صحت

پاکستان میں ایڈز کے مرض کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ

لاہور: اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ ایچ آئی وی اور ایڈز پھیلنے کی شرح پاکستان میں ہے۔

اقوام متحدہ نے یو این ایڈز-2019 کے نام سے جاری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے بڑھنے کی شرح 13 فیصد ہے جو دنیا میں ریکارڈ کی گئی سب سے زیادہ شرح ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا 2030 تک ایڈز جیسی مہلک بیماری سے چھٹکارا پانے کا منصوبہ بنا رہی ہے لیکن پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں اس بیماری میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

اس میں بتایا گیا کہ سال 2010 میں پاکستان میں فی ایک ہزار مریضوں میں ایچ آئی وی کی تشخص کی شرح 0.08 فیصد تھی جو سال 2018 میں بڑھ کر 0.11 فیصد ہوگئی ہے۔

ایچ آئی وی کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کی جانب سے بھاری فنڈنگ کے باوجود صورتحال مزید تشوشناک ہوئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس وقت پاکستان میں ایچ آئی وی اور ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 60 ہزار ہے، یہ تعداد 2015 میں ایک لاکھ 20 ہزار جبکہ 2010 میں 67 ہزار تھی۔

اسی طرح پاکستان 2010 میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے 14 سال سے کم عمر مریضوں کی تعداد 18 سو تھی، جو 2015 میں بڑھ کر 4 ہزار ہوئی جبکہ 2018 میں یہ تعداد 5 ہزار 5 سو تک جاپہنچی۔

رپورٹ کے مطابق 2010 میں 15 سال یا اس سے زائد عمر کی خواتین مریضوں کی تعداد 19 ہزار تھی جو 2015 میں بڑھ کر 37 ہزار جبکہ 2018 میں 48 ہزار تک جاپہچی۔

اسی طرح 2018 میں ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ 15 سال یا اس سے زائد کے مردوں کی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار ہے، جو 2015 میں 84 ہزار جبکہ 2010 میں صرف 46 ہزار تک تھی۔

رپورٹ میں اس مہلک بیماری کا شکار ہوکر موت کے منہ میں جانے والوں کی شرح اموات بھی بتائی گئی ہے۔

پاکستان میں 2010 میں پاکستان میں اس بیماری کی وجہ سے انتقال کرنے والے افراد کی تعداد 14 سو تھی جو 2015 میں بڑھ کر 4 ہزار 7 سو ہوگئی جبکہ 2018 انتہائی خطرناک رہا جہاں مارے جانے والوں کی تعداد 6 ہزار 4 سو تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ نشے کے عادی شکار افراد میں ایڈز پھیلنے کی شرح 21 فیصد، ہم جنس پرست مردوں میں یہ شرح 3.7 فیصد، خواجہ سراؤں میں یہ شرح 5.5 فیصڈ جبکہ جسم فروشی میں مبتلا افراد میں شرح 3.8 فیصد ہے۔

سونے سے پہلے نہانا کتنا نقصان دہ؟

عام طور پر پاکستانی افراد گرمیوں کے موسم میں سونے سے پہلے نہانے کو ترجیح دیتے ہیں، کیوں کہ ایسا کرنے والے افراد کے مطابق اس عمل سے گرمی میں کچھ کمی ہوتی ہے۔

اور اب ایک تحقیق میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ سونے سے قبل نہانے سے جسم کی گرمی کم ہوتی ہے، جس سے پر سکون نیند کی جا سکتی ہے۔

امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطانق سونے سے 90 منٹ یعنی ڈیڑھ گھنٹہ نیم گرم پانی سے نہانا نیند کےلیے بہتر ہے۔

سائنس جرنل ’سلیپ میڈیسن ریویو‘ میں شائع تحقیق کے مطابق جن افراد کو رات کو سونے میں مشکلات پیش آتی ہیں، انہیں بستر پر جانے سے 90 منٹ قبل نہانا چاہیے۔

باٹھ ٹب میں نہانے کے زیادہ فوائد ہیں، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک
باٹھ ٹب میں نہانے کے زیادہ فوائد ہیں، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک

امریکی ’یونیورسٹی آف ٹیکسس‘ کے ماہرین نے 5 ہزار 322 کیسز کا جائزہ لیا، جن میں سونے سے پہلے نہانے اور نہ نہانے والے کیسز شامل تھے۔

ماہرین نے کئی ماہ تک کیسز کا جائزہ لے کر ان کے نتائج اخذ کیے، جن سے ثابت ہوا کہ گرمیوں یا سردیوں میں سونے سے 90 منٹ قبل نیم گرم پانی سے نہانے والے افراد کو پر سکون نیند آتی ہے۔

ماہرین کے مطابق نتائج سے پتہ چلا کہ اگرچہ عام پانی سے نہانے والے افراد کو بھی اچھے طریقے سے نیند آئی، تاہم نیم گرم پانی سے نہانے والے افراد کے جسم کی حرارت کنٹرول میں رہی اور انہیں پرسکون نیند آئی۔

ماہرین نے تجویز دی کہ ہر بالغ مرد و خاتون کو سونے کے لیے بستر پر جانے سے 90 منٹ یا کم سے کم ایک گھنٹہ قبل ٹھیک طرح سے نیم گرم پانی سے نہانا چاہیے۔

ماہرین نے کہا کہ اچھے نتائج کے لیے لوگوں کو باتھ ٹب میں نہانا چاہیے، تاہم شاور سے نہانے سے بھی بہتر نتائج ملتے ہیں۔

ماہرین نے رپورٹ میں یہ نہیں بتایا کہ اگر ٹھنڈے پانی سے نہایا جائے تو اس کے انسانی جسم یا نیند پر کیا اثرات پڑتے ہیں، تاہم مجموعی طور پر ماہرین نے انسانوں کو تجویز دی کہ سونے سے قبل نہایا جائے۔

دانتوں کی تکلیف دور کرنے کے چند نہایت آسان طریقے

دانت کا درد کتنا شدید ہوتا ہے کہ اس کا اندازہ لگ بھگ ہر فرد کو ہی ہوتا ہے اور ایسا ہونے پر آپ کی روز مرہ کی زندگی بھی بہت زیادہ متاثر ہوجاتی ہے۔

اکثر دانتوں میں خلا، دانت کے ہلنے، مسوڑوں کے انفیکشن یا دیگر وجوہات کی بناء یہ درد آپ کی روز مرہ کی زندگی عذاب بنا دیتا ہے۔

دانت کا درد کبھی بھی آپ کو اپنا شکار بناسکتا ہے اور اکثر ایسی صورت میں ڈاکٹر کے پاس جانا مشکل ثابت ہوتا ہے تاہم کچھ گھریلو نسخے آپ کو اس سے کچھ دیر کے لیے نجات دلانے کے لیے ضرور مددگار ثابت ہوسکتے ہیں جس کے بعد آپ آرام سے ڈاکٹر سے رجوع کرکے دیرپا علاج کروا سکتے ہیں۔

نمک ملے پانی سے کلیاں

ایک چائے کا چمچ نمک گرم پانی کے ایک کپ میں گھول کر درد ختم کرنے والا ماﺅتھ واش بنالیں جو تکلیف کا باعث بننے والے کچرے کو صاف کرکے سوجن میں کمی لانے میں مدد دے گا۔ اس نمک ملے پانی کو منہ میں بھر کر 30 سیکنڈ اچھی طرح ہلائیں اور پھر تھوک دیں۔ اس عمل کو اس وقت تک دوہرائیں جب تک ضرورت محسوس ہو یا درد میں کمی نہ آجائے۔

چائے سے آرام ملے

پودینے کی چائے کا ذائقہ اچھا ہوتا ہے اور اس میں تکلیف دہ جگہ کو بے حس کرنے کی طاقت ہوتی ہے۔ پودینے کے خشک پتوں کا ایک چائے کا چمچ ایک کپ گرم پانی میں شامل کریں اور 20 منٹ تک ڈبو کر رکھیں، جب یہ چائے ٹھنڈی ہوجائے تو اسے منہ میں بھر کر حرکت دیں اور پھر تھوک دیں یا نگل لیں۔ اس کے علاوہ عام چائے کی خشک پتی بھی سوجن کم کرکے درد میں کمی لانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کے لیے آپ ایک گرم اور گیلا ٹی بیگ متاثرہ جگہ پر کچھ دیر کے لیے لگا کر عارضی ریلیف حاصل کرسکتے ہیں۔

بہترین ٹولز سے دانتوں کی صفائی

ایسا ٹوتھ پیسٹ استعمال کریں جو حساس دانتوں کے لیے، خاص طور پر اگر آپ کو مسوڑوں کی تکلیف کا سامنا ہو تو اس سے درد میں نمایاں کمی آئے گی اور پھر ٹھنڈا یا گرم دانتوں پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوگا۔ اسی طرح زیادہ نرم برش کو استعمال کرکے بھی آپ مسوڑوں کو سکڑنے سے روک کر ٹھنڈا گرم کی تکلیف کی روک تھام کرسکتے ہیں۔

برف بھی فائدہ مند

ایک چھوٹے آئس کیوب کو ایک تھیلی میں رکھیں اور پھر ایک باریک کپڑے کو تھیلی کے گرد لپیٹ دیں اور پھر تکلیف دہ دانت پر 15 منٹ تک لگائے رکھیں تاکہ اعصاب سن ہوجائیں۔ اس کے علاوہ تکلیف سے نجات کا ایک اور دلچسپ طریقہ آئس کیوب سے اپنے ہاتھ پر مساج کرنا ہے جس سے دانت کے درد میں کمی آجاتی ہے۔ درحقیقت آپ کی انگلیاں جب ٹھنڈک کا سگنل دماغ کو بھیجتی ہیں تو وہ دانت سے نکلنے والے درد کے سگنلز کو دبا دیتا ہے۔

دانتوں کے خلاء کے لیے چیونگم کا استعمال

اگر تو آپ کا کوئی دانت ٹوٹ گیا ہے یا فلنگ نکل گئی ہے تو آپ درد میں کمی لانے کے لیے متاثرہ حصے کو نرم چیونگم سے بھر سکتے ہیں۔ اس سے آپ خلاء کو پُر کر کے درد میں کمی لاسکتے ہیں اور چیونگم کو وہاں اس وقت تک لگا رہنے دیں جب تک آپ ڈاکٹر سے نہ مل لیں۔

دباﺅ بہترین طریقہ

ایکوپریشر تیکنک کو استعمال کرکے بھی دانت کے درد کو بہت تیزی سے روکا جاستکا ہے۔ اپنے انگوٹھے سے دوسرے ہاتھ کے پشت پر اس حصے کو 2 منٹ تک دبائیں جہاں آپ کا انگوٹھا اور شہادت کی انگلیاں مل رہے ہو۔ اس سے ایک کیمیکل اینڈروفینز خارج ہوگا جو کہ خوش مزاجی کا باعث سمجھا جاتا ہے۔

نوجوانوں میں موٹاپے کی بڑی وجہ سامنے آگئی

کہا جاتا ہے کہ ناشتہ دن کی سب سے اہم غذا ہوتی ہے مگر اب سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ صبح کے وقت خالی پیٹ رہنا نوجوانوں کو موٹاپے اور توند کا شکار کردیتا ہے۔

یہ بات برازیل میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ساﺅ پاﺅلو یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو نوجوان ناشتہ کرنے کے عادی نہیں ہوتے، ان میں توند اور موٹاپے کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق دن کی پہلی غذا سے دوری نوجوانوں میں ایسی نقصان دہ عادات کا باعث بن سکتی ہے جو موٹاپے کا باعث بنتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ناشتے میں صحت کے لیے فائدہ مند غذا چھوڑنے والے افراد بھوک لگنے پر نقصان دہ غذائیں جیسے میٹھے مشروبات یا کچھ میٹھا کھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

نوجوانی میں موٹاپا اور توند ذیابیطس ٹائپ ٹو اور امراض قلب جیسے طبی مسائل کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران برازیل اور یورپ میں ہونے والے 2 بڑے سروے کے نتائج کو دیکھا گیا، جن میں غذائی عادات اور جسمانی وزن کے مختلف عناصر کا جائزہ لیا گیا تھا۔

مجموعی طور پر 5 ہزار کے قریب نوجوانوں کے ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ ناشتہ چھوڑنا براہ راست توند نکلنے کا باعث بنتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ جو لڑکے ناشتہ نہیں کرتے، ان کی کمر کا پھیلاﺅ ناشتہ کرنے والوں کے مقابلے میں اوسطاً 2.13 سینٹی میٹر سے 2.61 سینٹی میٹر زیادہ ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے لڑکے مناسب نیند ہی کیوں نہ لیتے ہوں، مگر ان کا جسمانی وزن دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے جبکہ ناشتہ نہ کرنے والی لڑکیوں کی کمر کا پھیلاﺅ اوسطاً 1.97 سینٹی زیادہ ہوسکتا ہے۔

محققین کے مطابق ناشتہ نہ کرنا غیرمتوازن غذا اور دیگر غیر صحت بخش رویوں کی جانب لے جاسکتا ہے جو نوجوانوں میں جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

اس کے مقابلے میں ناشتہ کرنے والے افراد میں صحت مند جسمانی وزن ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے کیونکہ وہ دن بھر میں کم کیلوریز جسم کا حصہ بناتے ہیں، خصوصاً نقصان دہ غذاﺅں سے بچنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہوئے۔

ایک سیب روزانہ ڈاکٹر کو کیسے دور رکھتا ہے؟

کہا جاتا ہے کہ ایک سیب روزانہ کھانا ڈاکٹر کو دور رکھنے میں مدد دیتا ہے اور سائنسدانوں نے اس کی وجہ جان لی ہے۔

درحقیقت ایک سیب میں صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا کی اتنی زیادہ مقدار ہوتی ہے جو معدے میں جاکر اچھی صحت کو یقینی بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

یہ دعویٰ آسٹریا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

گراز یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایک عام سیب میں 10 کروڑ سے زائد بیکٹریا ہوتے ہیں، جن میں سے کچھ جراثیم صحت مند معدے کے ماحول کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ایسے سیب جن پر کیڑے مار ادویات کا استعمال نہ ہوا ہو، وہ دیگر سیبوں کے مقابلے میں صھت کے لیے زیادہ فائدہ ہوتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق یہ کروڑوں جراثیم معدے کو صحت مند رکھتے ہیں جس سے الرجی کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ دماغی صحت میں بہتری آتی ہے جبکہ صحت کو دیگر فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہر سیب میں ہی بیکٹریا کی مقدار اتنی زیادہ ہوتی ہے مگر اورگینک سیب (کیڑے مار ادویات سے محفوظ) میں یہ بیکٹریا صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ غذا میں موجود بیکٹریا، وائرس اور دیگر جراثیم ہمارے معدے میں کالونیاں بنا لیتے ہیں، کھانا پکانے سے اکثر جراثیم مرجاتے ہیں تو کچے پھل اور سبزیاں معدے کے بیکٹریا کے حصول کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں۔

اس طرح کے سیبوں کا ذائقہ بھی دیگر سے بہتر ہوتا ہے جس کی وجہ ایک خاص قسم کے بیکٹریا کی موجودگی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ سیب صحت کے لیے فائدہ ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل فرنٹیئر آف مائیکرو بائیولوجی میں شائع ہوئے۔

مچھلی کھانے کی عادت کینسر سے بچاؤ میں مددگار

ہر ہفتے مچھلی کے 3 یا اس سے زائد ٹکڑے کھانا آنتوں کے کینسر سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی اور انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (آئی اے آر سی) کی مشترکہ تحقیق میں پونے 5 لاکھ افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا جس کے دوران ان سے مختلف سوالنامے بھروا کر جانا گیا کہ وہ کیا زیادہ کھانا پسند کرتے ہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ایک ہفتے میں 359 گرام کسی بھی قسم کی مچھلی کھانا آنتوں کے کینسر کا خطرہ 12 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

اسی طرح جو افراد ہفتہ بھر میں 124 گرام چربی والی مچھلی کھاتے ہیں، ان میں آنتوں کے کینسر کا خطرہ 10 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ مچھلی کھانے کی عادت آنتوں کے کینسر کا خطرہ کم کرتی ہے اور یہ لوگوں کی صحت بخش غذا کا حصہ ہونی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ چربی یا آئلی مچھلی میں پولی ان سچورٹیڈ فیٹی ایسڈز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو جسم کے حفاظتی اثر رکھتی ہے جبکہ ورم کی روک تھام کرتی ہے، جبکہ عام مچھلیوں میں بھی یہ فیٹی ایسڈ کمپاﺅنڈ موجود ہوتے ہیں۔

محققین کے مطابق ابھی یہ جائزہ لینا باقی ہے کہ مچھلی کے تیل کے سپلیمنٹس کس حد تک کینسر کے خطرے کو کم کرسکتے ہیں، اس حوالے سے مزید تحقیق کی جائے گی۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جنرل کلینیکل Gastroenterology اینڈ Hepatology میں شائع ہوئے، جس کے لیے ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ نے فنڈز بھی فراہم کیے تھے تاکہ لوگوں میں آنتوں کے کینسر کی روک تھام کے لیے غذائی مشورے دیئے جاسکیں۔

سرجری سے پہلے موسیقی مریض کو سکون پہنچاتی ہے، تحقیق

پنسلوانیا: طبّی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ اگر سرجری کےلیے لے جانے سے پہلے مریض کو مدھر اور کانوں میں رس گھولنے والی موسیقی سنا دی جائے تو وہ کسی سکون آور دوا کی طرح کام کرتے ہوئے اس کا اعصابی تناؤ ختم کردیتی ہے۔ یعنی موسیقی صرف روح کی غذا نہیں بلکہ اعصاب کی دوا بھی ہے!

واضح رہے کہ آپریشن سے پہلے اکثر مریضوں کو اختلاج ہونے لگتا ہے اور ان میں اعصابی تناؤ بڑھانے والے ہارمونز کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایسے میں اعصاب کو سکون پہنچانے کےلیے عموماً جو دوائیں دی جاتی ہیں ان کے سائیڈ ایفیکٹس بھی ہوتے ہیں جو سانس لینے میں دشواری اور دورانِ خون میں عدم توازن سے لے کر غصہ اور جھلاہٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔

یہ مسئلہ حل کرنے کےلیے یونیورسٹی آف پینسلوینیا کی ڈاکٹر وینا گراف اور ان کے ساتھی گزشتہ چند سال سے موسیقی کو بطور متبادل سکون آور آزمانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے اپنی حالیہ تحقیق کے نتائج ’’ریجنل اینستھیسیا اینڈ پین میڈیسن‘‘ نامی ریسرچ جرنل میں شائع کروائے ہیں۔

157 بالغ افراد پر کی گئی اس تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اگر آپریشن سے پہلے مریض کو اچھی اور کانوں میں رس گھولنے والی موسیقی سنائی جائے تو اس سے بھی مریض کے اعصابی تناؤ میں ٹھیک اسی طرح کمی واقع ہوتی ہے جیسی سکون آور دوائیں دینے پر۔ البتہ اس تحقیق کے دوران کچھ دوسرے مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔ مثلاً یہ کہ جو مریض پہلے سے یہ طے کیے ہوئے تھے کہ سکون آور دوا ہی ان پر اثر کرے گی، ان کے اعصاب پر موسیقی کا اثر خاصا کم ہوا۔ اسی طرح کچھ مریضوں نے شکایت کی کہ اسپتال کا عملہ انہیں اپنی من پسند موسیقی سنوا رہا ہے جبکہ وہ کسی اور قسم کی موسیقی کو سکون کا باعث سمجھتے ہیں۔

ڈاکٹر وینا گراف کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ مطالعے میں موسیقی اور اعصاب کو سکون پہنچنے کے درمیان تعلق واضح ہوگیا ہے لیکن موسیقی کو متبادل کے طور پر متعارف کروانے سے پہلے ایک اور طویل مطالعہ کرنا ہوگا جس میں موجودہ مطالعے کی خامیاں دور کرتے ہوئے مریضوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

کیا آپ بھی حد سے زیادہ سونے کے عادی ہیں؟

ویسے تو کہا جاتا ہے کہ آٹھ گھنٹوں کی نیند لے لینا انسان کو بالکل تازہ کردیتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آٹھ سے زیادہ گھنٹوں کی نیند فالج کے دورے کا خطرہ خطرناک حد تک بڑھا دیتا ہے؟

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

امریکی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جہاں کم نیند لینا بھی خطرناک ہی مانا جاتا ہے وہیں اس کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ سونے کو بھی عادت بنالینا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ 8 گھنٹے سے زائد نیند لینے کے عادی ہوتے ہیں ان میں فالج کا خطرہ اوسط دورانیے کے نیند لینے والے افراد کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اسی طرح جو لوگ رات بھر میں 6 گھنٹے سے کم سونے کو عادت بنا لیتے ہیں ان میں اس جان لیوا مرض کے دورے کا خطرہ 4 گنا زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے دماغ کے مختلف حصوں کی خون کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔

یہ تحقیق 7 ہزار افراد پر کی گئی جس میں بتایا گیا کہ رات کی اچھی اور مناسب دورانیے کی نیند بہت اہمیت رکھتی ہے مگر بہت زیادہ دیر تک بستر پر رہنا بلڈ پریشر کو بڑھا کر فالج کے خطرہ 46 فیصد تک اضافہ کردیتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس کی وجوہات ابھی واضح نہیں ہوسکی اور اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آخر کیوں بہت زیادہ نیند جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

Google Analytics Alternative