- الإعلانات -

پی پی پی نے حکومت پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کرلیا

اسلام آباد : انٹیلی جنس اداروں کو پارلیمنٹ کے تابع کرنے سے متعلق بل کی منظوری بابت وفاقی حکومت شدید دباؤ کا شکار ہوگئی ہے۔ ریاستی امور کے خلاف کام کرنے والے مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کو قانونی شکل دینے کیلئے سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کی طرف سے وزیراعظم سیکرٹریٹ کو بھجوائے گئے بل کو ایک سال سے زیادہ ہوگیا اور یہی بل سینیٹ کی ہول کمیٹی نے دوماہ پہلے حتمی سفارشات منظور کرکے حکومت کو بھجوایا اس کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔ حکومت کو واضع موقف اختیار کرنے کیلئے پی پی پی نے حکومت پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کرلیا۔ مجوزہ بل کی سفارشات کے تحت سیکورٹی اداروں کی کارکردگی جانچنے اور مانیٹرنگ کا اختیار پارلیمانی کمیٹی کو دینے کی سفارش کی گئی ہے ۔سینیٹ نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ حکومت زبردستی لاپتہ افراد بارے اقوام متحدہ کے کنونشن پر بھی فوری دستخط کرائے۔سفارشات کے اختتام پر اس بات کا عزم کیا گیا ہے کہ سیکورٹی اداروں کو پارلیمنٹ کے زیر کنٹرول کرنے سے لاپتہ افراد کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہوگا۔سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے یہ سفارشات منظور کیں اور بعد ازاں سینیٹ کی کمیٹی آف ہول نے سفارشات کو حتمی شکل دے کر وزیراعظم کو بھجوا دیا۔ تفصیلات کے مطابق اس کمیٹی کا سربراہ سینیٹر فرحت اللہ بابر تھے جبکہ ممبران میں ایم کیو ایم کی سینیٹر نسرین جلیل اور سینیٹر ثریا امیرالدین تھیں۔سینیٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے لاپتہ افراد اور سیکورٹی اداروں کے کردار بارے یہ ذیلی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ذیلی کمیٹی نے کئی ماہ اس اہم حساس معاملہ پر غور کیا اور اپنی حتمی سفارشات سینیٹ کمیٹی کو بھجوائی تھیں۔ہول سینیٹ کمیٹی نے یہ سفارشات منظور کرکے عملی اقدامات کیلئے حکومت کو ارسال کیں ہیں۔آن لائن کو سفارشات اور انٹیلی جنس اداروں کو پارلیمنٹ کے ماتحت کرنے کا آئینی بل کی کاپی موصول ہو چکی ہے۔بل کے مطابق اہم قومی حساس ادارے کا سربراہ وزیراعظم ہوگا۔وزیراعظم سیکورٹی اداروں کو مؤثر اور بہتر بنانے کے اقدامات کا ذمہ دار ہوگا۔سیکورٹی اداروں کے ملازمین سویلین نہیں ہوں گے بلکہ پاک فوج سے ہوں گے۔وزیراعظم کو یہ اختیار دیا جارہا ہے کہ وہ انٹیلی جنس اداروں کو کسی مخصوص سیاسی جماعت کو حمایت یا مدد کرنے سے روکیں۔انٹیلی جنس ادارے کسی سیاسی جماعت کے لئے بغض نہ رکھیں اور اپنی انفرادیت قائم رکھیں۔نئے قانون کے مطابق پارلیمنٹیرین پر مشتمل ایک انٹیلی جنس سیکورٹی کمیٹی ہوگی جو سیکورٹی اداروں کے اخراجات،انتظامی امور اور پالیسیوں کا جائزہ لے گی۔کمیٹی کے اراکین حکومت،اپوزیشن سے ہوں گے تاہم کسی وزیر یا وزیرمملکت کمیٹی کے ممبران نہیں ہوں گے۔کمیٹی کے ممبران کے چناؤ کے لئے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر ملکر فیصلہ کریں گے۔کمیٹی ہر سال اپنی رپورٹ جاری کرے گی اور یہ رپورٹ وزیراعظم کو بھیجی جائے گی۔وزیراعظم یہ رپورٹ پارلیمنٹ میں بحث کیلئے پیش کریں گے تاہم وزیراعظم رپورٹ کا جو حصہ پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنا چاہیں تو وہ حصہ رپورٹ سے علیحدہ کردیں گے۔نئے قانون کے مطابق انٹیلی جنس ادارے اپنے فرائض منصبی بجا لانے کیلئے پالیسی گائیڈ لائن پارلیمانی کمیٹی سے لیں گے۔انٹیلی جنس ادارے کا سربراہ حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی افسر ہوگا جس کی مدت ملازمت چار سال ہوگی۔ادارہ کے اختیارات بل کے تحت دئیے گئے اصولوں کے مطابق ہوں گے۔انٹیلی جنس اداروں کے سربراہ اپنی کارکردگی رپورٹ براہ راست وزیراعظم کو دے گا۔ادارہ کا سربراہ پارلیمانی کمیٹی کے حکم پر لاپتہ افراد یا زیر حراست افراد کی تفصیلات پارلیمانی کمیٹی کو فراہم کرنے کا پابند ہوگا۔تاہم کوئی حساس معلومات آشکار نہ کرنے بارے فیصلے وزیراعظم کریں گے۔انٹیلی جنس کا سربراہ ملک کو سیکورٹی یا معاشی خطرات بارے وزیراعظم کو آگاہ کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔نئے بل کے تحت انٹیلی جنس اداروں کو اختیارات دئیے جارہے ہیں جن میں کسی بھی شہری کے بارے معلومات اکٹھی کرنے کا حق ہوگا جبکہ کسی عمارت،جگہ،جہاز،گاڑی کی تلاشی لینے کا اختیار دیا گیا ہے۔انٹیلی جنس ادارے کو غیر ملکی انٹیلی جنس اداروں سے باہمی تعاون رکھنے کا حق دیا گیا ہے۔انٹیلی جنس اداروں کو یہ اختیار دیا جارہا ہے کہ جو شہری قومی سلامتی یا دہشتگردی میں ملوث ہو اسے گرفتار کرکے قید میں رکھ سکیں گے،تاہم شہری کی قید 3ماہ سے زائد نہ ہو۔نئے قانون کے مطابق ملک میں نیا انٹیلی جنس محتسب ادارہ بھی قائم ہوگا جس میں شہری سیکورٹی اداروں کے خلاف شکایات درج کراسکیں گے۔آن لائن کے رابطہ کرنے پر سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ اس بل کا مقصد سیکورٹی اداروں کو بدنامی سے بچانا ہے کیونکہ کسی شہری کو حراست میں لئے جانے سے متعلق ان پر براہ راست بات نہیں آسکے گی۔یہ بل تقریباً سوا سال پہلے ہم نے حکومت کو بھیجا تھا لیکن اس طرح سے ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا پھر ہم نے جنوری میں سینیٹ کی کمیٹی آف ہول میں اس پر بحث کی اور سفارشات منظور کرکے حکومت کو بھجوائیں۔اب معاملہ یہ ہے کہ حکومت اس پر اپنا مؤقف نہیں دے رہی چاہے وہ اس بل کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔کم از کم اس سے انتظامیہ اور پارلیمان ہی کیوں نہ ہو۔کم از کم اس سے انتظامیہ اور پارلیمان کے درمیان ایک بحث تو چل نکلے گی۔گزشتہ دنوں بھی میں نے سینیٹ کے فلور پر حکومت سے یہی درخواست کی تھی کہ سینیٹ کی کمیٹی آف ہول کے منظور کردہ اس بل پر حکومت اپنی رائے کیوں نہیں دے رہی۔جب بل بھجوا دیا گیا تو اس پر بھی خاموشی اختیار کرلی گئی اور اب دسمبر یا جنوری میں کمیٹی نے سفارشات منظور کرکے بھجوائی تھیں اس پر کوئی جواب نہیں آیا۔