریعے آپ کے سانس کے مسائل، نیند کے مسائل اور ہاضمے، سر درد وغیرہ کے مسائل بہتر کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ آپ کے ڈپریشن کے لیے بھی مفید ثابت ہوگا۔

اوکسی پیور میں موجود ایک صارف کا کہنا تھا کہ ‘میں یہاں سے گزر رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ وہ خالص آکسیجن پیش کر رہے ہیں، میں نے سوچا اسے آزما کردیکھتا ہوں اور میں نے لیموں کے پتے کی خوشبو کا انتخاب کیا، اس سے میں تازہ دم محسوس کر رہا ہوں’۔

وہاں موجود سینیئر سیلز مین نے بتایا کہ انہیں صارفین کا مثبت رد عمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جو لوگ اسے پہلی مرتبہ آزماتے ہیں وہ بہت تازہ دم محسوس کرتے ہیں تاہم جو روزانہ اس کا استعمال کریں وہ اس کے فوائد حاصل کرسکیں گے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ ایک دن میں صرف ایک مرتبہ 10 سے 15 منٹ کا سیشن لیں اس سے زیادہ نہ لیں’۔

دہلی کے اپولو ہسپتال کے ڈاکٹر راجیش چاولہ کا کہنا تھا کہ ‘اس طرح کے سیشن کا کوئی سائیڈ افیکٹ نہیں ہوتا تاہم اس کے کوئی طویل المدتی فوائد بھی نہیں ہوتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر آپ دن میں 2 گھنٹے کے لیے بھی تازہ آکسیجن لیتے ہیں تو آپ باقی 22 گھنٹے آلودہ ہوا ہی لیتے ہیں، یہ اقدام سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ ہے’۔

پیٹ اور کمر کے ارگرد چربی گھٹانے میں مدد دینے والی غذائیں

اپنے جسم میں نکلتی ہوئی توند بھلا کس کو اچھی لگ سکتی ہے؟ خواتین اور مرد دونوں ہی اپنی پھیلتی کمر اور نکلتے پیٹ سے پریشان ہوتے ہیں، اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس سے نجات پانا بہت مشکل لگتا ہے۔

ڈائٹنگ سے لے کر جم جانے تک ایسے متعدد طریقے ہیں جن کی مدد سے لوگ توند سے نجات پانے اور اضافی چربی کو جلد از جلد گھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق متوازن غذا اور ورزش کو معمول بنانا توند کی چربی گھٹانے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔

تاہم کچھ غذائیں بھی ایسی ہیں جن کے استعمال کو اگر عادت بنالیا جائے تو وہ پیٹ کو سپاٹ کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

دارچینی

کچھ تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دار چینی بلڈشوگر لیول کو مستحکم رکھنے میں مدد دینے والا مصالحہ ہے، جس سے کھانے کی اشتہا کم ہوتی ہے خصوصاً ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار افراد میں، مگر ہر ایک اس مصالحے سے یہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں، اسے چائے یا کافی کا حصہ بناکر یا دہی میں ڈال کر استعمال کرنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

گریپ فروٹ

ویسے تو یہ چربی گھلانے والی جادوئی خصوصیات نہیں رکھتا مگر یہ پھل بہت کم کیلوریز میں پیٹ کو بھرنے میں مدد دیتا ہے، جس کی وجہ اس میں موجود فائبر ہے جو ہضم ہونے میں کافی وقت لیتی ہے۔ آدھا گریپ فروٹ یا ایک گلاس گریپ فروٹ جوس کا کھانے سے پہلے پینا کم کیلورجز جزو بدن بنانے میں مدد دیتا ہے۔

سیب اور ناشپاتی

سیب اور ناشپاتی دونوں میں پانی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، چھلکوں کے ساتھ ان پھلوں کو کھانا اضافی فائبر فراہم کرتا ہے جو پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مدد دیتا ہے، ان کے جوس کی بجائے پھل کو کھانا توند میں کمی لانے میں مدد دیتا ہے جس سے زیادہ فائبر جسم کو ملتا ہے جبکہ ان پھلوں کو چبانے سے بھی چند کیلوریز جل جاتی ہیں۔

بیریز

دیگر پھلوں کی طرح بیریز میں بھی پانی اور فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مدد دیتے ہیں، بیری کی ہر قسم میٹھی ہوتی ہے جو مٹھاس کی خواہش کو بھی پورا کرتی ہے مگر چینی کے مقابلے میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں۔

شکرقندی

شکرقندی بہت مزیدار ہوتی ہے خاص طور پر اگر اسے بھون کر کھایا جائے اور کم کھانے پر بھی پیٹ بھرجاتا ہے، جس سے کم کیلوریز جسم کا حصہ بنتی ہیں جبکہ شکرقندی پوٹاشیم، بیٹا کیروٹین، وٹامن سی اور فائبر سے بھی بھرپور ہوتی ہے جو موٹاپے سے نجات میں مدد دیتے ہیں۔

انڈے

ایک انڈے میں صرف 75 کیلوریز ہوتی ہیں جبکہ 7 گرام پروٹین جسم کو ملتا ہے، بھاری بھرکم ناشتے کے مقابلے میں انڈے کو ہضم کرتے ہوئے جسم زیادہ کیلوریز جلاتا ہے اور اچھی خبر یہ ہے کہ اسے کسی بھی شکل میں کھایا جاسکتا ہے اور اس میں موجود کولیسٹرول نقصان نہیں پہنچاتا۔

یخنی

یخنی جسم کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے جس میں پانی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ کیلوریز بہت کم، گرم ہونے کی وجہ سے بھی اسے زیادہ پینا ممکن نہیں ہوتا، کھانے سے پہلے اس کی کچھ مقدار کو پی لینا زیادہ کھانے سے روکتی ہے۔

پوپ کارن

تین کپ پوپ کارن سننے میں تو بہت زیادہ لگ سکتے ہیں مگر ان میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں جبکہ چربی یا شکر بھی اس میں موجود نہیں ہوتی جو پیٹ بھرنے کے ساتھ موٹاپے سے بچانے میں بھی مدد دیتا ہے۔

مچھلی

مچھلی پروٹین کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ ہے جبکہ ان میں چربی بہت کم ہوتی ہے اور وہ بھی صحت کے لیے فائدہ مند چربی۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی موجودگی بھی مچھلی کو فائدہ مند بناتی ہے جس سے امراض قلب اور دیگر امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

جو اور گریاں

توند کی چربی گھٹانے کا ایک موثر ذریعہ ایسے فائبر کو اپنی غذا کا حصہ بنانا ہے جو کہ آسانی سے جذب ہوسکے اور یہ عام طور پر دلیہ اور سبزیوں وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ ایسی غذاﺅں میں جو کا دلیہ، گریاں قابل ذکر ہیں اور اس فائبر کا روزانہ 25 سے 35 گرام کرنا چاہئے جو کہ بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، جس سے بھی وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

کیلے

کیلے پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ بلڈ پریشر اور خون کی شریانوں کی صحت بہتر بنانے والا جز ہے جبکہ اس میں موجود وٹامنز بے وقت کھانے کی خواہش پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں۔ کیلے کھانے سے میٹابولزم ریٹ بھی بڑھتا ہے جو کہ توند کی چربی تیزی سے گھلانے میں مدد دیتا ہے۔

تربوز

تربوز بھی ایسا پھل ہے جس میں پوٹاشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ واٹر ویٹ سے نجات میں مدد دیتا ہے، عام طور پر ایک بالغ فرد کے جسمانی وزن کا 50 سے 60 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، اس سے زیادہ مقدار کو واٹر ویٹ کہا جاتا ہے جو کہ پیٹ پھولنے اور سوجن کا باعث بن کر لوگوں کو زیادہ موٹا دکھاتا ہے۔ ایک امریکی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تربوز کا شربت پینے سے جسمانی چربی گھلتی ہے جبکہ کولیسٹرول کی سطح میں بھی کمی آتی ہے۔

دہی

پروبائیوٹک غذاﺅں میں صحت کے لیے فائدہ مند ایسے بیکٹریا موجود ہوتے ہیں جو کہ نظام ہاضمہ کو بہتر بناتے ہیں۔ کینیڈا میں ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب موٹاپے کے شکار افراد کو روزانہ ایک کپ دہی کھلائی گئی تو ان کی جسمانی چربی میں 3 سے 4 فیصد کمی آئی۔ محققین کا کہنا تھا کہ دہی کو روزانہ کھانا نظام ہاضمہ کو صحت مند بنا کر توند کی چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے۔

کھیرے

اگر آپ کو بے وقت بھوک کے دوران نمکین یا میٹھی چیزیں کھانے کی عادت ہے تو توند کی اضافی چربی سے حیران ہونے کی ضرورت نہیں، چپس کے پیکٹ کو کھولنے کی خواہش پر قابو پانے کے لیے کھیرے انتہائی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ کھیروں میں پانی کی زیادہ مقدار اور کیلوریز کی کمی اسے بے وقت منہ چلانے کے لیے بہترین انتخاب بناتا ہے، جبکہ اس میں موجود فائبر پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھ کرتیزی سے چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے۔

پپیتا

اکثر افراد کو علم نہیں مگر پپیتا موٹاپے سے نجات کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ فائبر سے بھرپور ہونے کے باعث پپیتا کھانے کی عادت پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتی ہے جبکہ بے وقت کھانے کی خواہش سے نجات ملتی ہے، اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جسمانی وزن میں کمی لاتے ہیں جو کہ توند گھلانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی طرح یہ پھل نظام ہاضمہ بہتر کرتا ہے جو کہ توند سے نجات کے لیے بہت ضروری ہے۔

پودینہ

کیا پیٹ پھولنے کی شکایت رہتی ہے ؟ تو پودینے کی چائے پی کر دیکھیں، پودینے کا استعمال گیس کم کرتا ہے جس سے ہاضمہے کے مسائل بہتر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ پودینے کو سونگھنا بھی بھوک کو کم کرکے بسیار خوری سے بچاتا ہے۔

گل بابونہ کی چائے

ذہنی تناﺅ اکثر جسمانی وزن میں اضافے خصوصاً توند نکلنے کا امکان بڑھتا ہے، گل بابونہ یا Chamomile چائے جسم کو قدرتی طور پر پرسکون کرکے پیٹ پھولنے کی تکلیف کو کم کرتی ہے۔ جسم میں پانی کی مناسب مقدار توند کی چربی گھٹانے کے لیے ایک موثر طریقہ ہے جبکہ یہ چائے جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

ڈارک چاکلیٹ

ڈارک چاکلیٹ میں کوکو کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس میں اینٹی آکسائیڈنٹس کی شرح بھی کافی زیادہ ہوتی ہے، جس سے جسمانی ورم کم ہوتا ہے جبکہ میٹھے کھانے کی لت پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ ایک امریکی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چاکلیٹ کھانا معمول بنانے والوں کا جسمانی وزن دیگر کے مقابلے میں کم ہوتا ہے، تاہم اس میٹھی سوغات کو اعتدال میں رہ کر کھانا ہی فائدہ پہنچاتا ہے۔

دالیں

دالوں میں پروٹین اور فائبر کافی زیادہ ہوتے ہیں جو کہ سہ پہر کو چربی والی اشیاءکھانے کی خواہش کی روک تھام میں مدد دیتے ہیں، اس کے علاوہ دالوں کو کھانے سے آئرن جسم کا حصہ بنتا ہے جو کہ میٹابولزم کے افعال کو ہموار رکھتا ہے۔

ہری مرچیں

اپنے کھانے کو ہری مرچوں سے بھردیں اور یقین کریں کہ اس عادت سے آپ بہت تیزی سے توند کی چربی گھلاسکتے ہیں، ہری مرچوں سے نہ صرف میٹابولزم بہتر ہوتا ہے بلکہ اس میں موجود اجزا بسیار خوری سے روکنے میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔ آملیٹ یا کسی بھی غذا میں ہری مرچوں کو شامل کرکے آپ پیٹ سپاٹ کرنے کے مقصد کو جلد حاصل کرسکتے ہیں۔

بادام

اداموں کی کچھ مقدار کو روز کھانا جسمانی میٹابولزم کو بہتر بناکر موٹاپے اور توند سے نجات دلانے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ بہت تیزی سے چربی گھلاتا ہے۔ یہ گری دل کی صحت کو بہتر کرنے کے ساتھ بے وقت بھوک کو کنٹرول میں رکھتی ہے، اس میں موجود مونوسچورٹیڈ فیٹس توند گھٹانے میں مدد دیتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ چند گرام بادام کھانا بہت تیزی سے جسمانی وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

سبز چائے

اگر آپ کو سبز چائے پینا پسند ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ یہ مشروب کمر اور پیٹ کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جسمانی توانائی بڑھانے، ہاضمہ بہتر کرنے اور چربی گھلانے کا عمل تیز کرتا ہے۔ سبز چائے پینے سے موٹاپے سے نجات کی رفتار کو تیز کیا جاسکتا ہے اور ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ اسے پینے سے چند دنوں میں ڈیڑھ کلو تک وزن کم کیا جاسکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

بالوں کی خشکی دور کرنے میں مدد دینے والے آسان طریقے

سر میں خشکی بہت عام ہوتی جارہی ہے جس کا نتیجہ تکلیف دہ خارش کی شکل میں نکلتا ہے اور یہ مسئلہ صرف خواتین تک محدود نہٰں بلکہ مرد حضرات کو بھی اس کا سامنا ہوتا ہے اور اس سے بچنے کے لیے نت نئے شیمپوز کا استعمال کرتے ہیں۔

عام طور پر اس کی وجہ بالوں کی صفائی کا زیادہ خیال نہ رکھنا یا جلدی مسائل ہوتے ہیں تاہم گھر سے باہر لوگوں کی موجودگی میں یہ خارش شرمندگی کا باعث بھی بن سکتی ہے خاص طور پر خشکی اور جوئیں باہر نکلنا تو شرم سے پانی پانی بھی کرسکتا ہے۔

اس تکلیف سے نجات کے چند سادہ مگر دلچسپ ٹوٹکے بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں جو پیش خدمت ہیں۔

ٹی ٹری آئل کو آزمائیں

یہ تیل عام طور کیل مہاسے اور چنبل کے علاج کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے اور سائنسی طور پر ورم کش اور جراثیم کش خصوصیات رکھتا ہے، جس سے خشکی سے نجات میں مدد بھی مل سکتی ہے۔ ایک تحقیق میں کے مطابق ٹی ٹری آئل فنگس کی مخصوص اقسام سے لڑنے کے لیے زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے۔ ایک اور تحقیق میں خشکی کے شکار 126 افراد پر اس تیل کو آزمایا گیا اور اس کی شدت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ خارش اور چکنائی کا مسئلہ بھی کم ہوگیا۔ یہ تیل حساس جلد والے افراد میں خارش کا باعث بن سکتا ہے تو اسے ناریل کے تیل کی کچھ مقدار میں مکس کرکے لگانا بہتر ہوتا ہے۔

ناریل کا تیل

اس تیل کے متعدد فوائد ثابت ہیں اور اسے بالوں کی خشکی کے قدرتی ٹوٹکے کے طور پر صدیوں سے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس کے استعمال سے جلد کی نمی بہتر ہوتی ہے اور خشکی کی روک تھام ہوتی ہے جو بالوں میں خشکی کو بدترین بناسکتی ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ناریل کا تیل جلد کی نمی بہتر کرنے کے لیے موثر ہے جبکہ ایک اور تحقیق میں یہ ثابت ہوا کہ یہ تیل ناریل کے تیل کا 8 ہفتے تک استعمال کرنا سر کی خارش پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔ نہانے سے پہلے تین سے پانچ چائے کے چمچ ناریل کے تیل سے سر کی مالش کریں اور ایک گھنٹے تک لگا رہنے دیں۔ اس کے بعد سر کو شیمپو سے دھولیں، اس کے علاوہ آپ ایسا شیمپو استعمال کرکے بھی اس کی افادیت کو دوگنا بڑھا سکتے ہیں جس میں ناریل کے تیل کا استعمال بھی ہوتا ہو۔

ایلو ویرا جیل

ایلو ویرا یا کوار گندل کا استعمال اکثر جلد پر لگائی جانے والی کریموں اور لوشن وغیرہ میں ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ بالوں کی خشکی سے نجات کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جراثیم کش اور فنگل کش ہونے کی وجہ سے ایلو ویرا جیل بالوں کی خشکی سے تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔ اپنی خارش کو دور بھگانے کے لیے شیمپو سے پہلے ایلو ویرا کے تیل یا جیل کی مالش کریں۔ آلو ویرا میں ٹھنڈک کا عنصر خارش سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

سیب کا سرکہ

سیب کا سرکہ بھی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہوتا ہے جو انسولین کی حساسیت کو بہتر کرنے اور جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ اسے بالوں کی خشکی سے نجات کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس سرکے میں موجود تیزابیت کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ یہ سر سے جلد کے مردہ خلیات کو نکالنے کا عمل متحرک کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ایک چوتھائی کپ اس سرکے کو چوتھائی کپ پانی سے بھری اسپرے کی بوتل میں شامل کریں اور سر پر اس سے چھڑکاﺅ کریں۔ اپنے سر پر تولیہ لپیٹ لیں اور پندرہ منٹ سے ایک گھنٹے تک آرام سے بیٹھ جائیں جس کے بعد سر کو معمول کے مطابق دھولیں۔ یہ عمل ہفتہ بھر میں دو بار کرنا خشکی سے نجات دلا سکتا ہے۔

اسپرین بھی مددگار

اسپرین میں موجود ایک جز Salicylic acid ورم کش ہوتا ہے، یہ جز اسپرین کے ساتھ ساتھ متعدد اینٹی ڈینڈرف شیمپوز میں بھی ہوتا ہے، جو خشکی دور کرنے میں مد دیتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ Salicylic acid والے شیمپو بالوں کی خشکی ختم کرنے میں زیادہ موثر ہوتے ہیں۔ تو اسپرین سے بھی یہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور اس مقصد کے لیے اسپرین کی 2 گولیوں کو پیس لیں اور اس سفوف کو بال دھونے سے قبل شیمپو میں ملالیں۔ اس مکسچر کو اپنے بالوں پر ایک سے دو منٹ تک لگا رہنے دیں اور پھر اچھی طرح دھولیں، اس کے بعد پھر سادہ شیمپو سے سر کو دھوئیں آپ اس کا اثر دیکھ حیران رہ جائیں گے۔

بیکنگ سوڈا کا استعمال

بیکنگ سوڈا بھی بالوں کی خشکی سے نجات کے لیے آسان اور فوری مدد فراہم کرسکتا ہے، بیکنگ سوڈا فنگل سے لڑنے میں مدد دیتا ہے جو خشکی سے علاج میں مددگار عنصر ہے، اسے استعمال کرنے کے لیے بیکنگ سوڈا کو براہ راست گیلے بالوں پر لگا کر سر پر مالش کریں۔ اس کے بعد ایک سے 2 منٹ آرام سے بیٹھ جائیں اور پھر اپنے بالوں کو معمول کے مطابق شیمپو سے دھولیں۔

ذہنی تناﺅ میں کمی لائیں

ذہنی تناﺅ صحت کے متعدد پہلوﺅں پر اثرات مرتب کرتا ہے، یہ عام جسمانی امراض سے لے کر ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے۔ ذہنی تناﺅ کے نتیجے میں طویل المعیاد بنیادوں پر جسمانی مدافعتی نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔ کمزور مدافعتی نظام جسم کی مختلف فنگل انفیکشن سے لڑنے کی صلاحیت کم کردیتی ہے جو بالوں میں خشکی کا باعث بنتا ہے۔ ذہنی تناﺅ کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے مراقبہ، یوگا، گہری سانسیں لینا وغیرہ مدد دے سکتے ہیں۔

اومیگا تھری فیٹی ایسڈز

اومیگا تھری فیٹی ایسڈز جسم کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں جو خلیات کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ دل، مدافعتی نظام اور پھیپھڑوں کے افعال میں بھی مدد دیتے ہیں۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ جلد کی صحت کے لیے بھی اہم ہیں، جو آئل بننے کے عمل اور ہائیڈریشن کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جسم میں اس کی کمی مختلف علامات جیسے خشک بال، جلد اور بالوں کی خشکی کی شکل میں سامنے آتی ہیں، اس سے ہٹ کر بھی اومیگا تھری ورم میں کمی لانے والا جز ہے جس سے بھی خارش اور خشکی میں کمی آسکتی ہے۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز مچھلی، السی کے بیج، اخروٹ اور دیگر غذاﺅں میں پائے جاتے ہیں۔

مچھلی کے تیل کے کیپسول کا ایک اور فائدہ سامنے آگیا

ڈپریشن آج کے نوجوانوں میں بہت تیزی سے پھیلنے والا ذہنی مرض ہے جس کے کیسز کی تعداد میں گزشتہ چند برسوں کے دوران 30 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس کے نتیجے میں خودکشیوں کی شرح بھی بڑھ گئی ہے مگر ایک نئی تحقیق میں کہا گیا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ جیسے مچھلی کے تیل کے کیپسول کا استعمال ڈپریشن سے نجات میں مدد دے سکتا ہے۔

یہ دعویٰ چین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

ہاﺅزونگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی تحقیق میں 30 پرانی تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا جو 1610 رضاکاروں پر ہوئی تھی اور محققین نے دریافت کیا کہ ورم دور کرنے والی ادویات ڈپریشن کی علامات کو نمایاں حد تک کم کرسکتی ہیں۔

ماضی کی تحقیقی رپورٹس میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ورم جسم کا ایسا دفاعی میکنزم ہے جو مختلف خطرات جیسے انفیکشن، بیکٹریا اور الرجی وغیرہ کے خلاف خصوصی پروٹین خارج کرتا ہے۔

اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ ورم جذباتی افعال اور دماغی صحت کے لیے بھی کردار ادا کرسکتا ہے اور ورم کش مرکبات سے بھی ان کا علاج ہوسکتا ہے۔

طبی جریدے جرنل آف نیورولوجی، نیوروسرجری اینڈ سائیکاٹری میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ

محققین کے مطابق ورم کش ادویات ڈپریشن کے علاج کے لیے استعمال کرنا محفوظ ہے تاہم اس حوالے سے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سپلیمنٹس کا معمول کی ادویات کے ساتھ استعمال بھی ڈپریشن کی سطح میں کمی لانے میں مدد دیتا ہے۔

Google Analytics Alternative