- الإعلانات -

نیب کیخلاف وزیراعظم کے اعلا ن جنگ کے حقائق سامنے آگئے

اسلام آباد :  نیب کے تحقیقاتی افسران نے شریف برادران کیخلاف 671 ارب کرپشن کے دستاویزاتی ثبوت حاصل کرلئے ۔ تحقیقاتی افسران نے تفصیلات چیئرمین نیب کو فراہم کردی ، شریف خاندان کیخلاف 671 ارب کے اثاثے بنانے کے ریکارڈ بھی سامنے آگیا خاندان نے بینکوں سے سیاسی اثررورسوخ پر 632 ارب روپے کے قرضے حاصل کرکے 20 سے زائد شوگر ، ٹیکسٹائل اور پپرز ملیں بنائیں تھیں ۔72مربع کی رائے ونڈ کی ڈویلپمنٹ پر قومی خزانہ سے 11ارب خرچ کئے بی ایم ڈبلیو کاریں درآمد کرکے ڈیوٹی کی مد میں 2ارب کی کرپشن کی ۔ کرپشن کے ہولناک دستاویزاتی ثبوت ویب سائٹ پر جاری ۔ دستاویزات کے مطابق شریف خاندان کے خلاف 671 ارب روپے کی کرپشن‘ قرضے معاف کرانے اور قومی خزانہ کو بے دریغ نقصان پہنچانے کے مقدمات نیب کے پاس ہیں۔ چیئرمین نیب چوہدری قمر الزمان نے وزیراعظم پاکستان نواز شریف‘ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف تمام کرپشن مقدمات کی تفصیلات کا ریکارڈ تمام علاقائی نیب دفاتر سے منگوایا ہے۔ ان میں وہ مقدمات بھی شامل ہیں جو مختلف عدالتوں میں شریف خاندان کے خلاف زیر سماعت ہیں اور جن مقدمات میں ابھی تک انکوائریاں چل رہی ہیں۔۔ حا صل شدہ دستاویزات کے مطابق شریف خاندان گزشتہ چار دہائیوں سے حکومت میں ہے ان ادوار میں شریف خاندان کی دولت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور شریف خاندان کے خلاف تمام مقدمات کی تفصیلات سپریم کورٹ میں بھی موجود ہے جو سول پٹیشن 1615/2015 اور 2438/2015 کے ریکارڈ میں موجود ہے تاہم حکومت میں ہونے کے باعث آج تک کسی کرپشن کے مقدمہ کا فیصلہ شریف خاندان کے خلاف نہیں ہو سکا۔ دستاویزات کے مطابق شریف خاندان کے خلاف اتفاق فاﺅنڈری کے نام پر حاصل کیا گیا 4 ارب کے قرضے کا مقدمہ عدالت عالیہ راولپنڈی میں زیر سماعت ہے۔ شریف خاندان کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کا مقدمہ بھی زیر سماعت ہے