صحت

بارشوں میں بیماریوں سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

پاکستان میں ان دنوں بارشوں کا سیزن چل رہا ہے اور رواں ہفتے کے شروع ہوتے ہی ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی سمیت کئی شہروں اور علاقوں میں برسات ہوئی۔

ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشیں بھی ہوئیں جب کہ ملک بھر میں مناسب صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بارشوں کے بعد بدبو اور تعفن پھیلنے کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس سے کئی لوگوں کو صحت کے مسائل ہونا شروع ہوگئے۔

بارشوں کے موسم میں عام افراد کو نزلہ، زکام، بخاراور سر درد جیسی شکایات ہوجاتی ہیں جب کہ کم عمر افراد اور بچوں کو الٹی، موشن، بخار اور اسہال جیسے مسائل ہوجاتے ہیں۔

اگرچہ بارشوں کے کم ہونے سے ان امراض میں بھی کم آجاتی ہے، تاہم اگر بارشوں کے دوران چند حفاظتی انتطامات کیے جائیں تو ان بیماریوں اور مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔

گھر کے ارد گرد صفائی رکھیں

بارشوں کے بعد جہاں گھر میں پانی جمع ہونے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، وہیں گھر کے ارد گرد پھیلی گندگی سے بھی مسائل پوتے ہیں۔ علاوہ ازیں بارشوں کے دوران باہر سے گھر میں داخل ہونے والے افراد بھی جوتوں کے ذریعے بیماریوں کے وائرس گھر کے اندر لے آتے ہیں، اس لیے ایسے میں اگر بارشوں کے دوران گھر سمیت ارد گرد کی صفائی کا خیال رکھا جائے تو بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔

بارشوں کے دوران گھر کے دروازے پر فٹ ویئر رکھنے سے بھی فائدہ ہوگا اور باہر سے آنے والے افراد کے پاؤں کے ذریعے گھر میں وائرس داخل نہیں ہوں گے۔

ہری سبزیوں اور سلاد کا استعمال ترک کردیں

بارشوں کے موسم میں ہرے پتوں والی سبزیوں سمیت سلاد کو کھانے سے گریز کیا جائے، کیوں کہ بارشوں کی وجہ سے تازہ سبزیوں میں وائرس اور گندگی شامل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

سادہ یا نیم گرم پانی استعمال کریں

نیم گرم پانی، لیموں۔ چائے اور کافی کا استعمال کیا جائے—فوٹو: شٹر اسٹاک
نیم گرم پانی، لیموں۔ چائے اور کافی کا استعمال کیا جائے—فوٹو: شٹر اسٹاک

بارشوں کے موسم میں نزلہ، زکام، تھکاوٹ اور بخار جیسے مسائل شروع ہوتے ہی سادہ یا نیم گرم پانی میں تھوڑے سا نمک شامل کرکے استعمال کرنا بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

ایسے موسم میں سیب کا سرکہ بھی مسائل سے چھٹکارہ دلوانے میں مددگار ہوتا ہے۔

چائے، کافی اور نیم کے پتوں کا استعمال

بارشوں کے موسم میں اگر نضام ہاضمہ کو بہتر رکھا جائے تو کئی بیماریوں اور مسائل سے بچا جا سکتا ہے اور نضام ہاضمہ کو بہتر بنانے کے لیے تازہ پھلوں کو پانی میں دھونے کے بعد استعمال کرنے سمیت چائے، کافی اور نیم کے پتوں کو گرم کرکے استعمال کیا جائے تو کافی اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

احتیاط علاج سے بہتر ہے

بارشوں کے موسم میں سب سے اچھا قدم احتیاط ہوتا ہے، ایسے موسم میں باہر کی غذائیں کھانے سے گریز کیا جائے، زیادہ کیچڑ اور گندگی سے بچنے کے لیے گھر میں ہی رہنے کو ترجیح دی جائے۔

کم مقدار میں، مناسب اور ہلکی پھلکی غذاؤں کو استعمال کیا جائے، بچوں کو بارش اور گندگی سے بچایا جائے۔


نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے، طبیعت خراب ہونے پر اپنے معالج سے رجوع کریں۔

شہد اور لیموں کا امتزاج صحت کے لیے کتنا فائدہ مند؟

شہد اور لیموں دونوں لگ بھگ ہر گھر میں موجود ہوتے ہیں جو غذاﺅں اور مشروبات کا ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ شہد اور لیموں ہر گھر میں پائے جانے والی عام چیزیں ہیں مگر ان کو ملا کر استعمال کرنے کے فوائد آپ کو معلوم ہیں؟

درحقیقت یہ آپ کو متعدد طبی فوائد پہنچانے کا باعث بنتا ہے، جیسے شہد چینی کا قدرتی متبادل ہے اور صحت کو مختلف فوائد پہنچاتا ہے۔

اسی طرح لیموں کا استعمال بھی صحت کے فائدہ مند ہوتا ہے اور ان دونوں کو پانی میں ملانا جادوئی اثرات مرتب کرتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی لانے میں مددگار

لیموں اور شہد ملا پانی جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے، مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ زیادہ مقدار میں پانی پینا میٹابولزم تیز کرتا ہے اور پیٹ کو دیر تک بھرے رکھتا ہے، یہ دونوں عناصر اضافی وزن میں تیزی سے لانے میں مدد دیتے ہیں۔ شہد اور لیموں کا پانی استعمال بھی یہی فائدہ پہنچاتا ہے، کیونکہ یہ جسم کو ہائیڈریشن پہنچا کر اضافی چربی گھلاتا ہے، خصوصاً کھانے سے پہلے اس مشروب کا استعمال کم کیلوریز جزو بدن بنانے میں مدد دیتا ہے۔

موسمی بیماریوں سے بچائے

شہد اور لیموں میں موجود اجزا عام موسمی بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، جیسے لیموں میں موجود وٹامن سی مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے جبکہ خون کے سفید خلیات کو بننے میں مدد دیتا ہے، جس سے جسم انفیکشن سے لڑتا ہے، دوسری جانب شہد میں موجود اجزا سانس کی نالی کے انفیکشن سے لڑنے میں مدد دیتا ہے، جیسے گلے کی خراش وغیرہ۔

نظام ہاضمہ کے لیے مفید

مناسب مقدار میں پانی پینا نظام ہاضمہ کو صحت مند رکھتا ہے، جبکہ پانی کی کمی قبض کا باعث بنتی ہے، لیموں اور شہد ملا پانی کا استعمال قبض کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ یہ بچوں کے لیے بہت ائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

گردوں کے امراض سے بچانے میں مددگار غذائی عادات

گردے ہمارے جسم میں گمنام ہیرو کی طرح ہوتے ہیں جو کچرے اور اضافی مواد کو خارج کرتے ہیں جبکہ یہ نمک، پوٹاشیم اور ایسڈ لیول کو بھی کنٹرول کرتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر معمول پر رہتا ہے، جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار بڑھتی ہے اور خون کے سرخ خلیات بھی متوازن سطح پر رہتے ہیں۔

مگر گردوں کے امراض کافی تکلیف دہ اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

اگر گردوں کے مسائل کو علاج نہ کرایا جائے تو اس عضو کے افعال بتدریج ختم ہونے لگتے ہیں۔

تاہم اپنی غذائی عادات میں چند عام تبدیلیوں کو اپنا کر آپ گردوں کی صحت کو بہتر بناسکتے ہیں۔

سافٹ ڈرنکس سے گریز

سوڈا یا کاربونیٹ مشروبات متعدد طریقوں سے صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں، ان مشروبات میں چینی بہت زیادہ ہوتی ہے جو فوری جسمانی توانائی تو فراہم کرتی ہے مگر طویل المعیاد بنیادوں پر صحت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ مشروبات گردوں کے لیے بھی نقصان دہ ہوتے ہیں، اس کی جگہ صحت بخش مشروبات جیسے لیموں کا پانی زیادہ بہتر انتخاب ہے یا ناریل کا پانی بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

نمک کی مقدار پر نظر رکھیں

بہت زیادہ نمک کا استعمال گردوں کے مسائل کی بنیادی وجہ بنتا ہے، گردوں کے مریضوں کو بہت کم مقدار میں نمک کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، اگر آپ اپنے گردوں کو زندگی بھر امراض سے بچانا چاہتے ہیں تو اعتدال میں رہ کر نمک کا استعمال کرنا چاہیے۔

پراسیس غذاﺅں سے اجتناب

پراسیس غذائیں یعنی چربی، نمک اور چینی سے بھرپور غذا کسی بھی طرح صحت کے لیے فائدہ مند نہیں، اگر آپ گھر کے کھانے کی بجائے باہر سے جنک فوڈ کو ترجیح دیتے ہیں، تو متعدد امراض کو دعوت دے رہے ہوتے ہیں۔ پراسیس غذاﺅں میں نقصان دہ چربی کی بھرمار ہوتی ہے اور اس طرح کی غذا کا بہت زیادہ استعمال دل، ہاضمے اور گردوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔

پانی کا استعمال بڑھائیں

پانی کا استعمال گردوں کی صحت پر بہت زیادہ اثرانداز ہوتا ہے، مناسب مقدار میں پانی پینا جسم سے زہریلے مواد کو خارج کرتا ہے، یعنی پانی کا زیادہ استعمال گردوں کے امراض کا خطرہ کم کرتا ہے، سادہ پانی سے لے کر ناریل کے پانی تک، اپنی پسند کے سیال کا انتخاب کریں جو گردوں کے افعال کو بھی بہتر کرے گا۔

پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال

پھلوں اور سبزیوں میں متعدد غذائی اجزا پائے جاتے ہیں جو گردوں کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتے ہیں، پھلوں اور سبزیوں میں نمکیات کی شرح بہت کم ہوتی ہے جبکہ کچھ پھل اور سبزیاں جیسے گوبھی، انگور، شملہ مرچ، پیاز، مولی اور انناس وغیرہ گردوں کی صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

خوشگوار زندگی گزارنے والے جوڑوں کی عام عادات

شادی کی تقریب کا موقع ہر کسی کی زندگی کا اہم ترین دن ہوتا ہے کیوں کہ وہ ہمیشہ یاد رہتا ہے اور اس کے لیے وہ ہر طرح کی تیاریاں بھی کرتا ہے۔

مگر کیا کوئی دلہا یا دلہن شادی کے بعد کی زندگی کے لیے کوئی منصوبہ بندی کرتے ہیں؟ ایسا اکثر نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ کچھ ماہ یا سال بعد یہ تعلق زندگی کا ایسا حصہ بن جاتا ہے جس میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے۔

شریک حیات کے ساتھ زندگی کو بانٹنا اطمینان بخش ہونے کے ساتھ چیلنج ثابت ہونے والا تجربہ بھی ہوتا ہے، کیونکہ کوئی بھی بات محبت کو بڑھانے یا ایک دوسرے سے علیحدگی کا باعث بن جاتی ہے۔

درحقیقت صرف محبت نہیں اور بھی بہت کچھ اس رشتے کو مضبوط اور خوشگوار بنانے میں مدد دیتا ہے۔

تو جانیں کہ اچھی ازدواجی زندگی گزارنے والے جوڑوں کے راز یا عادات کیا ہوتی ہیں اور ان میں سے صرف 3 بھی آپ میں موجود ہے تو شریک حیات سے تعلق میں کامیابی کا امکان بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔

کم از کم ایک مشغلے سے اکھٹے لطف اندوز ہونا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ہر فرد کی اپنی ذاتی پسند ہوتی ہے جس کے مطابق وہ مشاغل کو اختیار کرتا ہے، مگر شادی کے بعد ضروری ہے کہ جوڑا کسی ایک مشغلے سے اکھٹے لطف اندوز ہوسکے، جیسے کوئی خاص کھیل یا اکھٹے فلمیں دیکھنا، کوئی بھی ایک سرگرمی منتخب کریں اور اس پر عمل شروع کردیں۔ یہ ضروری ہے کہ میاں بیوی دونوں اس مشغلے کو اپنے معمولات کا حصہ بنائے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ تفریح کے ساتھ ایک ساتھ اچھا وقت گزاریں۔

ایک دوسرے کی حدود کا احترام کرنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

خوش باش جوڑوں میں بہت زیادہ قربت ہوتی ہے، مگر وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ حدود سے قدم باہر نہیں نکالنا چاہیے، اپنے شریک حیات کی حدود کا خیال رکھنا اچھے تعلق کی بنیاد ثابت ہوتا ہے، اگر آپ شریک حیات کو دبا کر رکھیں گے تو یہ دونوں کی زندگی میں زہر گھولنے جیسا ہوگا۔

اکھٹے گھومنے کے لیے وقت نکالنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

یہ ضروری نہیں کہ اس کے لیے شہر سے باہر کسی پرفضا مقام کا رخ کیا جائے، درحقیقت ہفتہ وار تعطیل پر بھی کسی جگہ گھومنے چلے جانا بھی تعلق کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔ ایسا کرنے سے ایک دوسرے کے ساتھ اچھا وقت گزارنے میں مدد ملتی ہے، روزمرہ کے خدشات اور ممکنہ لڑائی سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ کچھ دیر کی یہ تبدیلی تازہ دم بنانے کے لیے یہ کافی ثابت ہوتی ہے۔

ایک دوسرے سے لڑ کر بستر پر جانے سے گریز

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر ممکن ہو تو لڑائی کے بعد مسئلے کو اسی وقت حل کرنے کی کوشش کریں، اس کو بوتل کی طرح بند کرنے سے گریز کریں اور معاملات کو خود حل کریں۔ اگر آپ معاملات نظرانداز کرنے کے رویے کا اظہار کرتے ہیں، تو اس سے تعلق خراب ہوتا ہے۔ باشعور جوڑے ایک دوسرے کے مسائل پر بات کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف کینہ نہیں رکھتے، ایسا کرنے سے دماغی صحت بھی ٹھیک رہتی ہے۔

دن میں کم از کم ایک بار محبت کا اظہار

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

ایک دوسرے سے تعلق میں یہ لازمی ہے کہ آپ دونوں ایک دوسرے تک اپنے جذبات پہنچا کر بتائیں کہ شریک حیات آپ کی زندگی میں کیا اہمیت رکھتا ہے۔ محبت کا اظہار اور زندگی میں اس کی اہمیت کو سراہنا قربت کو مزید بڑھاتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ اپنے جذبات کا اظہار گرمجوشی سے کریں اور یہ خالی الفاظ محسوس نہ ہو۔

ایک دوسرے کی خودمختاری کو یقینی بنانا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

مشاغل اور دلچسپیاں شیئر کرنا تو ازدواجی زندگی میں ضروری ہوتا ہے مگر ایک دوسرے کی خودمختاری کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے۔ شریک حیات کی خودمختاری کو تسلیم کرنا چاہیے اور یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ آپ کے بغیر وہ کچھ نہیں، یہ صحت مند تعلق کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ یہ تسلیم کریں کہ آپ کا شریک حیات اپنی جگہ منفرد شخصیت کا حامل ہے، جس سے تعلق بھی درست سمت میں گامزن رہتا ہے۔

ایک ساتھ کھانا کھائیں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

روزمرہ کے معمولات میں اگر یہ ممکن نہیں کہ ہر وقت کا کھانا ایک ساتھ کھاسکیں،تو کم از کم دن میں ایک وقت کا کھانا اکھٹے کھانے کی کوشش ضرور کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ سے لطف اندوز بھی ہوں۔ ایسا نہیں کہ بس ساتھ تو بیٹھ گئے مگر اپنے فون میں گم ہوگئے، ایک دوسرے کو پوری توجہ دیں، دن کی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھیں یا جو بھی دل کرے بات کریں۔ شریک حیات کے ساتھ کبھی بھی اکھٹے وقت گزارنا اچھا ہی ثابت ہوتا ہے۔

ایک دوسرے کے خوابوں کو سپورٹ کریں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

شریک حیات کی توقعات اور خوابوں کو پورا کرنے میں تعاون کرنا ایک دوسرے سے محبت بڑھاتا ہے، خوش باش جوڑے ایک دوسرے کی خواہشات کے بارے میں سنتے ہیں اور ایک دوسرے کو سراہتے بھی ہیں۔ وہ اس وقت ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں جب حالات اور وقت مخالف ہوجاتے ہیں۔

باہمی اعتماد

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اعتماد کے بغیر تعلق کچھ وقت کے بعد ٹوٹ جاتا ہے، اگر آپ حاسد اور قابض پسند شخصیت رکھتے ہیں تو تعلق خراب ہونے سے پہلے ان مسائل کو دور کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اگر شریک حیات آپ کو زیادہ پریشان کررہا ہے تو صورتحال کا تجزیہ کرکے حالات بہت بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ایک دوسرے کے کاموں میں مدد

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

گھر کے کام ایک فرد پر چھوڑ دینا زیادہ اچھا خیال نہیں، کیونکہ وہ فرد سمجھ سکتا ہے کہ سب بوجھ اس پر لاد دیا گیا ہے، جس سے رشتے میں توازن باقی نہیں رہتا۔ ضروری نہیں کہ گھر کے ہر کام کو اکھٹا کریں، مگر کچھ حد تک مدد کرنا بھی تعلق کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر صرف ایک بار بھی ایسا کیا جائے تو دوسرے کے لیے ایسا پیغام ہوگا کہ آپ نے اس کے اندر کی آواز سنی اور یاد رکھی۔

چھوٹی چھوٹی چیزیں زندگی خوشگوار بناتی ہیں

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

بڑے تحائف یا اقدامات پرجوش اور رومانوی ہوسکتے ہیں، مگر ضروری ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے ایک دوسرے کو سراہیں، جیسے کوئی ضرورت کی چیز بطور تحفہ دے دیا، چائے یا ناشتہ بنا کر دے دینا، گھر میں کسی جگہ ایک نوٹ پر لکھ دینا کہ شریک حیات کتنا ہے اور محبت کا اظہار کرنا، شریک حیات کا پسندیدہ ٹی وی شو اکھٹے دیکھنا وغیرہ۔

شریک حیات کے پیاروں کے کام آنا

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

شادی کا تعلق صرف دو افراد کے درمیان نہیں بلکہ دو خاندانوں کے درمیان ہوتا ہے اور شوہر ہو یا بیوی، ان کی زندگی میں چند ایسے افراد ضرور ہوتے ہیں جو بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کے کام آنے کی کوشش کریں تاکہ شریک حیات بھی خوش رہے۔

پودینہ آدھے سر کے درد کا مؤثر علاج

پودینہ کھانا تو ویسے ہی صحت کے لیے کافی فائدہ مند مانا جاتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ سردرد کی شکایت کو بھی دور کرسکتا ہے؟

وہ افراد جو میگرین کا شکار ہیں یا جن کے سر میں اکثر و بیشتر درد رہتا ہے، وہ یقیناً اس بات سے اتفاق کریں گے کہ سردرد ہونے کے بعد ان کی روز مرہ کی زندگی کس حد تک متاثر ہوتی ہے۔

تاہم اب سامنے آئی ایک تحقیق میں سردرد سے نجات کا نہایت آسان نسخہ سامنے آگیا ہے۔

جاپان کی ایک یونیورسٹی نے تحقیق کے بعد انکشاف کیا کہ شدید سر درد یا میگرین کی صورت میں پودینے کا جیل لگانے سے تکلیف کم یا ختم ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ماضی میں بھی ایک امریکی تحقیق سامنے آئی تھی جس میں پودینے کے جیل کے استعمال اور اس کے اثرات کا مشاہدہ شہریوں پر کیا گیا تھا۔

ان افراد میں سے 7 افراد کا درد مکمل طور پر ختم ہوا تھا جبکہ 13 کے درد میں کمی آئی البتہ 5افراد کو کسی قسم کا افاقہ نہیں ہو سکا تھا۔

اس تحقیق کے بعد ایک جیل متعارف بھی کروایا گیا جس کو ‘اسٹاپ پین’ (Stopain) کا نام دیا گیا تھا۔

سر درد یا میگرین کے دورے کے دوران جیل گردن کے پچھلے حصے پر لگانے سے درد کم کرنے میں بہت حد تک مدد ملتی ہے۔

آدھے سر کے درد یعنی میگرین کے لیے مینتھول جیل انتہائی موثر ثابت ہوتا ہے اور اس کو سر کا درد کم کرنے میں مؤثر پایا گیا ہے۔

ذہنی تناؤ سے نجات حاصل کرنے کا بےحد آسان حل

آج کل تقریباً ہر گھر میں کوئی ایک شخص تو ایسا ضرور موجوود ہے جو ذہنی تناؤ کا شکار ہے، تاہم اب اس سے نجات حاصل کرنے کا ایک نہایت آسان طریقہ بھی سامنے آگیا ہے۔

اگر تو آپ چیونگم چبانے کے شوقین ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ یہ عادت ذہنی تناﺅ میں کمی لانے کا باعث بنتی ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ لوگ جتنا زیادہ چیونگم کو چباتے ہیں اتنا ہی ان کے ذہنی تناﺅ میں کمی آتی ہے۔

تحقیق کے دوران 19 مرد و خواتین رضاکاروں پر تجربات کرتے ہوئے ان کے ذہنی تناﺅ کا جائزہ چیونگم چبانے سے قبل اور بعد میں لعاب دہن کے ذریعے کیا گیا۔

تجربے سے معلوم ہوا کہ صرف تین منٹ تک چیونگم کو بھرپور طریقے سے چبانا ایسے ہارمونز کی شرح کم کرتا ہے جو تناﺅ کا باعث بنتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ چیونگم کو دس منٹ تک چبانے سے ایک جز catecholamines کی تعداد بڑھتی ہے۔

واضح رہے کہ یہ جز اس وقت جسم سے خارج ہوتا ہے جب کوئی فرد ذہنی تشویش یا تناﺅ کا شکار ہوتا ہے اور یہ اس میں کمی لانے کا کام کرتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج دلچسپ رہے اور یہ معلوم ہوا کہ اسے چبانا تناﺅ میں کمی لاتا ہے اور یہ ایسا فوری طور پر ہوتا ہے۔

محققین اس حوالے سے مکمل یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ چبانا تناﺅ کی سطح پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے مگر ان کے خیال میں چبانے سے جبڑے حرکت مین آنے کا عمل دماغ کے لیے خون کا بہاﺅ بڑھاتا ہے اور اس کے کچھ حصے مختلف انداز سے کام کرنے لگتے ہیں۔

اسی طرح ان کا ایک خیال یہ بھی ہے کہ چیونگم سے دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھتی ہے جس سے دماغ کو زیادہ آکسیجن پہنچتی ہے۔

یہ تحقیق طبی جریدے جرنل آف پروستھوڈونٹک ریسرچ میں شائع ہوئی۔

دہی کھانے کے شوقین افراد اس کے یہ فوائد جانتے ہیں؟

دہی دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی مقبول ترین غذاﺅں میں سے ایک ہے۔

بیشتر افراد اسے اصل شکل یعنی کچھ تیکھے ذائقے کے ساتھ استعمال کرتے ہیں، جبکہ یہ فروٹ فلیورز کی شکل میں میٹھا بھی دستیاب ہوتا ہے۔

دہی کو میٹھی یا نمکین لسی کی شکل میں بھی استعمال کیا جاتا ہے جو کہ بہت مقبول، صحت مند اور جسم ٹھنڈا کرنے والا مشروب ہے، اسی طرح کھانوں کے ساتھ رائتے کی شکل میں بھی کھایا جاتا ہے۔

موجودہ دور میں فروزن دہی بھی کافی پسند کیا جارہا ہے۔

اگر آپ جسمانی طور پر پتلے اور اسمارٹ رہنا چاہتے ہیں اور جِم جانے کے لیے وقت نکالنا مشکل لگتا ہے یا کسی مخصوص غذا تک محدود رہنا چاہتے ہیں تو دہی کو کھانا معمول بنالینے سے مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔

یہ وٹامنز، پروٹین، کیلشیئم، پوٹاشیم، فاسفورس اور زنک سے بھرپور ہوتا ہے۔

مگر بہت کم افراد کو ہی دہی کے متعدد چھپے ہوئے فوائد کا علم ہوتا ہے، درحقیقت یہ ایسی چیز ہے جو ہماری غذا کا لازمی حصہ ہونا چاہئے۔

تو اس کے فوائد کیا ہیں؟

بلڈ پریشر کو مستحکم رکھے

کیا آپ بلڈ پریشر کے اوپر نیچے جانے سے فکر مند ہیں جو صحت مند زندگی کو متاثر کررہا ہے؟ اگر ہاں تو ڈاکٹروں اور محققین کا آزمودہ نسخہ دہی بلڈ پریشر کو مستحکم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

نمک کا زیادہ استعمال اکثر اوقات ہمارے جسم کو امراض قلب، گردوں کے مسائل یا فشار خون کے لیے آسان شکار بنا دیتا ہے۔ جسم میں موجود اضافی نمک میں کمی لانے کے لیے مناسب مقدار میں پوٹاشیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ 8 اونس دہی میں لگ بھگ 600 ملی گرام پوٹاشیم موجود ہوتا ہے جو ہمارے جسم کے لیے مختلف امراض کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

ہڈیاں مضوط بنائے

وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے جسم کو متعدد اجزاء کی کمی کا سامنا ہوتا ہے، ان سب میں کمزور ہڈیاں تمام درمیانی عمر کے مردوں اور خواتین کے لیے خطرہ ثابت ہوتی ہیں۔ اس سنگین عارضے کی روک تھام اور اپنی بڑھتی عمر میں بھی چاق و چوبند رہنے کے لیے دہی زبردست کام کرتا ہے جس کی وجہ اس میں شامل وٹامن ڈی اور کیلشیئم ہے۔ نیویارک کے ہیلن ہیز ہاسٹل کے ڈائریکٹر جیری نیویز کے مطابق اگر آپ کو جوڑوں میں درد یا اکڑن کا سامنا ہو تو دہی کو اپنی روزمرہ کی غذا کا حصہ بنانے کی کوشش کریں، آپ خود ہی فرق محسوس کریں گے۔

نظام ہاضمہ کے مسائل دور کرے

دہی کا ایک اور فائدہ نظام ہاضمہ کو بہتر بنانا ہے۔ دہی میں ایک خاص جز ‘پروبائیوٹک’ شامل ہوتا ہے جس کے بارے میں ہوسکتا ہے آپ نے کسی نیوٹریشن سے سنا بھی ہو۔ ایک نیوٹریشن ایکسپرٹ روبن پلاٹکن کے مطابق دہی میں شامل یہ جز غذا کو زیادہ بہتر طریقے سے ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے اور ہم صحت مند رہتے ہیں۔

جلد صاف کرے

ہموار جلد کے لیے مختلف کریموں اور لوشن استعمال کرکے بیزار ہوچکے ہیں؟ تو آپ کو حیرت ہوگی کہ دہی بھی شفاف اور ہموار جلد کے لیے زبردست نسخہ ثابت ہوسکتا ہے اور مہنگی کاسمیٹکس سے آپ کی جان بھی چھوٹ جائے گی۔

آپ کو چار چمچ دہی کی ضرورت ہوگی جس میں دو سے تین قطرے بادام یا زیتون کے تیل اور ایک چائے کے چمچ شہد کو شامل کرنا ہوگا۔ ان چیزوں کو اچھی طرح ملائیں اور چہرے پر پندرہ منٹ کے لیے لگارہنے دیں۔ اپنے چہرے کو دھونے کے بعد آپ خود شفاف جلد کو محسوس کریں گے جو جھریوں اور تیل سے پاک ہوگی۔

بڑھتی بھوک پر قابو پانے میں مدد

واشنگٹن یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دہی ہمارے اندر زیادہ کھانے کی خواہش کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، جبکہ یہ ہمارے اندر توانائی کا احساس بھی بڑھاتا ہے۔

جسمانی دفاعی نظام بہتر بنائے

ویانا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی کہ دہی ہمارے جسمانی دفاعی نظام کے افعال کو بہتر بنانے کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ یہ خواتین کے ٹی سیلز کو مضبوط بناتا ہے، ٹی سیلز خون کے سفید خلیات کا حصہ ہوتے ہیں اور انفیکشن یا امراض کے خلاف دفاع کرتے ہیں۔

نرم بال

بالوں کی نگہداشت کے لیے دہی زبردست ہے، یہ خشکی، سر کی خارش وغیرہ کا خاتمہ کرتا ہے، اس کے نتیجے میں بال نرم اور چمکدار ہوجاتے ہیں۔ دہی کا بہترین ماسکے بنانے کے لیے آپ کو چار چمچ دہی، ایک چائے کا چمچ مسٹرڈ یا ناریل کا تیل اور آدھے انڈے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان سب چیزوں کو ملائیں اور بالوں پر لگائیں۔ اس مکسچر کو بالوں پر 30 منٹ تک کے لیے لگا رہنے دیں اور پھر دھو لیں۔ آپ کے بال نرم اور چمکدار ہوجائیں گے۔

بریسٹ کینسر کے علاج کا سب سے آسان اور سستا طریقہ دریافت

امریکی ماہرین نے بریسٹ کینسر کے علاج کے لیے ایک نیا اور سب سے آسان اور سستا طریقہ دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی یونیورسٹی ’جانز ہاپکنز‘ کے ماہرین نے بریسٹ کینسر کے علاج کے لیے کولڈ ڈرنکس سمیت دیگر مشروبات میں استعمال ہونے والے کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کو استعمال کرکے علاج کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سائنس جرنل ’پلوس ون‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسا آلہ تیار کیا ہے جس میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی بھاری مقدار موجود ہوتی ہے اور یہ آلہ بریسٹ کینسر کے ٹیومر کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ان کی جانب سے تیار کیے گئے آلے سے بریسٹ کینسر کے ٹیومر ختم نہیں ہوتے بلکہ ٹیومر جم جاتے ہیں جو آہستہ آہستہ خود بخود ختم ہوجاتے ہیں۔

کاربن ڈائی آکسائڈ سے کینسر کے ٹشوز کو منجمند کرکے وائرس کو ختم کیا جا سکتا ہے، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک
کاربن ڈائی آکسائڈ سے کینسر کے ٹشوز کو منجمند کرکے وائرس کو ختم کیا جا سکتا ہے، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک

ماہرین کا کہنا تھا کہ چوں کہ کاربن ڈائی آکسائڈ دنیا بھر میں آسانی سے دستیاب ہوتی ہے اور اس گیس کو چیزوں کو گرم کرنے سمیت ٹھنڈا کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اسی گیس کی بدولت انسان اور پودوں کو سانس لینے میں آسانی ملتی ہے، اس لیے اس گیس کی مدد سے بریسٹ کینسر کا علاج ممکن ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے کاربن ڈائی آکسائڈ گیس کی بھاری مقدار کو آلے میں شامل کرکے تجربات کیے اور بریسٹ کینسر کی شکار خواتین کے ٹیومر کو منفی سینٹی گریڈ کی ٹھنڈک سے منجمد کیا گیا۔

ماہرین نے دعویٰ کیا کہ بریسٹ کینسر کے ٹیومرز کو کاربن ڈائی آکسائڈ کی مدد سے انتہائی منفی سینٹی گریڈ کی ٹھنڈک سے منجمند کرکے کینسر کے جراثیم کو کمزور کیا جا سکتا ہے جو بار بار منجمد کیے جانے کے بعد خود بخود ختم ہوجاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ اس نئے طریقہ کار سے کم آمدنی اور غریب ممالک کی خواتین کو فائدہ پہنچے گا اور وہ انتہائی کم خرچ پر کینسر جیسے موضی مرض کا علاج کروا سکیں گی۔

اگرچہ ماہرین نے اس طریقے کو درست قرار دیا، تاہم انہوں نے تجویز دی کہ ابھی اس پر مزید تحقیق کرکے کام کیا جا سکتا ہے اور اس طریقے میں مزید آسانیاں پیدا کی جا سکتی ہیں۔

اس طریقے سے غریب ممالک کی خواتین کو فائدہ ہوگا، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک
اس طریقے سے غریب ممالک کی خواتین کو فائدہ ہوگا، ماہرین—فوٹو: شٹر اسٹاک
Google Analytics Alternative