- الإعلانات -

دنیا بھر سے بھرپوررسپانس ملا "مصطفیٰ کمال”

کراچی:سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کہتے ہیں کل کی پریس کانفرنس کے بعد دنیا بھر سے بھرپوررسپانس ملا۔ ہزاروں کی تعداد میں کالز موصول ہوئیں۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ بتائیں، ہمیں کیا کرنا ہے۔

کراچی میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد انیس قائم خانی کے ہمرا میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق سٹی ناظم کا کہنا تھا کہ نئی پارٹی بنانے کے اعلان کے بعد دنیا کے کونے کونے سے کالز آئیں لیکن مصروفیت کے باعث جواب نہیں دے سکا اس پر معذرت چاہتا ہوں۔

مصطفیٰ کمال نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرے لیے کوئی نام چھوٹا یا بڑا نہیں ،سب برابر ہیں۔ نہ ہی میرے لیے کوئی باغی یا وفادار ہے، سب کو اپنی پارٹی جوائن کرنے کی آفر کی ہے۔اللہ ایم کیو ایم کو ہدایت دے۔ سب کو کہتا ہوں سوچیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بڑےناموں کوٹارگٹ نہیں کیاورنہ پہلے لابنگ کرتے۔ کل کی پریس کانفرنس میں وہی کہا جس پر پہلے سے بات ہو رہی ہے،کوئی دستاویز نہیں دکھائی۔ہماری بات سب تک پہنچانے کیلئے میڈیا کے بھی تہہ دل سے شکرگزار ہیں۔

سیکیورٹی خدشات سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ عام لوگوں کی طرح ہمیں بھی سیکیورٹی خدشات لاحق ہیں لیکن زندگی یا موت سے سرو کار نہیں۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

سابق سٹی ناظم کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے کارکن یہ مت دیکھیں کہ کون کہہ رہا ہے ، یہ دیکھیں کہ کیا کہہ رہا ہے۔ رزق، زندگی اور موت اللہ دیتا ہے اس لیے انسان سے بھیک نہ مانگیں نہ ہی موت سے ڈریں۔ مرنے کے بعد سب کو اپنی قبر میں جانا اور خود جوابدہ ہونا ہے۔ اللہ پوچھے گا کہ تم نے کیا کیا اس لیے سب کو کہتا ہوں کہ اللہ سے ڈریں انسانوں سے نہیں۔

صحافیوں کی جانب سے انیس قائم خانی سے سوال کیاگیا کہ بلدیہ فیکٹری میں آگ لگی یا لگائی گئی تھی؟ جس کے جواب میں مصطفیٰ کمال بولے کہ یہ سوال آپ تفتیشی افسر سے کریں۔

انیس قائم خانی نے سوال کا جواب دیتے ہوئے قدرے غصے سے کہا کہ بلدیہ فیکٹری کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ میں میرا نام شامل نہیں ہے۔ اس وقت ایم کیو ایم کا ڈپٹی کنوینر تھا اور اس حیثیت سے لوگوں کو بچانے جا رہا تھا،آگ لگانے نہیں۔