قومی

پاکستان کا بھارتی ہائی کمشنر کو ملک چھوڑنے کا حکم

اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے  بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم دے دیا۔

پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے جب کہ پاکستان نے اپنے ہائی کمشنر کو نئی دلی نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان کے نئے ہائی کمشنر امین الحق کو 16 اگست کو بھارت جانا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ بھارتی ہائی کمشنر کو نکالنے سے متعلق بھارت کو آگاہ کردیا ہے، پاکستانی ہائی کمشنر بھی بھارت نہیں جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان ہائی کمشنر کی واپسی سے ہائی کمیشن کے اختیارات کومحدود کردیاجائے گا ، البتہ و اہگہ بارڈر کو مکمل طور پر بند نہیں کیاجائے گا، واہگہ بارڈر پر پیدل کراس کرنے والے دونوں ممالک کے شہریوں کو اجازت ہوگی جب کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان دوستی بس بدستور چلتی رہے گی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے بھارت کے ساتھ تمام جاری منصوبوں اور معاہدوں کو معطل کردیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فضائی حدود کے استعمال سے متعلق حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیاجائے گا۔

واضح رہے کہ  مقبوضہ کشمیر سے متعلق متنازع اقدام پر پاکستان نے بھارت سے دو طرفہ تجارت معطل اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہمارے سفیر اب نئی دلی میں نہیں ہوں گے اور بھارت کے سفیر کو ملک واپس جانا ہوگا۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام کے خلاف پارلیمنٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

اسلام آباد: پارلیمنٹ نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے قرارداد متفقہ منظور کرلی۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں دوسرے روز بھی جاری رہا جس میں حکومت و اپوزیشن ارکان کی جانب سے بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں غیر آئینی اقدام پر شدید مذمت کی گئی۔

پارلیمنٹ کا کشمیریوں کی مکمل حمایت کا اعادہ

قرارداد میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے جب کہ  بھارت کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور سویلین آبادی پر کلسٹر بم استعمال کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ  کشمیر عالمی سطح پر متنازعہ علاقہ ہے، مسئلہ کشمیر کا کوئی یک طرفہ حل قبول نہیں ہے، عالمی برادری بھارت کو مقبوضہ کشمیر بارے کوئی بھی یک طرفہ فیصلہ لینے سے روکے۔

قرارداد پیش کئے جانے سے قبل ارکان پارلیمنٹ نے موجودہ صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنی سفارشات پیش کیں، وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری اور مشاہد حسین سید نے بھارت سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا۔

شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں پانچ بڑے فیصلے کیے ہیں، جن میں سے ایک پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر کے اختیارات اور سفارتی سرگرمیاں محدود کردی جائیں گی اور اب ہمارے سفیر اب نئی دہلی میں نہیں ہوں گے،ان کے سفیر کو بھی جانا ہو گا۔بھارت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کشمیر کے مسئلے پر ڈرایا جائے اور مسئلہ کشمیر دنیا کی نگاہوں سے اوجھل ہو جائے، بھارت نے 5 اگست کو جو حرکت کی اس سے خود عالمی ممالک کو سب کچھ پتا چل گیا، بھارت نے اپنے اقدام سے مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اجاگر کردیا۔

شیریں مزاری

اجلاس شروع ہوا تو وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے یو این سیکرٹری جنرل کو خط لکھا ہے، مسئلہ کشمیر پر او آئی سی کو بھی استعمال کریں گے، کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر مسلمان ممالک کیوں خاموش ہیں اور آواز کیوں نہیں اٹھارہے، ہم مسلم امہ کی بات کرتے ہیں، کدھر ہے وہ مسلم امہ جب مسلمانوں پر ظلم و تشدد ہورہا ہے، او آئی سی کو فعال کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

راجہ ظفرالحق

رہنما (ن) لیگ راجہ ظفرالحق کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی خواہش ہے کہ اسے سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بنا لیا جائے، پاکستان کو بھی اپنے فرائض پورے کرنے چاہیے تھے، یہ بدقسمتی ہے کہ داخلی مسائل میں اتنے الجھے ہوئے ہیں، اپوزیشن کو نیچا دکھانے کے لیے تمام توانائیاں صرف کی جا رہی ہیں جب کہ ہمارے دوست ممالک نے بھی اس معاملے پر کوئی جواب نہیں دیا، ترکی اور ملیشیا نے مؤثر جواب دینے کے بجائے کہا کہ گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

سراج الحق

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم قدم بڑھائیں اپوزیشن اور قوم ان کے ساتھ ہیں، اچھا ہوتا اگر حکومت تیاری کے ساتھ اجلاس بلاتی، مسئلہ کشمیر اور وہاں قیام امن سے پوری دنیا کا امن وابستہ ہے، قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، کچھ عرصہ میں ایک لاکھ کشمیری شہید ہوگئے جب کہ کشمیری اس وقت پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں، کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پوری دنیا متاثر ہوسکتی ہے، کشمیر ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔

آصف علی زرداری

سابق صدر اور شریک چئیرمین پیپلزپارٹی آصف علی زرداری نے کہا کہ مشرقی پاکستان کے بعد کشمیر کا واقعہ اتنا ہی بڑا ہے، اندرا گاندھی نے بھٹو سے کہا فوجی لے لیں یا زمین، بھٹو نے کہا زمین دیدیں، بھارتی قیادت سے ہمیں زمین واپس مل گئی، ہم مشرقی پاکستان کی جنگ ہارے، وجوہات میں نہیں جاناچاہتا۔ کیا بھارت کو نہیں معلوم پاکستان میں ٹیلر میڈ جمہوریت چل رہی ہے، معیشت ٹھیک نہیں وہ سب جانتےہیں تاہم حکومتی ٹیم کو کیا پتا بین الاقوامی تعلقات کیا ہوتے ہیں، جو آپ کر رہے ہیں اسی لیے تو آج آپ تنہا ہیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر لڑنے والے کشمیریوں پر بھی فخر ہے، کشمیری دن دہاڑے پاکستان کا پرچم سر پر باندھ کر نکلتے ہیں، واجپائی کی پارٹی اور مودی میں اختلافات پیدا ہوں گے جب کہ نہرو اور واجپائی کو سوچ کو دفن کر دیا گیا ہے۔

شیخ رشید

وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ مودی نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جو کشمیریوں کے لیے جوالہ بنے گا، اب کشمیری گھر میں نہیں بیٹھیں گے، اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے، بی جے پی نے 300 امیدواروں کو ٹکٹ دیے جن میں ایک بھی مسلمان نہیں تھا، آج بھارت کا 24 کروڑ مسلمان پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے، آرٹیکل 370 ناگالینڈ اور آسام میں لگا ہے،عنقریب حالات بدلنے جا رہے ہیں، آرمی چیف جلد چین جائیں گے جب کہ لداخ پر چین کو بھی تحفظات ہیں، تاریخ فیصلہ کرنے جا رہی ہے، کشمیر میں گلی گلی میں برہان وانی ہے۔

فواد چوہدری؛

وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ اگر ہمیں لڑنا پڑا تو لڑیں گے اور مرنا پڑا تو مریں گے لیکن بے عزتی کے ساتھ زندہ نہیں رہیں گے، کشمیریوں کے لیے کٹ مریں گے لیکن کشمیر کو فلسطین نہیں بننے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھارت نے بات ہی نہیں کرنی تو ان کا سفیر یہاں کیا کررہا ہے، ہمیں بھارت سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے چاہئیں، لڑائی ہوئی تو قوم کا بچہ بچہ فوج کے شانہ بشانہ لڑے گا، یہ تاثر نہ جائے کہ ہم لڑنے سے بھاگ رہے ہیں۔

مشاہد حسین

مشاہد حسین سید نے کہا کہ چین سے ہمارے گہرے تعلقات ہیں، چین اور ترکی کے علاوہ کسی نے ہمارا ساتھ نہیں دیا، کل وزیراعظم نے کہا میں یہ مسئلہ حل کر لوں گا، اکیلا شخص یا پارٹی کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے، اتفاق رائے سے ہی تمام مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 100 روز کے لیے ڈپلومیسی ایمرجنسی نافذ کی جائے، ہمیں اپنا سفیر واپس بلا کر بھارت کا سفیر نکال دینا چاہیے، وزارت خارجہ کو اگلے 100دنوں میں جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا، اسلام آباد میں اکھنڈ بھارت کے بینر لگ گئے، اس کا مطلب ہے اسلام آباد میں را کے ایجنٹ موجود ہیں۔

پاکستان کا بھارت سے دوطرفہ تجارت معطل اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ

 اسلام آباد: بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے پر پاکستان نے بھارت سے دو طرفہ تجارت معطل اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیرخارجہ، وزیردفاع، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ایئرچیف،  نیول چیف سمیت ڈی جی آئی ایس آئی اور دیگر نے شرکت کی، اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام کے بعد پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال پر غور کیا گیا جب کہ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کی گئی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ  بھارت سے ہر قسم کی تجارت فوری طور پر معطل اور سفارتی تعلقات محدود کیے جائیں گے۔

اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ مقبوضہ کشمیر کا معاملا اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے گا، اس کے علاوہ  14 اگست کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منانےاور 15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی پر یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب قومی سلامتی کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر کی تشویشناک صورتحال کے حوالے سے وزیر اعظم کی بنائی گئی کمیٹی کو اہم امور سونپ دئیے  ہیں، وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی بنائی گئی کمیٹی تمام قانونی امور کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کری گی،  فی الحال بھارت کے ساتھ تعلقات نچلی سطح پر لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مقبوضہ کشمیرمیں تازہ پابندیاں انسانی حقوق کی صورتحال کو مزید ابترکریں گی، اقوام متحدہ

نیویار: اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیٹی نے کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں تازہ پابندیاں خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال کو مزید ابتر کریں گی۔

ترجمان اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیٹی نے کہا ہے کہ 8 جولائی کی پورٹ میں کشمیرمیں بھارتی مظالم کا ذکرکیا تھا، جس میں بتایا تھا کہ ترجمان کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ مقبوضہ کشمیرکی انتظامیہ سیاسی مخالفین کو سزا دینے کے لیے عقوبت خانوں کا استعمال کرتی ہے، مقبوضہ وادی میں مظاہرین سے نمٹنے کے لیے ماورائےعدالت قتل کیا جارہا ہے۔

ترجمان نے بتایا ہے کہ بھارت کشمیر میں اختلاف رائے دبانے کے لیے ذرائع مواصلات بند کرتا ہے، اورذرائع مواصلات پرموجودہ پابندی کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ اس وقت مقبوضہ کشمیرکےسیاسی قائدین زیر حراست ہیں، مقبوضہ کشمیرکی ریاستی اسمبلی پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں،  پابندیوں سے مقبوضہ کشمیر کےعوام ، نمائندےجمہوری بحث میں حصہ لینے سے محروم ہو رہے ہیں۔

ترجمان اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیٹی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں تازہ پابندیاں خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال کو مزید ابترکریں گی، انسانی حقوق کمیٹی تنبیہ کرتی ہے کشمیر سے معلومات کا باہر نہ آنا باعث تشویش ہے۔

ہمارے سفیر اب نئی دہلی میں نہیں ہوں گے اور بھارتی سفیر کو بھی جانا ہوگا،وزیرخارجہ

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہمارے سفیر اب نئی دہلی میں نہیں ہوں گے،ان کے سفیر کو بھی جانا ہو گا۔

پارلیمنٹ میں خطاب سے قبل ایک انٹرویو میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کاکہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں پانچ بڑے فیصلے کیے ہیں، جن میں سے ایک پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر کے اختیارات اور سفارتی سرگرمیاں محدود کردی جائیں گی اور اب ہمارے سفیر اب نئی دہلی میں نہیں ہوں گے،ان کے سفیر کو بھی جانا ہو گا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کشمیر کے مسئلے پر ڈرایا جائے اور مسئلہ کشمیر دنیا کی نگاہوں سے اوجھل ہو جائے، بھارت نے 5 اگست کو جو حرکت کی اس سے خود عالمی ممالک کو سب کچھ پتا چل گیا، بھارت نے اپنے اقدام سے مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اجاگر کردیا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کی 5 اگست کی حرکت بڑی حماقت تھی، تاریخ بتائے گی اس فعل سے بھارت کے وفاق پر کاری ضرب لگی ہے، وقت بتائے گا یہ بھارتی اقدام کا نقصان خود اسے ہی ہوگا، راجیہ سبھا میں بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ نے قراردادیں دھوکے سے پیش کیں لیکن بھارتی اپوزیشن نے امیت شاہ کی بات سننے سے انکار کردیا، سب لوگ سمجھتے ہیں مودی سرکار نے مسئلہ کشمیر کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ کردیا ہے، پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کی تمام قیادت نے بھی اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ مودی سرکار کے ایک فیصلے نے تمام کشمیریوں کو یکجا کر دیا، مودی آج کرفیو اٹھائے اور کشمیریوں سے پوچھے کہ 5 اگست کے اقدام پر آپ پر آپ کی کیا رائے ہے ہے تو اسے پتا چل جائے گا، جو غیرقانونی فعل بھارت نے کیا اس پر بھارت میں بھی تنقید کی جا رہی ہے، محبوبہ مفتی نے اعتراف کیا کہ  ہمارے بڑوں سے تاریخی غلطی ہوئی تھی، چدمبرم نے کہا تاریخ بتائے گی 5 اگست بھارت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا، بھارت کےاندرایک قانون بحث چھڑگئی ہے اور بھارتی سپریم کورٹ میں بھی اس غلط فیصلے کے خلاف پٹیشن دائر ہو گئی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ہماری اس بھارتی اقدامات کی تیاری نہیں کی، ہمیں اندازہ ہو رہا تھا بھارت کچھ نہ کچھ کرنے جا رہا ہے، 31جولائی کو کشمیر کمیٹی کو دعوت دی جس میں تمام جماعتوں کی نمائندگی تھی، پاکستان نے یکم اگست کومسئلہ کشمیر پر پاکستان کے تحفظات اقوام متحدہ کو بھجوائے اور اقوام متحدہ کو کنٹرول لائن اور کشمیر پر مداخلت کا کہا، پاکستان کا لکھا مراسلہ سلامتی کونسل کے ہر ممبر میں تقسیم کیا گیا، ہم نے او آئی سی سے بھی رابطہ کیا انہوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا، 5اگست کو بھارت نے کچھ اقدامات کیے جن کی فی الفور مذمت کی گئی۔

وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ آج ہر کشمیری بچہ یونین کے بجائے پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے اور کشمیری  پاکستانی پارلیمان کا فیصلہ سننے چاہتے ہیں، تمام ارکین اسمبلی بشمول اپوزیشن نے ثابت کیا کہ کشمیر کاز پر ہم سب متفق ہیں، آج ہماری قرارداد بھارت کو اتحاد اور یکجہتی کا پیغام ہو گا۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے 6 نوجوان شہید اور 100 زخمی

سری نگر: قابض بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 6 کشمیری شہید اور 100 زخمی ہوگئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خود مختاری پر کاری وار کرکے مودی سرکار نے پوری وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا ہے، خصوصی حیثیت کے خاتمے کیخلاف سری نگر، پلوامہ، بارہ مولا اور شوپیاں میں کشمیری احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے اور شدید نعرے بازی کی۔

قابض بھارتی فوج نے انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نہتے اور معصوم مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کردی جس کی زد میں آکر 6 نوجوان شہید ہوگئے جب کہ 100 کشمیری زخمی ہوئے۔ زیادہ تر مظاہرین پیلٹ گولیاں لگنے کے باعث زخمی ہوئے جب کہ آنسو گیس کی شیلنگ سے شہری بے حال ہوگئے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل مودی سرکار نے آرٹیکل 35-اے اور 370 کو منسوخ کرکے کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا اور کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے بھارتی یونین کا حصہ بنا دیا تھا جس کے بعد سے تمام کشمیری رہنما گرفتار، کرفیو نافذ، نیٹ اور ٹیلی فون سروس معطل ہیں۔

بھارت نے پاکستان کے خلاف کارروائی کی تو پھر جنگ ہوگی، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جو کررہا ہے اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ 

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ بھارت نے جو فیصلہ کیا اس کے اثرات پوری دنیا پر ہوں گے، پارلیمانی اجلاس کو پوری دنیا اور کشمیری دیکھ رہے ہیں، یہاں سے بھارت نے جو غلط فیصلہ کیا اس پر بڑا مثبت پیغام جانا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جنگ و جدل کا سب سے بڑا اثر معیشت پر پڑتا ہے، ہماری حکومت کی پہلی ترجیح پاکستان سے غربت کا خاتمہ تھا، اس لیے ہم چاہتے تھے کہ پڑوسیوں سے بہتر تعلقات ہوں، پلواما واقعے کے بعد بھارت کو سمجھایا کہ پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، بھارت کا پائلٹ پکڑا ، فوری واپس کردیا کیونکہ ہمارا جنگ کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بھارت ہماری امن کی کوشش کو ہماری کمزوری سمجھ رہا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ مودی نے الیکشن مہم کے لیے ایسے حالات پیدا کیے۔ اپنے ملک میں جنگی جنون پیدا کیا تاکہ اینٹی پاکستان مہم چلاکر الیکشن جیت سکیں، ہم نے سوچا کےبھارت میں الیکشن کے بعداس سےبات کریں گے، بھارت نے پہلے سے ہی مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، بھارت نے کل جو اقدام اٹھایا وہ ان کا انتخابی منشور کا حصہ تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قائد اعظم محمدعلی جناح ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے، وہ انگریز سے آزادی چاہتے تھے لیکن بعد میں اسے ہندو راج کا علم ہوا، قائد اعظم پہلے آدمی تھے جنہوں نے بھارت کا نظریہ دیکھ لیاتھا، آج ہم قائداعظم کو سلام پیش کرتے ہیں، بھارت میں مسلمانوں کے لیے ایک تعصب ہے، آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی یہ تھی کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہوگا۔ ماضی میں پاکستان کی آزادی کو غلط کہنے والے کشمیری لیڈر آج قائد کے دو قومی نظریے کو درست سمجھ رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہا پلوامہ واقعے کے بعد بھارت نے اپنے طیارے بھیجے تو ہم نے صورت حال کو دیکھا، ہمیں پتہ چلا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تو فیصلہ کیا گیا کہ وہی کیا جائے گا جو انہوں نے کیا، اگر بھارت کے حملے میں کوئی جانی نقصان ہوا ہوتا تو پاک فضائیہ نے بھی ایسے اہداف نشانے پر رکھے تھے جس سے انہیں بھی اتنا ہی نقصان ہوتا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف کارروائی کی تو پھر جنگ ہوگی، یہ ہو نہیں سکتا کہ بھارت حملہ کرے اور اہم ان کا جواب نہ دیں، اگر ایسا ہوا تو جنگ ہوگی، اس جنگ کا نتیجہ ہمارے حق میں ہوگا یا خلاف جائے گا۔ اگر ہمارے خلاف فیصلہ آیا تو ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں ، ایک بہادر شاہ ظفر کا اور دوسرا ٹیپو سلطان کا۔ ہم بہادرشاہ ظفر کی طرح ہار مان لیں گے یا ٹیپوسلطان کی طرح آخری دم تک لڑیں گے۔

پلواما واقعے کے بعد بھارت کو باربارکہا دو ایٹمی قوتیں جنگ کی طرف نہیں جاسکتیں، کشمیر میں یہ جدوجہد اب اور شدت اختیار کرے گی، دوبارہ پلواما جیسا واقعہ ہوا تو بھارت پھر ہم پر الزام لگائے گا، سب جانتےہیں کہ پلواما واقعے میں پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے آزاد کشمیر میں کچھ کیا تو ردعمل آئے گا، اہل ایمان موت سے نہیں ڈرتا، مسلمان رب کو خوش کرنے کیلیے انسانیت کا سوچتا ہے، ہم اس لیے امن کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا دین انسانیت کا سبق دیتا ہے، اگر اب دنیا کچھ نہیں کرے گی تو اس کے سنگین  نتائج ہوں گے،میں نیوکلیئر بلیک میل نہیں  کررہا لیکن دنیا نے اس معاملے پر کچھ نہ کیا تو حالات مزید خراب ہوں گے اور سب کا نقصان ہوگا۔ ہم بھارت کے خلاف جرائم کی عالمی عدالت جانے کی تیاری کررہے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس

اسلام آباد: بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعد لائحہ عمل کی تیاری کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا جس میں ارکان اسمبلی سمیت وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر بھی شریک ہیں، وزیراعظم آزاد کشمیر نے اجلاس میں بازو پر سیاہ پٹی باندھ کر شرکت کی۔

اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے بھارت کی جانب سے ایل او سی کی خلاف ورزی اور کلسٹر بموں کے استعمال پر بحث کے لیے تحریک پیش کی تاہم تحریک میں آرٹیکل 370 کے بنیادی معاملے کو شامل نہ کرنے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج جس کے بعد اعظم سواتی نے آرٹیکل 370 کو بحث میں شامل کرنے کی ترمیمی تحریک پیش کی۔

اپوزیشن احتجاج؛

اپوزیشن کے مطالبے پر آرٹیکل 370 کے نفاذ سے پیدا شدہ صورتحال پر بحث کی تحریک منظور کرلی گئی اور اسپیکر نے بحث کے آغاز کے لئے شیریں مزاری کو مائیک دیا تاہم بحث کا آغاز اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے نہ کروانے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا جب کہ اپوزیشن نے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم کی شرکت کا بھی مطالبہ کیا۔

اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 20 منٹ کے لیے ملتوی کیا تاہم ہنگامہ آرائی کے باعث مشترکہ اجلاس کو مزید کچھ دیر کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

اپوزیشن حکومت مذاکرات؛

مشترکہ اجلاس کا ماحول بہتر بنانے کے لیے اپوزیشن اور حکومت کے اسپیکرکی موجودگی میں مذاکرات ہوئے جس میں اپوزیشن کی جانب سے خورشید شاہ، نوید قمر، شازیہ مری اور ایاز صادق نے شرکت کی جب کہ حکومت کی جانب سے شفقت محمود، شیریں مزاری اور عامر ڈوگر شامل ہوئے تاہم حکومتی وفد اپوزیشن کو راضی نہ کرسکا۔

دوسری جانب اپوزیشن ارکان اسمبلی نے اسپیکر اسد قیصر کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم سمیت غیر حاضر ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیےجائیں، ایم این اے اور وزیراعظم عمران خان کو جوائنٹ سیشن میں طلب کریں، ایوان کے تمام ارکان کو جوائنٹ سیشن میں آناچاہیے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ بھارت نے جو فیصلہ کیا اس کے اثرات پوری دنیا پر ہوں گے، پارلیمانی اجلاس کو پوری دنیا اور کشمیری دیکھ رہے ہیں، یہاں سے بھارت نے جو غلط فیصلہ کیا اس پر بڑا مثبت پیغام جانا ہے۔

وزیراعظم پالیسی بیان؛

اپوزیشن اور حکومت کے درمیان معاملات طے پانے کے بعد اجلاس 4 بجے دوبارہ شروع ہوا تو وزیراعظم عمران خان نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ جنگ و جدل کا سب سے بڑا اثر معیشت پر پڑتا ہے، ہماری حکومت کی پہلی ترجیح پاکستان سے غربت کا خاتمہ تھا، اس لیے ہم چاہتے تھے کہ پڑوسیوں سے بہتر تعلقات ہوں، پلواما واقعے کے بعد بھارت کو سمجھایا کہ پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، بھارت کا پائلٹ پکڑا اور فوری واپس کردیا کیونکہ ہمارا جنگ کا کوئی ارادہ نہیں تھا تاہم بھارت ہماری امن کی کوشش کو ہماری کمزوری سمجھ رہا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مودی نے الیکشن مہم کے لیے ایسے حالات پیدا کیے، اپنے ملک میں جنگی جنون پیدا کیا تاکہ اینٹی پاکستان مہم چلاکر الیکشن جیت سکیں، ہم نے سوچا کے بھارت میں الیکشن کے بعد اس سے بات کریں گے، بھارت نے پہلے سے ہی مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، بھارت نے کل جو اقدام اٹھایا وہ ان کا انتخابی منشور کا حصہ تھا۔

شہباز شریف کا مشترکہ اجلاس سے اظہار خیال؛

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ 71 سال میں کسی کی جرات نہیں تھی کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرے لیکن مودی نے یہ کردیا، مودی سرکار نے صرف کشمیر میں نہ صرف حقوق نہیں چھینے بلکہ پاکستان کی غیرت اور عزت کو للکارا ہے، اور اقوام متحدہ کے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہے اور پوری مہذب دنیا کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔

شہبازشریف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا خطرہ ہے،مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو گھروں میں نظر بند کردیا گیاہے، کشمیر کی صورتحال پر خاموش تماشائی نہیں بنیں گے،کشمیر میں جو کچھ ہوچکا ہے اس پر روایتی مذمت اور متفقہ اور قرارداد سے کام نہیں چلے گا، ہمیں ٹھوس فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ دشمن کو پتہ چل سکے کہ ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے، ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں، ہم نے بہت قربانیاں دی ہیں، اب ہمیں کشمیر پر ڈٹ جانا چاہیے، بھارت نے پاکستان کی شہ رگ پر ہاتھ ڈالا ہے ہمیں اس کے ہاتھ کاٹ دینے چاہیئں۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم؛

واضح رہے کہ مودی سرکار نے صدارتی فرمان جاری کرتے ہوئے بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کوختم کردیا جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گی جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

Google Analytics Alternative