صحت

ذیابیطس کے شکار ہونے پر آپ کو اس کا علم کیسے ہوسکتا ہے؟

ذیابیطس وہ مرض ہے جو اس وقت دنیا بھر میں 42 کروڑ سے زائد افراد کو اپنا شکار بناچکا ہے اور یہ صرف ایک بیماری نہیں، درحقیقت پورے جسمانی نظام کو متاثر کرنے والا عارضہ ہے، جس سے گردوں، دل، دماغ، ہاتھ پیر، غرض ہر عضو متاثر ہوتا ہے۔

مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس مرض میں مکمل طورپر مبتلا ہونے سے پہلے بھی ایسے کئی علامات سامنے آتی ہیں جو بتاتی ہیں کہ جسم میں گلوکوز (ایک قسم کی شکر) کی مقدار عام معمول سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔

مگر یہ انتباہی نشانیاں اتنی غیرواضح ہوتی ہیں کہ اکثر افراد تو ان پر توجہ بھی نہیں دے پاتے، خاص طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار افراد کو اکثر اس کا علم طویل المعیاد نقصان پہنچنے کے بعد ہوتا ہے۔

اس کے مقابلے میں ذیابیطس ٹائپ ون کی علامات بہت تیزی سے یعنی چند دنوں یا ہفتوں میں نمودار ہوتی ہیں اور ان کی شدت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔

ذیابیطس کی ابتدائی علامات

ذیابیطس کی دونوں اقسام کی چند نمایاں انتباہی علامات ہوتی ہیں، جو درج ذیل ہیں۔

بھوک اور تھکاوٹ: ہمارا جسم غذا کو ہضم ہونے کے دوران گلوکوز میں بدلتا ہے جسے خلیات توانائی کے لیے استعمال کرتے ہیں، مگر خلیات کو اس گلوکوز کو استعمال کرنے کے لیے انسولین کی ضرورت ہوتی ہے، اگر جسم انسولین کو مناسب مقدار یا مکمل طور پر بنانے سے قاصر ہوجائے یا تیار انسولین کے خلاف خلیات مزاحمت کرنے لگے تو گلوکوز ان تک نہیں پہنچ پاتا اور جسم توانائی سے محروم ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں عام معمول سے زیادہ تھکاوٹ طاری ہوجاتی ہے جبکہ بھوک بھی زیادہ لگنے لگتی ہے۔

زیادہ پیشاب آنا اور پیاس محسوس ہونا: عام طور پر ایک فرد 24 گھنٹوں میں اوسطاً 4 سے 7 بار پیشاب کرتا ہے، مگر ذیابیطس کے مریضوں میں یہ تعداد کافی زیادہ ہوسکتی ہے۔ مگر کیوں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب جسم گلوکوز کو جذب کرتا ہے تو یہ گردے سے گزرتا ہے، مگر جب ذیابیطس کے نتیجے میں بلڈ شوگر لیول بڑھتا ہے، تو گردوں کے لیے اس پر قابو پانا ممکن نہیں ہوتا، اس کے نتیجے میں جسم زیادہ پیشاب آنے لگتا ہے اور پیاس بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے، یعنی ایک عجیب چکر ہے یعنی زیادہ پیشاب آئے گا تو پیاس بھی زیادہ لگے گی، اور جب آپ پانی زیادہ پینا شروع کریں گے تو پیشاب بھی زیادہ آئے گا۔

خشک منہ اور جلد میں خارش: چونکہ ذیابیطس کے دوران ہمارا جسم سیال کو پیشاب بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتا ہے تو دیگر اعضا کے لیے نمی کی مقدار کم ہوجاتی ہے، جس سے ڈی ہائیڈریشن کا امکان ہے اور منہ خشک ہوجاتا ہے، اس کے علاوہ جلد خشک ہونے سے بھی خارش کی شکایت ہوجاتی ہے۔

بینائی دھندلانا: جسم میں سیال کی سطح میں تبدیلی کے نتیجے میں آنکھوں کے لینس بھی سوج جاتے ہیں، ان کی ساخت بدل جاتی ہے اور کسی منظر پر توجہ مرکوز نہیں کرپاتے، جس سے دھندلے پن کا احساس ہوتا ہے۔

ذیابیطس ٹائپ 2 کی علامات

یہ علامات اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب طویل عرصے تک جسم میں گلوکوز کی سطح میں اضافہ برقرار رہے۔

یست یا فنگس(Yeast) انفیکشن: مردوں اور خواتین جو ذیابیطس کے مریض ہوں، ان کو اس انفیکشن کا سامنا ہوسکتا ہے، یست کو گلوکوز سے غذا ملتی ہے، تو یہ بہت تیزی سے پھیلتا ہے، یہ انفیکشن جلد کے کسی بھی گرم اور نم حصے میں پھیل سکتا ہے جیسے ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کے درمیان ، چھاتیوں کے نیچے یا مخصوص اعضا کے اندر یا ارگرد۔

خراشوں یا چوٹوں بھرنے کی رفتار سست ہوجانا: وقت کے ساتھ ہائی بلڈ شوگر دوران خون پر اثرات کرتا ہے اور اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم کے لیے زخموں کو بھرنا مشکل سے مشکل تر ہوجاتا ہے۔

پیروں یا ٹانگوں میں تکیف یا سن ہونا: یہ اعصاب کو نقصان پہنچنے کا ایک اور نتیجہ ہے۔

ذیابیطس ٹائپ ون کی علامات

آپ کو یہ علامات نظر آسکتی ہیں:

جسمانی وزن میں غیرمتوقع کمی: اگر جسم کو غذا سے توانائی حاصل نہیں ہوتی تو وہ مسلز اور چربی کو توانائی کے لیے گھلانا شروع کردیتا ہے، جس کے نتیجے میں غذا میں کمی کے بغیر ہی اچانک جسمانی وزن کم ہونے لگتا ہے۔

دل متلانا اور قے ہونا: جب جسم چربی کو گھلانے لگتا ہے تو اس سے کیٹونز بنتے ہیں جو نامیاتی مرکبات کا سلسلہ ہوتا ہے، یہ مرکبات خون میں جمع ہوکر خطرناک سطح تک پہنچ جاتے ہیں، جو کہ جان لیوا عارضے کی شکل بھی اختیار کرسکتے ہیں جسے ڈائیٹک ketoacidosis کہا جاتا ہے۔ کیٹونز کے نتیجے میں دل متلانے اور قے کی شکایت بھی زیادہ ہونے لگتی ہے۔

دوران حمل ذیابیطس کی علامات

حمل کے دوران بلڈ شوگر لیول بڑھنے سے عام طور پر کوئی علاامت سامنے نہیں آتی، بس معمول سے کچھ زیادہ پیاس محسوس ہوتی ہے یا زیادہ پیشاب آنے لگتا ہے۔

ذیابیطس کی پیچیدگیوں کی انتباہی نشانیاں

ذیابیطس ٹائپ ٹو سے مختلف پیچیدگیاں کی ممکنہ علامات یہ ہوسکتی ہیں :

جلد پر خارش (عموماً رانوں کے درمیانی حصے میں)۔

یست انفیکشن کا بار بار سامنا۔

جسمانی وزن میں غیرمتوقع اضافہ۔

گردن، بغلوں اور رانتوں کے درمیان کی جلد ملائم ہونا اور رنگت گہری ہوجانا۔

ہاتھوں اور پیروں میں سن ہونے اور سوئیاں چبھنے کا احساس۔

بینائی کمزور ہوجانا۔

مردوں کے جنسی افعال کمزور ہوجانا۔

خون میں گلوکوز کی کمی

یہ عارضہ جسم بلڈ شوگر لیول بہت کم ہونے کی صورت میں نظر آتا ہے، ایسا اس وقت ہوتا ہے جب خون میں شکر یا گلوکوز کی مقدار بہت کم ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں جسم ایندھن سے محروم ہوتا ہے، جس کی علامات یہ ہوسکتی ہیں:

جسم کانپنا۔

ذہنی الجھن یا فکرمندی بڑھ جانا۔

زیادہ پسینہ آنا، ٹھنڈ لگنا۔

کنفیوز ہونا۔

سرچکرانا۔

بھوک لگنا۔

غنودگی۔

کمزوری۔

ہونٹوں، زبان یا گالوں کا سن ہونا یا سوئیاں چبھنا۔

دل کی دھڑکن تیز ہونا۔

جلد زرد ہوجانا۔

بینائی دھندلانا۔

سردرد۔

نیند کے دوران رونا یا ڈراﺅنے خواب نظر آنا۔

بات چیت میں مشکلات۔

کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟

اگر آپ کی عمر 45 سال سے زیادہ ہے یا ذیابیطس کے دیگر خطرات نظر آرہے ہیں تو بہتر ہے کہ ہر ماہ یا 3 ماہ بعد شوگر ٹیسٹ کرانا عادت بنالیں۔ اگر اس مرض کی تشخیص جلد ہوجائے تو اعصاب کو نقصان، دل کے مسائل اور دیگر پیچیدگیوں سے بچنا ممکن ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر سے اس وقت رجوع کریں جب یہ علامات نظر آئیں:

معدے میں خرابی محسوس ہو، کمزوری اور بہت زیادہ پیاس لگنے لگے۔

بہت زیادہ پیشاب کرنے لگے۔

پیٹ میں بہت شدید درد رہنے لگے۔

عام معمول سے زیادہ گہری اور تیز سانسیں۔

سانس سے میٹھی بو جیسے نیل پالش ریموور آنا (یہ بہت زیادہ کیٹونز کی نشانی ہوتی ہے)۔

سانس کی بو سے نجات میں مددگار نسخے

وجہ چاہے جو بھی سانس میں ناگوار بوکسے پسند ہوسکتی ہے ؟ کیونکہ اس سے پوری شخصیت کا تاثر خراب ہوجاتا ہے۔

سانس میں بو کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے تمباکو نوشی سے ادویات یا آپ کی غذا۔

بنیادی طور پر تمام غذائیں منہ کے اندر ٹکڑوں میں تبدیل ہوتی ہیں اور اگر آپ تیز بو والی غذائیں جیسے لہسن یا پیاز کھاتے ہیں تو ان کی بو اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک یہ غذائیں جسم سے گزر نہ جائیں۔ اگر روزانہ دانتوں کو برش نہ کیا جائے تو خوراک کے اجزا منہ میں باقی رہ جاتے ہیں، جس سے دانتوں کے درمیان، مسوڑھوں اور زبان پر جراثیموں کی تعداد بڑھنے لگتی ہے جو سانس میں بو کا باعث بنتے ہیں۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ چند معمولی تبدیلیوں اور گھریلو نسخوں سے بھی اس مسئلے پر قابو پانا ممکن ہے۔

ایسے ہی چند آسان اور قدرتی حل درج ذیل ہیں۔

برش اور خلال

جب سانس سے بو سے نجات پانے کا فیصلہ کریں تو آسان ترین طریقوں میں سے ایک دانتوں کی اچھی صفائی کو یقینی بنانا ہے۔ دانتوں پر برش اور خلال روزانہ کرنا (اگر ممکن ہو تو دن میں 2 بار) سے منہ میں بو کا باعث بننے والے بیکٹریا کی تعداد میں کمی آتی ہے۔ خلال کرنا ہوسکتا ہے کہ مشکل محسوس ہو مگر اس سے دانتوں میں پھنس جانے والی غذا کے ذرات کو نکالنے میں مدد ملتی ہے جو بیکٹریا کی نشوونما اور ناگوار بو کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح ہر 2 سے 3 ماہ میں ٹوتھ برش کو بدلنا بھی ضروری ہے تاکہ اس کے ریشے وقت کے ساتھ کمزور اور دانتوں کی صفائی کے لیے غیرموثر نہ ہوسکیں۔

زبان کی صفائی

زبان بو کا باعث بننے والے بیکٹریا کی افزائش نسل کا میدان ثابت ہوتی ہے مگر اکثر افراد دانت برش کرتے ہوئے اسے نظرانداز کردیتے ہیں۔ دانتوں پر برش کے بعد اس برش سے زبان کو بھی صاف کرلیں یا زبان صاف کرنے والا آلہ بھی خریدا جاسکتا ہے جو اس مسئلے کو ہمیشہ دور رکھے گا۔

پانی اور پانی

10 سیکنڈ یا اس سے بھی کم وقت میں سانس کی بو دور کرنا چاہتے ہیں؟ تو جلد سے پانی پی لیں، ناگوار بو کی ایک عام وجہ منہ خشک ہونا ہوتی ہے، لعاب دہن بننے کے عمل میں سست روی سے بیکٹریا کی نشوونما بڑھتی ہے جس سے سانس میں بو پیدا ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ صبح اٹھنے پر سانس کافی بدبودار ہوتی ہے تو اٹھنے کے بعد پانی پینا یا دن بھر مناسب مقدار میں پانی پینا اس مسئلے سے بچاسکتا ہے۔

غذا پر نظر

کچھ غذائیں سانس میں بو کے حوالے سے جانی جاتی ہیں، تو اس مسئلے سے ناجت کا ایک آسان ٹوٹکا تو ان کو نہ کھانا ہے۔ ایسی غذاﺅں سے گریز کریں جن میں تیزابیت زیادہ ہو یا شکر کی مقدار زیادہ ہو، کیونکہ ان دونوں سے بیکٹریا کی نشوونما کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اگر فوری طور پر سانس میں بو دور کرنا چاہتے ہیں تو ایک سیب یا کچھ مقدار میں دہی کھالیں۔

ماﺅتھ واش

ویسے تو ماﺅتھ واش سانسوں کو تازہ دم بنانے کے لیے ہی ہوتا ہے مگر وہ اس ناگوار بو کو کچھ دیر کے لیے چھپا پاتے ہیں، اگر آپ سانس میں بو کے مسئلے کو دور کرنے کے لیے ماﺅتھ واش کو حل سمجھ کر استعمال کررہے ہیں، تو ایسی پراڈکٹ کا انتخاب کریں جو بیکٹریا کی نشوونما کی روک تھام کرسکے، جس سے ناگوار بو سے نجات پانے میں مدد مل سکے گی۔ گھر میں بھی آپ ماﺅتھ واش تیار کرسکتے ہیں، اس مقصد کے لیے ایک کپ پانی میں ایک چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا اور چند قطرے پودینے کے تیل کے ملاکر کلیاں کریں اور نگلنے سے گریز کریں۔

سونف کھائیں

کچھ نہیں مل رہا تو کچن میں جاکر چٹکی بھر سونف کو منہ میں ڈال کر چبالیں، سونف کا جراثیم کش اثر بیکٹریا کی تعداد بڑھنے سے روکتا ہے جبکہ اس کی مہک سانس کی بو کو چھپا لیتی ہے۔

لونگ بھی مددگار

لونگ میں ایک قسم کا تیل یوجینول ہوتا ہے جو بیکٹریا کو مارنے کی خصوصیت رکھتا ہے، اس کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے ایک لونگ کو منہ میں ڈال کر چبائیں اور پھر زبان پر گھماتے رہیں، جب اس کا تیل منہ میں بھر جائے تو پھر لونگ کو تھوک دیں۔

دارچینی سے مدد لیں

سونف اور لونگ کی طرح دارچینی بھی جراثیم کش مصالحہ ہے، جبکہ اس میں موجود چکنائی جراثیموں کو مار کر منہ میں خوشبو بڑھاتی ہے، بس اس کی کچھ مقدار کو چوس لیں اور مسئلہ حل۔

پھلوں کے چھلکے

لیموں یا مالٹے کے چھلکے کو دھوئیں اور منہ میں ڈال کر چبائیں، اس سے سانسوں میں فوری تازگی آئے گی جبکہ چھلکے میں موجود سیٹرک ایسڈ لعاب دہن کی مقدار بڑھانے میں مدد دے گا۔

سبز سبزیاں

دھنیا، پودینا اور دیگر سانس کی بو بھگانے میں مدد دے سکتے ہیں کیونکہ ان میں کلوروفل ہوتا ہے جو بو کو دور کرتا ہے۔

آخر کچھ لوگ سبزیوں سے دور کیوں بھاگتے ہیں؟

اگر آپ کو سبز سبزیاں کھانا پسند نہیں تو اس کی وجہ کوئی اور نہیں آپ کے جینز ہیں جو پالک، ساگ یا دیگر سے دور بھاگنے پر مجبور کرتے ہیں۔

یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی سالانہ کانفرنس کے دوران پیش کی جانے والی تحقیق میں بتایا کہ مخصوص جینز ‘سپر ٹیسٹر’ کچھ افراد کو سبز پتوں والی سبزیوں کے ذرا تلخ ذائقے کے حوالے سے زیادہ حساس بنادیتے ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ان مخصوص جینز والے افراد میں ان سبزیوں کے لیے رغبت نہیں ہوتی، حالانکہ انہیں اس کے طبی فوائد کا علم ہی کیوں نہ ہو۔

امریکا کی کینٹکی یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی اس تحقیق میں ‘سپر ٹیسٹر’ جینز کے مالک 175 افراد کی خدمات حاصل کرکے دیکھا گیا کہ وہ مخصوص غذاﺅں کو کھانے کے بعد کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور پھر اس کا موازنہ ان افراد سے کیا گیا جن میں یہ جینز نہیں تھا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ سپر ٹیسٹر جینز کے مالک افراد سبزیوں کو اپنی ترجیحات میں بہت نیچے رکھتے ہیں۔

سابقہ تحقیقی رپورٹس میں سپر ٹیسٹر جین کی متعدد اقسام کو شناخت کیا گیا تھا جو لوگوں کو ذائقوں کے حوالے سے زیادہ یا کم حساس بناتے ہیں۔

اس نئی تحقیق میں ایک قدم آگے بڑھ کر لوگوں میں کھانے کے انتخاب اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

محقین کا کہنا تھا کہ صحت کے لیے بیشتر بہترین سبزیاں بدقسمتی سے تلخ ذائقے کے حوالے سے حساس افراد کے لیے بدترین ذائقے ثابت ہوتی ہیں، حالانکہ یہ غذائیں فائبر، وٹامن اے، سی اور دیگر اجزا سے بھرپور ہوتی ہیں جو صحت کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

مگر سپر ٹیسٹرز جینز رکھنے ولے افراد ان سبزیوں سے مکمل طور پر گریز کرتے ہیں اور نمک یا چینی سے بھی ان کو بہتر بنانے کی کوشش نہیں کرتے۔

محققین نے بتایا کہ توقع ہے کہ اس جینیاتی معلومات کو استعمال کرکے ہم یہ جان سکیں گے ایسے افراد کن سبزیوں کو زیادہ بہتر طریقے سے قبول کرسکتے ہیں اور کون سے مصالحے ایسے ہیں جو انہیں زیادہ سبزیاں کھانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

پہلی بار جنسی تعلق سے ڈینگی ہونے کی تصدیق

پاکستان میں رواں برس اب تک ڈینگی کے کیسز کی تعداد 45 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے اور اب تک ملک بھر میں 60 افراد اس مرض کے باعث زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

پاکستان میں اگرچہ ڈینگی کا مرض خاص مچھر کے کاٹنے سے ہوتا اور اب تک دنیا کے ماہرین بھی یہی سمجھتے آرہے تھے کہ یہ مرض صرف اور صرف مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے۔

تاہم اب دنیا میں پہلی بار ڈینگی کا ایک منفرد کیس سامنے آیا ہے، جس کے مطابق یہ مرض ’جنسی تعلق‘ سے بھی دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتا ہے۔

جی ہاں، پہلی بار جنسی تعلق کی وجہ سے ڈینگی کا وائرس ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے کی تصدیق کردی گئی۔

جنسی تعلق کی وجہ سے ایک دوسرے شخص میں ڈینگی وائرس منتقل ہونے کا پہلا کیس یورپی ملک اسپین میں سامنے آیا۔

برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ کے مطابق اسپین کے محکمہ صحت نے جنسی تعلق کی وجہ سے ایک سے دوسرے شخص میں ڈینگی کیس کے منتقل ہونے کی تصدیق کردی۔

یہ اپنی نوعیت کا دنیا کا پہلا کیس ہے، اس سے قبل جنوبی کوریا میں حال ہی میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مضمون میں بتایا گیا تھا کہ مرد اور خاتون کے جنسی تعلق کی وجہ سے ڈینگی وائرس پھیلنے کے قوی امکانات موجود ہیں۔

اسپین کے محکمہ صحت نے جنسی تعلق سے ایک سے دوسرے شخص میں پھیلنے والے ڈینگی کے وائرس کو جنوبی کوریا کے تحقیقی مضمون کی کڑی قرار دیا اور کہا کہ ایک مرد کی جانب سے دوسرے مرد کے ساتھ جنسی تعلق کرنے کی وجہ سے ڈینگی کا وائرس پھیلا۔

محکمہ صحت کے اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ڈینگی سے متاثرہ شخص نے اپنے ایک مرد ساتھی کے ساتھ ’جنسی تعلقات‘ استوار کیے، جس کے بعد دوسرے مرد بھی ڈینگی سے متاثر ہوئے اور رواں برس ستمبر میں اس کیس کی تصدیق ہوئی۔

اسپینی حکام کے مطابق جنسی تعلق کے بعد ڈینگی سے متاثر ہونے والے شخص کی عمر 41 برس ہے اور اس کا ساتھی مرد کیوبا کے سفر کے دوران ڈینگی وائرس کا شکار ہوا تھا۔

محکمہ صحت کے ماہرین اس بات پر بھی پریشان دکھائی دیے کہ متاثرہ شخص کو کیوبا میں ڈینگی کیسے ہوا، کیوں کہ وہاں ڈینگی کا مرض عام نہیں پایا جاتا، تاہم بعد ازاں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ متاثرہ شخص کو کیوبا میں ہی ڈینگی ہوا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسپین کے محکمہ صحت کے حکام نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ دونوں متاثرہ مردوں کے اسپرم کا ٹیسٹ کرنے کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی کہ دونوں میں ایک جیسا ہی ڈینگی ہے۔

اسپینی حکام کے مطابق ابتدائی طور پر کیوبا سے ڈینگی میں متاثر ہونے والے شخص میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی تھی اور ان کی جانب سے ساتھی مرد کے ساتھ جنسی عمل کرنے کے بعد ان کے ساتھی میں بھی ان جیسی ہی علامات پائی گئیں۔

ساتھ ہی دونوں کے اسپرم سے اس بات کی بھی تصدیق ہوئی کہ دونوں ڈینگی کے اس خاص وائرس سے متاثر ہیں جو کیوبا میں پایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ ڈینگی کا مرض جنوبی ایشیا و افریقی ممالک میں عام ہے، تاہم یہ مرض ہر اس ملک میں موجود ہے، جہاں مچھر موجود ہیں۔

پاکستان بھر سے رواں سال سامنے آنے والے ڈینگی کیسز

کیا ذیابیطس کے مریضوں کو انڈے کھانے سے نقصان تو نہیں ہوتا؟

انڈے غذائی کولیسٹرول سے بھرپور ہوتے ہیں تو کیا یہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار افراد کھا سکتے ہیں؟

درحقیقت عام طور پر کولیسٹرول سے بھرپور غذائیں جیسے انڈوں کے بارے میں ذیابیطس کے مریضوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ انہیں کھانے سے گریز کریں۔

اس بارے میں ڈاکٹروں کی رائے کیا ہے؟

انڈے پروٹین کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں اور امریکن ڈائیبیٹس ایسوسی ایشن نے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ڈاکٹروں کو بہترین انتخاب قرار دیا ہے، کیونکہ ایک انڈے میں آدھا گرام کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں، تو اسے کھانے سے بلڈ شوگر لیول بڑھتا نہیں۔

اسی طرح ایک انڈے میں لگ بھگ 200 ملی گرام کے قریب غذائی کولیسٹرول ہوتا ہے مگر یہ جسم پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے یا نہیں، اس پر ماہرین متفق نہیں۔

جیسے اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ کولیسٹرول سے بھرپور غذاﺅں کے استعمال سے ذیابیطس کے مریضوں سے روکا جاتا ہے، کیونکہ دوران خون میں کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

مگر غذائی شکل میں کولیسٹرول خون کی سطح پر ایسے اثرات مرتب نہیں کرتا، جیسا کبھی تصور کیا جاتا ہے۔

انڈوں کے فوائد

ایک انڈے میں 7 گرام پروٹین ہوتا ہے جبکہ پوٹاشیم کے حصول کا اچھا ذریعہ بھی ہے، جو اعصاب کو معاونت اور مسلز کی صحت کے لیے ضروری جز ہے، پوٹاشیم سے جسم میں سوڈیم لیول بھی متوازن ہوتا ہے جبکہ خون کی شریانوں کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔

انڈوں میں دیگر اجزا جیسے لیوٹین اور کولین بھی ہوتے ہیں، لیوٹین امراض سے تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ کولین سے دماغی صحت بہتر ہوتی ہے۔ انڈے کی زردی میں بائیوٹین ہوتا ہے جو صحت مند بالوں، جلد اور ناخنوں کے لیے ضروری ہے جبکہ انسولین پروڈکشن بھی بہتر ہوتی ہے۔

انڈوں میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بھی ہوتے ہیں جو کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند چکنائی ہے۔

انڈوں میں کولیسٹرول نقصان پہنچاتا ہے؟

انڈوں میں موجود کولیسٹرول کی وجہ سے اکثر افراد اسے نقصان دہ بھی تصور کرتے ہیں، مگر غذائی کولیسٹرول کا فرد کے خون میں موجود کولیسٹرول کی مقدار پر اثر ماضی کے خیالات سے بہت کم ہوتا ہے۔

درحقیقت خاندانی تاریخ کولیسٹرول کے حوالے سے غذائی کولیسٹرول سے زیادہ اثرانداز ہوسکتی ہے، اور ایسی غذائیں کولیسٹرول کی سطح بڑھانے کا باعث بنتی ہیں جن میں ٹرانس فیٹس اور سچورٹیڈ فیٹس موجود ہوتے ہیں۔

تاہم ذیابیطس کے مریضوں کو زیادہ تعداد میں انڈے کھانے سے گریز کرنا چاہیے، طبی ماہرین نے ذیابیطس کے مریضوں کو دن بھر میں 200 ملی گرام سے زیادہ کولیسٹرول نہ کھانے کا مشورہ دے رکھا ہے جبکہ ایک بڑے انڈے یں 186 ملی گرام کولیسٹرول ہوتا ہے، تو ایک انڈے سے زیادہ کھانا نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے، مگر کولیسٹرول زردی میں ہوتی ہے تو سفیدی کو بغیر کسی فکر کے کھایا جاسکتا ہے۔

تو ناشتے میں کھایا جاسکتا ہے؟

اگر آپ ذیابیطس کے مریض ہیں، تو ہفتہ بھر میں 3 انڈے سے زیادہ کھانا گریز کریں، اگر آپ صرف سفیدی کھاتے ہیں تو اس کی مقدار بڑھائی جاسکتی ہے۔

اور اگر آپ انڈے کو گھی اور نقصان دہ کوکنگ آئل میں پکائیں تو وہ زیادہ صحت بخش نہیں رہتا تو انڈے ابال کر کھانا ذیابیطس کے مریضوں کے لیے زیادہ بہتر ہوتا ہے، اس میں موجود پروٹین پیٹ بھرنے کے ساتھ بلڈ شوگر لیول متاثر نہیں کرتا۔

پروٹین نہ صرف ہاضمے کا عمل سست کرتا ہے بلکہ یہ گلوکوز کو جذب کرنے میں مدد بھی دیتا ہے، جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت مددگار ہے۔

شریک حیات سے خراب تعلق صحت کے لیے کتنا نقصان دہ؟

اگر آپ کو لگتا ہے کہ شریک حیات سے لڑائی جھگڑا ہی جسمانی یا ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ہے تو جان لیں کہ والدین، بہن بھائی یا کزن وغیرہ سے کشیدہ تعلقات صحت کے لیے شریک حیات سے خراب تعلق کے مقابلے میں زیادہ دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

طبی جریدے جرنل آف فیملی سائیکولوجی میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ خاندان سے جذباتی تعلق مجموعی صحت پر اہم اثرات مرتب کرتا ہے اور امراض جیسے فالج اور سردرد وغیرہ کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

تحقیقی ٹیم کی قائد اور یو ٹی ساﺅتھ ویسٹرن میڈیکل سینٹر کی اسسٹنٹ پروفیسر سارہ بی ووڈز کے مطابق سابقہ تحقیقی رپورٹس جن میں شریک حیات سے خراب تعلق کو جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا، کے برعکس ہم ایسے نتائج حاصل نہیں کرسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر محققین رومانوی تعلقات خصوصاً شادی پر توجہ مرکوز کرتے ہیں اور اسے صحت کے لیے سب سے طاقتور سمجھتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران محققین نے 28 سو سے زائد رضاکاروں کے ڈیٹا کو استعمال کیا جنہوں نے یو ایس سروے میں اپنے کوائف درج کیے تھے۔

محققین نے 1995 سے 2014 تک کے ڈیٹا کو اکٹھا کیا جس میں لوگوں سے خاندانی تناﺅ اور خاندانی سپورٹ، شریک حیات سے لڑائی جھگڑوں اور سپورٹ وغیرہ پر مبنی سوالات کے جوابات حاصل کیے گئے تھے۔

ان افراد کے امراض جیسے فالج، سردرد اور معدے کے مسائل کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا اور محققین نے دریافت کیا کہ جتنا خاندان سے تعلق خراب ہوگا، اتنا ہی امراض کا خطرہ بڑھ جائے گا جبکہ 10 سال بعد صحت زیادہ بدتر ہوجائے گی۔

اس کے مقابلے میں خاندانی سپورٹ اگلے 10 برس مٰں بہتر صحت کا باعث بنتی ہے۔

حیران کن طور پر شریک حیات سے خراب تعلقات پر صحت پر کوئی نمایاں اثرات مرتب نہیں ہوئے اور سارہ ووڈز کا کہنا تھا کہ ہم حقیقی معنوں میں دنگ رہ گئے کہ شریک حیات سے جذباتی تعلق اور بعد کی زندگی کی صحت میں تعلق صفر فیصد ہے۔

انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ اس کی ممکنہ وجہ یہ ہے کہ یہ تعلق ٹوٹ سکتا ہے، مگر گھر والے یا خون کے رشتے ہمیشہ باقی رہتے ہیں جو ٹوٹ نہیں سکتے، تو ان رشتوں سے جذباتی وابستگی بھی زیادہ ہوسکتی ہے جس کے اثرات اور شخصیت پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

کھانے کے دوران کی جانے والی عام غلطی جو موٹاپے کا باعث بن جائے

دن بھر کی طویل مصروفیات کے بعد آپ نشست گاہ میں بیٹھ کر کھانے کو تیار کرکے یا گرم کرکے بیٹھتے ہیں اور ٹیلیویژن پر نظریں جمادیتے ہیں۔

یہ ایک کلاسیک اور بہت زیادہ مطمئن کردینے والا منظرنامہ ہے اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اکثر افراد کھانے کے دوران ٹی وی کے سامنے وقت گزارنا پسند کرتے ہیں، بلکہ موجودہ دور میں ٹی وی کی جگہ اب کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور موبائل فونز لے رہے ہیں۔

کیا آپ یاد کرکے بتاسکتے ہیں کہ آخری بار دفتر یا گھر یا کسی ہوٹل میں کھانا کھاتے ہوئے آپ کسی اسکرین کے سامنےنہ بیٹھے ہوں ؟ یا فون پر اسکرولنگ سے دور رہنے میں کامیاب ہوئے ہوں؟

اسکرین کے سامنے کھانا لوگوں کو پسند کیوں ہے؟

توجہ بھٹکائے بغیر کھانا کافی بیزار کن لگتا ہے اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ حقیقی معنوں میں بہت مشکل بھی ہوسکتا ہے، اس کے مقابلے میں نوالے منہ میں ڈالتے ہوئے نظروں کے سامنے کسی پسندیدہ ڈرامے کی قسط زیادہ تسکین پہنچانے والی ہوسکتی ہے۔

ہر فرد میں اس کی وجہ مختلف ہوسکتی ہے، جیسے آپ کا بچپن اس میں ایک عنصر ہوسکتا ہے، یعنی اگر آپ بچپن سے ٹی وی والے کمرے میں کھانا کھاتے رہے ہیں تو اس بات کو قوی امکان ہے کہ بالغ ہونے پر بھی ایسا ہی کریں گے۔

ایک خیال یہ بھی ہے کہ اسکرین کے سامنے کھانے سے خوشی کا احساس دلانے والے ڈوپامائن کیمیکل کی دوگنی مقدار خارج ہوتی ہے، یعنی غذا تو یہ کیمیکل خارج کرتا ہی ہے مگر اس کے ساتھ تفریح یا لت سے بھی دماغ کو خوشی محسوس ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان دونوں کے امتزاج سے بچنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں؟

یہ کوئی راز نہیں کہ دنیا بھر میں موٹاپے کی شرح بڑھ رہی ہے اور ٹیکنالوجی کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ یہ تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ٹی وی اسکرین اور موبائل فون موٹاپے کی شرح میں تشویشناک اضافے کی وجہ ہیں، سستے پراسیس یا جنک فوڈ تک آسان رسائی، زیادہ وقت بیٹھے رہنا وغیرہ بھی اس کی وجوہات ہیں مگر اسکرین کے سامنے وقت اور جسمانی وزن کے درمیان بھی تعلق موجود ہے، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں میں۔

اس کی وجہ بھی بہت زیادہ ہے یعنی آپ اسکرین کے سامنے جتنا وقت گزاریں گے، اس کا سادہ مطلب یہی ہے کہ آپ اپنا وقت بیٹھ کر گزاریں گے، مگر اس کی ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ منتشر ذہن یا جلدبازی میں کھانے کے نتیجے میں لوگ توقع سے زیادہ کھالیتے ہیں، جب ذہنہ توجہ نہیں ہوتی تو آپ غور ہی نہیں کرتے کہ آپ نے کتنا کھالیا یا کتنی تیزی سے کھارہے ہیں، جس کے نتیجے میں پیٹ بھرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔

اس کے مقابلے میں توجہ کے ساتھ غذا سے لطف اندوز ہونا دن کے باقی حصے میں کم کیلوریز جزوبدن بنانے میں بھی مدد دیتا ہے، جیسے اس طرح ناشتا کرنا دوپہر یا رات کو کم کھانے پر مجبور کرسکتا ہے۔

ہوشیار ذہن کے ساتھ کھانا کیسے مدد فراہم کرتا ہے؟

سائنسدانوں کے خیال میں توجہ مرکوز کرکے کھانا بے خیالی میں کھائے جانے سے لڑنے مٰں مدد دے سکتا ہے، کیونکہ توجہ مرکوز کرنے پر آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ کیا غذا کھا رہے ہیں، کتنی مقدار میں کھارہے ہیں اور اس پر کتنا وقت لگا۔

اس طرح کھانا پہلے تو غذائی عادات کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے اور بعد ازاں صحت کے لیے مختلف فوائد جیسے جسمانی وزن میں کمی، بھوک اور پیٹ بھرنے کے احساس کی شناخت، جذباتی تناﺅ میں منہ چلانے کی عادت پر کنٹرول وغیرہ ہوسکتے ہیں۔

اس کو کیسے اپنائیں؟

اس کا طریقہ کار بہت آسان ہے، بس اپنی غذا پر توجہ مرکوز کریں مگر پھر بھی یہ بہت ممشکل بھی ہے کیونکہ اسکرین کی کشش کے خلاف مزاحمت آسان نہیں، تاہم اسے اپنانے کے لیے چند ٹپس کو آزما سکتے ہیں۔

کھانے کے وقت فون کو اپنی نظروں سے دور کہیں رکھ دیں۔

ایسے کمرے میں کھائیں جہاں ٹی وی یا کمپیوٹر نہ ہو۔

یہ گننے کی عادت ڈالیں کہ ایک نوالہ کتنی بار چبایا، جس سے بھی توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملے گی۔

آرام سے کھائیں اور کھانا اچھی طرح چبا کر نگلیں، ایک نوالہ کھانے کے بعد چند سیکنڈ کا انتظار کریں۔

جب لال بیگوں کے خاندان نے ایک شخص کے کان میں گھر بنالیا

کان میں درد کا سامنا تو اکثر افراد کو ہوتا ہے مگر چین میں ایک شخص کو اس تکلیف کاسامنا جس وجہ سے ہوا وہ اکثر لوگوں کی نیندیں اڑانے کے لیے کافی ہے۔

فاکس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق لو نامی شخص ایک صبح کان کے شدید درد کے ساتھ بیدار ہوا جبکہ اسے مسلسل خارش بھی ہورہی تھی۔

اور جب اس نے خاندان کے افراد سے کہا کہ کان کے اندر روشنی ڈال کر دیکھیں تو بھیانک خواب جیسی وجہ دریافت ہوئی، ایک بڑا لال بیگ کان کے اندر رہ رہا تھا۔

اس دریافت نے مریض کے ہوش اڑا دیئے اور اس نے کان میں رہنے والے اس کیڑے سے نجات کے لیے طبی امداد لینے کا فیصلہ کیا۔

مگر ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد جو مزید حقائق دریافت کیے، اس نے ان کو بھی دنگ کرکے رکھ دیا۔

درحقیقت کان میں ایک لال بیگ نہیں تھا بلکہ ان کیڑوں کا پورا خاندان وہاں رہ رہا تھا کیونکہ ‘ 10 سے زائد بچے بھی یہاں وہاں دوڑ رہے تھے’۔

لو کا علاج کرنے والے ڈاکٹر زونگ یاجن نے نیویارک پوسٹ کو بتایا ‘مریض کا کہنا تھا کہ اس کا کان بہت زیادہ تکلیف کررہا ہے، جیسے کوئی اندر سے کھرچ رہا ہو یا رینگ رہا ہو، جس سے وہ بہت زیادہ پریشان تھا’۔

انہوں نے بتایا ‘مریض نے بتایا کہ اس کے گھروالوں نے روشنی سے اندر کچھ دیکھا جو کسی بڑے کیڑے جیسا تھا، ہم نے جب معائنہ کیا تو جو چیز سامنے آئی، اس نے دنگ کردیا کیونکہ کان کے اندر لال بیگ کے بچے اور ان کی ماں موجود تھے’۔

ڈاکٹر نے پہلے چمٹی سے ‘بچوں’ کو نکالا اور پھر ان کی ‘ماں’ کو بھی اسی طریقہ کار کی مدد سے نکال باہر کیا۔

فوٹو بشکریہ فاکس نیوز
فوٹو بشکریہ فاکس نیوز

اس چینی شخص کی حالت اب بہتر ہے اور اسے کلینک سے گھر جانے کی اجازت مل گئی ہے۔

ڈاکٹر کے خیال میں یہ شخص ممکنہ طور پر بچا ہوا کھانا اپنے سونے کے مقام کے قریب چھوڑ دیتا ہوگا، جس کے نتیجے میں لال بیگ اس کے کان میں داخل ہوئے اور اسے اس مسئلے کا سامنا ہوا۔

Google Analytics Alternative