- الإعلانات -

وزیراعظم چیف ایگزیکٹو نیب کو ہدایت کر سکتے”رانا ثنا اللہ”

لاہور:  وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ نیب پنجاب میں متحرک ہونا چاہتی ہے تو ہو جائے خوش آمدید کہیں گے ، لیکن کسی کو خوش کرنے کے لیے کارروائیاں برداشت نہیں کریں گے ، وزیراعظم کا نیب بارے بیان کو مثبت انداز میں لینا چاہیے ،نواز شریف ملک کے چیف ایگزیکٹو نیب کو ہدایت کر سکتے ، وزیراعظم نے جو کہا نیب کی بہتری کے لیے کہا نیب والے پوری ذمہ داری سے کام کریں کسی کیخلاف انتقامی کارروائی برداشت نہیں کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز لاہو رمیں پریس کانفر نس کرتے ہوئے کیا ، رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ، پنجاب میں قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کیخلاف کارروائی کر رہے ہیں، کسی دسرے صوبے میں آپریشن ہو رہا ہے تو پنجاب میں بھی ہوگا ایسا ہر گز نہیں ہونے دیں گے ، کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ کراچی کی طرز پر پنجاب میں بھی آپریشن کیا جائے لیکن پنجاب میں اس کی ضرورت نہیں حالات کراچی سے بہتر ہیں ،اور نہ ہی کچے کے علاقے میں آپریشن کی ضرورت محسوس نہیں کی جار ہی ، انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ترقیاتی کام شفافیت کے سے آگے بڑھ رہے ہیں ، شہباز شریف کے گزشتہ آٹھ سالہ دور میں ایک روپے کی کرپشن سامنے نہیں آئی ماضی میں کرپشن کی غضب کہانی چھپتی رہی لیکن ن لیگ کے دور میں کوئی غضب کہانی سامنے نہیں آئی ،نندی پورر منصوبے کا صرف شور تھا نیب تحقیق کر سکتا ہے ایک روپے کی کرپشن بھی ثابت نہیں ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی والے ڈنڈا لیکر سر بھی پھاڑ لیں انہیں کچھ نہیں کہنا چاہیے جمہوریت میں انڈرسٹینڈنگ کے ساتھ معاملات چلنے چاہیے ، پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بدعنوانی کے کئی کیس سامنے آئے ،رانا ثنا اللہ نے کہا کہ نیب پنجاب میں متحرک ہونا چاہتا ہے تو خوش آمدید کہیں گے لیکن کسی کو خوش کرنے کے لیے نیب کی کارروائیاں برداشت نہیں کی جائیں گی ، نیب کو بہت زمہ داری سے کام کرنا چاہیے ، وزیراعظم نیب کو ذمہ داری سے کام کرنے کے لیے نہیں کہیں گے تو کون کہے گا، 90روز تک نیب لوگوں کو حراست میں رکھتی ہے پتا چلتا کچھ بھی نہیں ثابت ہوا ، ،اگر کسی کیخلاف انتقامی کارروائی ہو رہی ہے تو اس کا نوٹس لیا جائے گا ،انہوں نے کہا کہ نیب کا قانون پڑھا تبدیلی کی ضرورت ہے ،وزیراعظم نے جو بھی کہا نیب کی بہتری کے لیے کہا ، وزیراعظم چیف ایگزیکٹو نیب کو ہدایت کر سکتے ، وزیراعظم کے نیب سے متعلق بیان کو مثبت انداز میں لینا چاہیے ، وزیراعظم کا ہمیشہ سے موقف رہا کہ کسی کیخلاف انتقامی کارروائی نہیں ہونی چاہیے ۔