- الإعلانات -

پاکستان میں امن کے قیام کے لئے افغانستان میں امن ضروری ہے”خواجہ آصف”

اسلام آباد :  وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام کے لئے افغان حکومت اور افغان طالبان کے مابین امن مذاکرات جلد شروع ہوں گی جس کے مثبت اثرات پورے خطہ پر پڑیں گے ۔ افغانستان میں بدامنی سے پاکستان شدید متاثر ہوتا ہے پاکستان میں امن کے قیام کے لئے افغانستان میں امن ضروری ہے افغانستان پر بیرونی ممالک اثر انداز ہونے سے گریز کریں افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام کے ہاتھ میں ہونا چاہئے ۔ وزیر دفاع نے افغان پارلیمانی وفد کی قومی اسمبلی میں آمد پر انہیں خوش آمدید کہاسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بھی افغان پارلیمانی وفد کی قومی اسمبلی آمد پر انہیں خوش آمدید کہا ۔ افغان پارلیمانی وفد سپیکر گیلری میں پہنچا تو پارلیمانی اراکین نے انہیں کھڑے ہو کر خوش آمدید کہا اور استقبال کیا ۔ افغان پارلیمانی وفد کے اراکین نے بھی کھڑے ہو کر پرتپاک استقبال کا شکریہ ادا کیا ۔ اپوزیشن لیڈروں نے بھی افغان وفو کو خو ش آمدید کہا اور تقاریر کیں ۔ افغان جرگہ کے سپیکر عبدالرؤف ابراہیمی کی سربراہی میں 14 رکنی افغان پارلیمانی پاکستان کے دورے پر ہیں ۔اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے افغان پارلیمانی وفد اور افغان پارلیمانی کے سپیکر کو خوش آمدید کہا افغانستان اور پاکستان کے مابین تاریخی تعلق رہا ہے جس میں خوشی ہے کہ سپیکر افغان پارلیمنٹ پاکستان میں آئے دونوں ملکوں نے بڑے بڑے بحران دیکھے ہیں اور اب ہم اس بحرانوں سے باہر آ رہے ہیں جمہوریت سے دونوں ملکوں کے مسائل ختم ہو جائیں گے دنوں ملکوں کا کلچر ، فوڈ ، سیاسی روایات ایک جیسی ہیں افغانستان اور پاکستان کا تعلق ایک رہا ہے سپیکر افغان عبدالرؤف ابراہیمی کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی افغان پارلیمانی وفد سے قومی اسمبلی آنے پر خوش آمدید کہا ۔ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات قریبی ہیں یہ تعلقات لازوال ہیں 40 سال سے افغانستان اور پاکستان کے تاریخ کے کٹھن مراحل دیکھے ہیں یہ مسائل اب بھی ہیں ۔ مختلف گروپ کے مذاکرات شروع ہوئے ہیں افغان صدر اور پاک لیڈر شپ اور افواج کے روابط اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں پاکستان نے اعلان کیا کہ افغانستان کا امن پاکستان کے مفاد میں ہے ہمارے ذہن میں یہ واضح ہے کہ امن بیک وقت ہی دونوں ملکوں میں قائم ہو گا ایک ملک میں پرامن اثرات دوسرے ملکوں پر پڑے گا ۔ امن کا راستہ اور فیصلہ افغان عوام ہوں گے ۔ دونوں ملکوں کے عوام کے رشتے امن کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ امن کے ساتھ رہ کر ترقی کرنا چاہتے ہیں ۔ڈاکٹر شیریں مزاری راہنما پی ٹی آئی نے بھی افغان پارلیمانی وفد کو خوش آمدید کہا اور امید ظاہر کی کہ افغان دھڑوں کے مابین مذاکرات کامیاب ہوں اور دونوں ممالک اکٹھے بیٹھ کر مسائل حل کریں ۔ امن خطہ کی ضرورت ہے افغانستان میں امن مذاکرات ضروری ہیں افغانستان مذاکرات میں پاکستان کے امور اور مسائل پر بھی غور ہونا چاہئے ۔پاکستان کی پوری قیادت افغان امن مذاکرات کو کامیاب بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے حکومت آرمی چیف کے دورہ قطر کے بارے ایوان کو اعتماد میں لے ۔ ایم کیو ایم کے رہنما رشید گوندل نے بھی افغان پارلیمانی وفد کو خوش آمدید کہا خطہ کی اہمیت پوری دنیا جانتی ہے اس خطہ میں امن ہونا چاہئے پاکستان اور افغانستان کو معیشت کی ترقی پر توجہ دینا ہو گی جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے بھی افغان پارلیمانی وفد کی ایوان آمد پر خوش آمدید کہا اور ہمارے لئے خوشی کا موقع ہے کہ افغان جرگہ کے سپیکر ہمارے ایوان میں آئے ہیں انہوں نے پخیر راغلے رورا کہہ پر افغان وفد کو خوش آمدید کہا انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں امن ہونا چاہئے ۔ یہ دورہ باہمی تعاون اور تجارت کا حصہ ہے مثبت طرز عمل سے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کر سکتے ہیں تاکہ ایک دوسرے سے تعلقات بہتر ہوں ہمارے مسائل مشترکہ ہیں اور مقاصد بھی مشترکہ ہیں ۔ہم ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے دونوں ملکوں کے نمائندے باہمی مذاکرات سے باہمی مسائل کو حل کریں افغان دھڑوں کے مابین امن مذاکرات شروع ہوئے ہیں مارچ میں دوبارہ مذاکرات ہونے والے ہیں ۔ افغانستان کھنڈرات میں تبدیل ہوا ہے اس کے اثرات پاکستان پر ہیں یہ مسئلہ مکمل طور پر ختم ہونا چاہئے اگر افغانستان میں امن نہ ہوا تو پاکستان میں امن نہیں ہو گا علامہ اقبال نے افغانستان کو ایشیاء کا دل کہا ہے اس لئے دل کو پرسکون رہنا چاہئے ۔اے این پی کے غلام احمد بلور نے بھی افغان پارلیمانی وفد کی قومی اسمبلی آمد پر خوش آمدید کہا ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات نہ ہوں تو ملک ترقی نہیں کر سکتا ۔آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بھی افغان وفد کی قومی اسمبلی آمد پر خوش آمدید کہا اور کہا کہ ان کی آمد ایک تاریخی قدم ہے افغان پارلیمنٹبھی سپریم ہے دونوں ملکوں کی پارلیمانی کو مشترکہ اقدامات کر کے امن قائم میں کردار ادا کریں ۔دونوں ملکوں کے پارلیمانی تعلقات مزید استوار ہونے چاہئیں دونوں ملکوں کے مابین بداعتمادی ختم کرنے میں پارلیمنٹ اہم کردار ادا کر سکتا ہے ہم افغانستان کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں مزاکرات کو اگے بڑھنا چاہئے تاکہ خطہ میں امن قائم ہو ۔افغانستان وفد کو محمود خان اچکزئی نے بھی خوش آمدید کہا بھارت سے جنگ کے دوران افغانستان نے پاکستان کی حمایت کی اور مغربی سرحد پر امن کی یقین دہانی کرائی تھی اگر ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک جلنے سے بچیں تو دونوں ممالک کو بین الاقوامی ضمانت دیں کہ وہ ایک دوسرے کی خود مختاری کی ضمانت دیں اور ایک دوسرے کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کی خود مختاری کی حفاظت کریں اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کریں ایشیاء کا دل افغانستان ہے اور اگر دل میں خرابی ہو گی تو پورا ایشیاء بیمار پڑ جائے گا ۔ وفاقی وزیر اکرم خان درانی نے بھی افغان وفد کو خوش آمدید کہا وفد کی آمد پر دونوں ملکوں کے مابین اعتماد بڑھے گا پاکستان افغان دھڑوں کے مابین مذاکرات کامیاب دیکھنا چاہتا ہے ۔