قومی

روپے کی ریکارڈ بے قدری؛ ڈالرملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پرپہنچ گیا

 کراچی: گزشتہ کئی روز سے امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مسلسل گراوٹ کا شکار ہے اور ہر روز پاکستانی کرنسی کی بے قدری میں اضافہ ہورہا ہے۔

آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے لیے کئے گئے معاہدے کے بعد پاکستانی کرنسی کی قدر میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا، افواہوں اور خدشات کے پیش نظر انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں بالعموم غیر ملکی کرنسیوں اور بالخصوص ڈالر کی خریداری دیکھی جارہی ہے ، جس کی وجہ سے روپیہ شدید دباؤ کا شکار ہے اور مسلسل بے قدر ہوتا جارہا ہے۔

منگل کے روز انٹر بینک میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر 2 روپے 27 پیسے اضافے کے بعد 151.92 روپے کا ہوگیا۔ دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر 3 روپے اضافے کے بعد 154 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے جب کہ صورت حال یہ ہے کہ مارکیٹ میں کوئی بھی ڈالر بیچنے کو تیار ہی نہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ 4 روز میں روپے کے مقابلے میں ڈالر 10 روپے کے لگ بھگ مہنگا ہوا ہے جس کے باعث پاکستان پر غیر ملکی قرضوں کے حجم میں ایک ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔

نواز شریف مشکل میں، نیب کو ایک اور کیس میں تفتیش کی اجازت

اسلام آباد:قومی احتساب بیورو (نیب) کو نواز شریف کے خلاف ایک اور مقدمے میں تفتیش کی اجازت مل گئی۔

سارک کانفرنس کی بلٹ پروف گاڑیوں کے ذاتی استعمال کے الزام میں احتساب عدالت نے نیب کو نوازشریف سے جیل میں تفتیش کی اجازت دے دی۔

نواز شریف کے خلاف بلٹ پروف گاڑیوں کے غیرقانونی استعمال پر نیب انکوائری جاری ہے۔ نیب کے مطابق 2015-16 میں غیرملکی مہمانوں کی سکیورٹی کے نام پر33 مہنگی گاڑیاں درآمد کی گئیں، جس میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔

تفتیشی افسر نے گاڑیوں کی خریداری کے کیس سے نوازشریف کے تعلق کا ریکارڈ احتساب عدالت میں پیش کیا اور جیل میں تفتیش کی اجازت مانگی۔ احتساب عدالت نے ریکارڈ کی روشنی میں نوازشریف سے تفتیش ضروری سمجھتے ہوئے اجازت دے دی۔

اپوزیشن متحد نہیں ہوسکتی یہ سب چلے ہوئے کارتوس ہیں، فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد: معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کبھی متحد نہیں ہو سکتی صرف ہوائی فائرنگ کر رہی ہے۔ 

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کبھی متحد نہیں ہو سکتی صرف ہوائی فائرنگ کر رہی ہے، یہ سب چلے ہوئے کارتوس ہیں، ان تلوں میں کوئی تیل نہیں، وہ دن دور نہیں جب یہ اپوزیشن والے ایک دوسرے پر کارتوس چلائیں گے۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ نیب ریاست کا آزاد اورخود مختار ادارہ ہے،جو آئین اور قانون کے طابع ہے، اپوزیشن کو نیب کی کارروائیوں پر خدشات ہیں یا وہ جہاں سمجھتی ہے نیب نے تجاوز کیا ہے  تو عدالتیں موجود ہیں، اپوزیشن پہلے ہی عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا رہی ہے اب زور زور سے بجانا شروع کر دے، لیکن نیب پر حملے اور دھمکیاں دینے کی بجائے نیب کے سوالوں کے جواب دے دے،  کیوں کہ نیب سے چھپن چھپائی کھیلنا مسئلہ کا حل نہیں ہے۔

معاون خصوصی اطلاعات نے کہا کہ نواز شریف جب ضمانت پر تھے تو ایک دن بھی اسپتال میں نہیں گزارا، 6 چھ ہفتے فائیو اسٹار گھر میں لیٹے رہے،  یہ کیسی پراسرار بیماری ہے جو گھر جاتے ہی ٹھیک، جیل جاتے ہی جان لیوا بن جاتی ہے،  ہم دعا کرتے ہیں کہ بیماری بھی اپنا ایک بیانیہ طے کر لے، نوازشریف  طےکر لیں کہ انہیں  بیماری کیا ہے حکومت معاونت کرے گی۔

نااہلی کیس؛ سندھ ہائیکورٹ کا صدر مملکت عارف علوی پر برہمی کا اظہار

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے نااہلی کیس میں جواب جمع نہ کرانے پر صدر مملکت عارف علوی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیکھیں گے کہ عارف علوی آرٹیکل 62 کے معیار پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔

سندھ ہائیکورٹ میں عارف علوی کے صدر پاکستان منتخب ہونے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کے معاون وکیل نے وکالت نامہ جمع کرادیا۔

عدالتی احکامات کے باوجود صدر پاکستان کی جانب سے جواب جمع نہ کرانے پر ہائی کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ کیا لگا رکھا ہے؟ 10 ،15 دن میں جواب جمع کرائیں، پھر ہم دیکھیں گے، جواب آنے کے بعد دیکھیں گے کہ عارف علوی آرٹیکل 62 کے معیار پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔ عدالت نے ڈاکٹر عارف علوی سے 12 جون کو جواب طلب کرلیا۔

درخواست گزار عظمت ریحان نے موقف اختیار کیا کہ عارف علوی نے 1977 میں دائر سول سوٹ کے ریکارڈ میں ٹمپرنگ کی تھی، جس شخص نے عدالتی ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کی وہ ملک کا سربراہ کیسے رہ سکتا ہے۔

احتساب صرف (ن) لیگ کا ہورہا ہےجسے جان بچانی ہے حکومتی بینچز پر چلاجائے، شاہد خاقان

 اسلام آباد:  مسلم لیگ (ن) کے سینیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ آج صرف (ن) لیگ کا احتساب ہورہا ہے جس کو جان بچانی ہے وہ حکومتی بینچز پر چلاجائے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پچھلے 4 دن میں نیب سے متعلق جو ہورہا ہے اس پر تشویش ہے، شہبازشریف کی چیئرمین نیب سے کوئی میٹنگ نہیں ہوئی، جھوٹ جو بھی بول رہا ہے بدنام سیاستدان ہورہے ہیں، چیئرمین نیب سے یہ بھی منسوب کیا گیا کہ نوازشریف بھی رقم دینے کو تیار ہیں جب کہ فوادحسن فواد پر سفارش کرانے پر مقدمہ ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نیب نے بیوروکریسی کو مفلوج کردیا ہے، علیم خان کی ضمانت ہوجاتی ہے جب کہ فواد حسن فواد اور احد چیمہ کی نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ معذرت سے کہتا ہوں نیب غیر جانبدار ادارہ نہیں، نیب کے پیدا کیے گئے مسائل کا جواب کون دے گا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج صرف (ن) لیگ کا احتساب ہورہا ہے جس کو جان بچانی ہے وہ حکومتی بینچز پر چلاجائے، ایک شخص کو پکڑنے کے لیے ایک ادارہ اور سیکڑوں لوگ لگے ہوئے ہیں، معیشت تباہ ہوچکی اور اس میں نیب کابہت بڑاحصہ ہے۔ چیئرمین نیب نے پریس کانفرنس میں اخباری کالم کا کوئی ذکر نہیں کیا، چیئرمین نیب جھوٹ بول رہے ہیں یا کالم نگار نے جھوٹ لکھا ہے، چیئرمین نیب کا انٹرویو سیاست کو بدنام کرنا ہے تو مقصد پورا ہوگیا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہم سے زیادہ احتساب کے حق میں کوئی نہیں ہے، اخباروں میں سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھالی جا رہی ہیں، چئیرمین نیب نے انٹرویو میں بتایا کہ انہیں رشوت دینے کی کوشش کی گئی، چیئرمین نیب نے کہا کہ حکومت اور پولیس تعاون نہیں کررہی جب کہ آصف زرداری اور فریال تالپور کو نہیں چھوڑوں گا۔

نیب کا بائیکاٹ نہیں کریں گے اسے تھکائیں گے، آصف زرداری

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف زرداری نے کہا ہے کہ ہم نیب کا بائیکاٹ نہیں کریں گے بلکہ اسے تھکائیں گے. 

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ 80 سال کے بوڑھوں کو عدالت میں لایا جارہا ہے، ہتھکڑیاں لگائی جاتی ہیں اورجیلوں میں بھیجا جاتا ہے۔ لوگوں کو ہتھکڑیاں بھی لگاوٴ، جیلوں میں بھی ڈالو اور پھر کہتے ہیں معیشت بھی چلاوٴ۔ قانون کہتا ہے کہ جرم ثابت ہونے تک ملزم عدالت کا پسندیدہ بچہ ہوتا ہے، ابھی تو مجرم کوئی نہیں، ابھی تو کسی کے خلاف جرم ثابت ہی نہیں ہوا، ابھی تو یہ سوچ ہی رہے ہیں۔

چیئرمین نیب کے انٹرویو کے حوالے سے آصف زرداری نے کہا کہ چیئرمین نیب کو انٹرویو دینے کا حق نہیں، ان کا عہدہ انہیں انٹرویو دینے کی اجازت نہیں دیتا، اگر انہوں نےانٹرویو دیا ہے تو قانونی کارروائی کریں گے۔

صحافی نے سوال کیا کہ 9 ماہ میں اپوزیشن کا اتحاد مضبوط نہیں ہوا کیا اب ایسا ہوگا ، جس پر آصف زرداری نے کہا کہ 9 ماہ میں ہم نے ایسا سوچا ہی نہیں تھا۔

مریم نواز کی جانب سے وزیر اعظم کو جعلی قرار دیئے جانے کے بیان سے متعلق سوال پر سابق صدر مملکت نے کہا کہ میں نے تو شروع سے ہی کہا یہ سلیکٹڈ وزیر اعظم ہے۔

صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ نیب کیسز میں شرکت سے بائیکاٹ پر غور کر رہے ہیں؟ جس پر آصف زرداری نے کہا کہ ہم نیب کا بائیکاٹ نہیں کریں گے بلکہ نیب کو تھکائیں گے، بائیکاٹ کریں گے تونیب کہے گا کہ ہماری عزت نہیں کررہے اور قانون کا احترام نہیں کیا جا رہا۔

آصف زرداری نے کہا کہ معاشی صورتحال خراب ہورہی ہے، ڈالر 160 پر چلا گیا ہے، میری نظر میں دوبارہ الیکشن واحد آپشن ہیں، دھرنا دیا تو کنٹینر ہم اپنے لائیں گے، میری نظر میں یہ نئی جنریشن کا دور ہے بلاول، اسفند یار ولی کا بیٹا اور نواز شریف کی بیٹی ہی قیادت کریں گے ،سب سینئر سیاست دان پیچھے بیٹھ کر آرام کریں گے۔

فردوس عاشق اعوان کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنانے پر آصف زرادری نے کہا کہ جو طوطے میرے خلاف بولتے ہیں اللہ ان کا بھلا کرے، بولنے پر ٹیکس نہیں لگا۔

نواز شریف سے ملاقات کے حوالے سے آصف زرداری نے کہا کہ میں نے ان کا نمبر مانگا ہی نہیں، ان کی طبعیت خراب ہے ضروری ہوا تو ملاقات ہوجائے گی۔

اس سے قبل ادھر اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے جعلی اکاؤنٹس کیس پر سماعت کی، سماعت کے دوران آصف زرداری اور فریال تالپور کو ریفرنس کی نقول فراہم نہ کی جاسکیں۔ جس پر عدالت نے کارروائی 30 مئی تک ملتوی کر دی۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اور کیس میں آصف زرداری کی عبوری ضمانت منظور کرلی ہے، اس سے قبل ان کی 7 مقدمات میں ضمانت ہوچکی ہے۔

اسلام آباد میں 10 سالہ بچی فرشتہ زیادتی کے بعد قتل

 اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں درندہ صفت مجرموں نے معصوم فرشتہ کوزیادتی کے بعد قتل کردیا۔

اسلام آباد میں درندہ صفت مجرموں نے معصوم فرشتہ کوجنسی زیادتی کے بعد قتل کردیا۔ بچی فرشتہ کا تعلق خیبرپختونخواہ کے قبائلی ضلع مہمند سے ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 15 مئی کوچک شہزاد سے لاپتہ بچی کوقتل کرکے جنگل میں پھینکا گیا، فرشتہ کی لاش کو جنگل سے بر آمد کیا گیا،  پوسٹ مارٹم کر لیا گیا جب کہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے 2 ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جن کی سربراہی ڈی آئی جی کریں گے۔

وزیرداخلہ اعجازشاہ نے بچی فرشتہ کے ساتھ زیادتی اورقتل کیس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی اور سخت ایکشن لینے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔  وزیرداخلہ نے آئی جی اسلام آباد سے تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

آئی جی نے مقدمہ تاخیر سے درج کرنے پر ایس ایچ او شہزاد ٹاؤن کو معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف محکمانہ انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ ننھی فرشتہ کے لواحقین نے لاش ترامڑی چوک پر رکھ کر وفاقی پولیس کی بے حسی کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیا۔

والد نے پولیس کو ننھی فرشتہ کے قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچی لاپتہ ہونے کے بعد تین دن تک تھانے کے چکر لگاتے رہے لیکن ایف آئی آر نہ کاٹی گئی اور کئی دفعہ تھانے کے گیٹ پرکھڑے سنتری نے جھڑک کر واپس بھجوادیا۔

لواحقین نے بتایا کہ ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاوٴن نے لڑکی کے گھر سے بھاگنے کا الزام لگا کر رپورٹ درج کرنے سے انکار کیا، جس دن ایف آئی آر درج ہوئی اس سے دوسرے دن ہی بچی کی لاش بھی مل گئی، ایس ایچ او بروقت ایف آر درج کرکے کارروائی کرتا تو شاید بچی قتل نہ ہوتی۔

گلگت بلتستان سے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا نیٹ ورک پکڑا گیا

غذر: گلگت بلتستان میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی معاونت سے چلنے والا بلاورستان نیشنل فرنٹ (حمید گروپ) کا مقامی نیٹ ورک پکڑا گیا۔

پاکستانی انٹیلی جنس اداروں ki کامیاب کارروائی میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے متحرک ’را‘ کا نیٹ ورک پکڑا گیا ہے،  اس نیٹ ورک نے گلگت بلتستان میں انتشار پھیلانے کی طویل منصوبہ بندی کر رکھی تھی تاہم خفیہ اداروں نے اسے  بے نقاب کر کے ناکام بنا دیا اور  ’را‘ کے پاکستان دشمن نیٹ ورک کی سنسنی خیز تفصیلات بھی سامنے آ گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے زیر سرپرستی گلگت بلتستان کی ذیلی قوم پرست تنظیم ’بلاورستان نیشنل فرنٹ‘ (حمید گروپ) کی آبیاری کی گئی، اور ’را‘کا ہدف یونیورسٹیوں کے طلبا اور گلگت بلتستان کی نوجوان نسل کو ٹارگٹ کر کے دہشت گردی اور علیحدگی کی تحریک کو ہوا دینا تھا۔

حمید خان کوعالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ متاثر کرنے اور گلگت بلتستان میں دہشت گردی کرنے کی سرگرمیوں پر لگایا گیا، ’را‘ کے اشاروں  پر ہی حمید خان نےعالمی مالیاتی اداروں کو خطوط کے ذریعے گلگت بلتستان و دیگر جگہوں پر 6 مجوزہ ڈیموں کے لیے مالی و تکنیکی مدد فراہم کرنے سے روکنے کی کوششیں کیں، ذیلی قوم پرست تنظیم ’بلاورستان‘ ٹائمز میگزین کے ذریعے علیحدگی پسند سوچ کو ہوا دے رہی تھی۔

چیئرمین بی این ایف (حمید گروپ) عبدالحمید خان آف غذر کو ’را‘ کی جانب سے 1999 میں نیپال لے جایا گیا، جہاں سے اسے بھارت منتقل کردیا گیا، بھارت میں ’را‘ کے ایجنٹ کرنل ارجن اور جوشی نے اسے تربیت دی، اور اس دوران  اسے دہلی میں تھری اسٹار اپارٹمنٹ میں رکھا گیا، اور کچھ عرصے بعد حمید خان کے تین بچوں سمیت پورے خاندان کو بھی بھارت ہی منتقل کردیا گیا، جہاں اس کے بچوں کو مختلف اسکولوں، کالجز میں مہنگی تعلیم دلوائی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 1999  سے 2007 اور 2015 سے 2018 تک ’را‘ نے حمید خان پر 11 سالوں میں بھاری سرمایہ کاری کی، اور اسے گلگت بلتستان میں سرگرمیوں کے لیے ایک ارب روپے کے لگ بھگ خطیر رقم بھی فراہم کی گئی جب کہ اس کے بیٹوں کی تعلیم کو بھارت کے ساتھ یورپ میں بھی اسپانسر کیا گیا۔  2007 کے بعد حمید خان کو برسلز منتقل کرایا گیا تاکہ وہ مختلف عالمی فورمز پر پاکستان مخالف تقاریر کر سکے۔

’را‘ گلگت بلتستان کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں بھی طلباء کو حمید خان کے ذریعے معاونت کر رہی تھی، ان سرگرمیوں میں بی این ایف کا اسٹوڈنٹ ونگ ’بلاورستان نیشنل اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن‘ شیر نادر شاہی کی قیادت میں ملوث تھا، شیر نادر شاہی ’بلاورستان ٹائمز‘ شائع کرتا تھا، اور  ’را‘ اور حمید خان سے ہدایات لے کر راولپنڈی اور غذر میں  شرپسندی کے لئے مرکزی کردار ادا کررہا تھا، 2016 میں وہ عبدالحمید خان اور را کی مدد سے یو اے ای چلا گیا، جہاں سے اسے نیپال منتقل کر دیا گیا۔

پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کی بھرپور کوششوں کے ذریعے عبدالحمید خان نے 8 فروری 2019 کو غیر مشروط سرنڈر کیا، جب کہ 29 مارچ کو شیر نادر شاہ نے بھی سرنڈر کر دیا، تاہم شیر نادر شاہ کو دبئی میں موجود ’را‘ کی لیڈی ایجنٹ نے شکار کیا اور اسے  نیپال لے جایا گیا، تاہم نیپال سے بھارت جانے سے قبل ہی پاکستانی ایجنسیاں کامیابی سے اسے پاکستان واپس لے آئیں۔

ذرائع کے مطابق ’را‘ کے سالہا سال سے تشکیل دیئے گئے نیٹ ورک کو ناکام بنانے کے لیے پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی نے طویل اور صبر آزما منصوبہ بندی کی، اور  “Op Pursuit” کے ذریعے بی این ایف کا مقامی نیٹ ورک پکڑا اور را کے منصوبے کو ناکام بنایا۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں بھاری تعداد میں اسلحہ و ایمونیشن بھی برآمد کیا گیا جب کہ بی این ایف کے 14 متحرک کارکن حراست میں لے لیے گئے۔

Google Analytics Alternative