- الإعلانات -

جرائم پیشہ افراد کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے”قائم علی شاہ”

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ سمیت 23 مجرمان کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں (جے آئی ٹیز) کی تشکیل کی منظوری دے دی۔

واضح رہے کہ عزیر جان بلوچ کو چند ہفتے قبل ہی کراچی کے نواحی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

جے آئی ٹیز کی منظوری کے علاوہ وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز اور بینک ڈکیتیوں کا بھی نوٹس لیا اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس کو ان کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق سید قائم علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت صوبے سے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ہمارے اور ملک کے دشمن ہیں، ہم ان کے عزائم سے پوری طرح واقف ہیں اور ان سے نمٹنا بھی جانتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) پر اعتماد رکھتے ہیں جبکہ سندھ حکومت عوام کی خوشحالی اور تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا جے آئی ٹیز کے حوالے سے کہنا تھا کہ ٹیموں کی تحقیقات کی روشنی میں ملزمان پر مناسب طریقے سے مقدمہ چلایا جائے گا جس کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں۔

جن 23 مجرمان کے خلاف جے آئی ٹیز تشکیل دی گئی ہیں ان میں مسعود عالم عرف بھولا چاچا، محمد ایاز ولد عبد القیوم، محمد حامد عرف پپو، سید عظمت حسین عرف عظمت، محمد ارشد عرف اسد چھوٹا، محمد نعیم، شعیب اختر، محمد ناصر عرف مُچھڑ، عبد الرشید عرف کاشف بیچ والا، محمد سعید بلوچ، محمد محسن، محمد عدنان، محمد فاروق عرف لانڈی، دل مراد، محمد دانش، سلیم، محسن عرف لمبا، ریحان عرف شانا، سید عمران رضا، مہر بخش، عدنان عرف اے ڈی عرف دانش، محمد اسلم عرف مُنا اور عزیر بلوچ شامل ہیں۔

جن مجرمان کے خلاف جے آئی ٹیز زیرِ غور ہیں، اُن میں محمد خرم عرف موٹا، محمد فرحان عرف فنٹر، محمد نوید، محمد شفیق، محمد سہیل اور منہاج قاضی شامل ہیں۔