- الإعلانات -

یہ ’لنگڑی بطخ کا دن‘ کیا ہے؟

 واشنگٹن: ہر سال 6 فروری کے روز امریکا اور مختلف یورپی ممالک میں ’لنگڑی بطخ کا دن‘ منایا جاتا ہے لیکن اس کا تعلق کسی لنگڑی بطخ سے ہر گز نہیں، بلکہ یہ واقعہ کچھ اور ہے۔

’لنگڑی بطخ‘ (Lame Duck) دراصل ایک معاشی اور سیاسی اصطلاح ہے جو پہلی بار اٹھارہویں صدی عیسوی کے برطانیہ میں ایجاد کی گئی۔ ان دنوں برطانوی اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز کا کاروبار کرنے والے لوگوں کی بڑی تعداد کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا اور وہ اس قابل نہیں رہے کہ اپنے قرضے واپس کرسکیں۔ ان لوگوں کو ’لنگڑی بطخ‘ کا عمومی نام دیا گیا۔

کچھ عرصے بعد ہی یہ اصطلاح ایسے منتخب عوامی نمائندوں کےلیے استعمال کی جانے لگی جن کے عہدے کی مدت ختم ہونے والی ہو، یعنی انتخابات قریب آرہے ہوں اور انہیں اپنے دوبارہ اقتدار میں آنے کی امید بھی نہ ہو۔ ان مواقع پر یہ نمائندے، چاہے وہ صدور ہوں یا وزرائے اعظم، جلد بازی میں بہت سے نقصان دہ فیصلے کردیتے ہیں تاکہ ان فیصلوں کے نتائج ان کے بعد اقتدار میں آنے والوں کو بھگتنا پڑیں اور حکومت کرنا اُن کےلیے مشکل سے مشکل تر ہوجائے۔ اختتامِ اقتدار سے ذرا پہلے کے یہ مہینے بھی ’لنگڑی بطخ کا زمانہ‘ کہلاتے ہیں۔

1933 میں امریکی آئین میں 20 ویں ترمیم کی گئی جسے ’لنگڑی بطخ کی ترمیم‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے صدر، نائب صدر اور امریکی سینیٹ کے ارکان کےلیے اقتدار کا اختتامی وقت کم کرتے ہوئے اسے مارچ سے جنوری میں منتقل کیا گیا۔

تب سے لے کر آج تک امریکا میں بھی 6 فروری کو لنگڑی بطخ کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے جس میں سیاسی جماعتوں کے حامی اور مخالفین، دونوں ہی ان کے منتخب عوامی نمائندوں کا ریکارڈ کھنگال کر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہیں ان منتخب عوامی نمائندوں نے ایسے فیصلے تو نہیں کیے کہ جن سے امریکی عوام کو نقصان پہنچے یا وہ فیصلے صرف ان لوگوں نے اپنے مخصوص حلقے کو فائدہ پہنچانے کےلیے کیے ہیں۔

تو جناب! یہ تھا ’لنگڑی بطخ‘ کا دن۔ امید ہے کہ آئندہ آپ کو جب بھی کوئی لنگڑی بطخ نظر آئے گی، تو ساتھ ہی ساتھ اقتدار کے زور پر کرپشن کے مزے لوٹنے والے حکمرانوں کا خیال بھی ضرور آئے گا۔