- الإعلانات -

مصطفیٰ کمال حکومت سے تعاون کریں، چوہدری نثار علی خان

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے سابق رہنما اور سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال 12 مئی 2007 کے موقع پر متحدہ کا حصہ تھے اور اس وقت لگنے والے الزامات پر خاموش تھے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ 3 مارچ کو مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں متحدہ قومی موومنٹ سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے ایم کیو ایم قائد الطاف حسین پر ہندوستانی خفیہ ادارے ‘را’ کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا تھا جبکہ ان کے شراب کے نشے میں خطاب کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔

اسی پریس کانفرنس میں مصطفیٰ کمال نے نئی جماعت بنانے کا بھی اعلان کیا، تاہم اس کا کوئی نام نہیں رکھا گیا اور پاکستانی پرچم کو پارٹی کا جھنڈا قرار دیا گیا تھا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ماضی میں ان کے ایم کیو ایم سے سیاسی تعلقات زیادہ اچھے نہیں رہے تاہم ان کی ذمہ داری ہے متحدہ کے ساتھ انصاف ہو۔

وزیر داخلہ نے کہا ’ مصطفیٰ کمال کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں اور حکومت سے تعاون کریں۔‘

چوہدری نثار نے کہا کہ بغیر ثبوت عوامی حمایت رکھنے والی جماعت پر کیسے پابندی لگائی جاسکتی ہے؟ متحدہ پر الزامات کے ٹھوس ثبوت ہونے چاہیئں۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم سے متعلق کسی کے پاس بھی کوئی ثبوت ہیں تو ان سے رابطہ کیا جائے۔

چوہدری نثار نے بتایا کہ سرفراز مرچَنٹ کو تفتیش کیلیے بلایا گیا ہے، ایف آئی اے نے سمن بھی جاری کیے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ سرفراز مرَچنٹ کے انٹرویو میں منی لانڈرنگ اور دیگر جرائم کی نشاندہی کی گئی، ان کی سہولت کے مطابق انہیں بلا کر معاملات پر تفتیش ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ سرفراز مرچَنٹ سے ایف آئی اے کا بالواسطہ رابطہ ہوگیا ہے جبکہ اسکاٹ لینڈ یارڈ سے رابطہ کیا جائے گا۔

انہوں نے سرفراز مرچنٹ سے اپیل کی کہ وہ تحقیقات میں تعاون کریں، حکومت انہیں مکمل سیکیورٹی کی ضمانت دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سرفراز مرچَنٹ نے انکار کیا تو برطانوی حکومت سے رجوع کیا جائے گا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ایم کیوایم پر لگنے والے الزامات کے تمام ممکنہ ملزمان برطانیہ میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے ”را”سے فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے بھی تحقیقات کرے گی اور اس حوالے سے حقائق سے قوم کو آگاہ کیا جائے گا۔

معاملے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اسے بنانے کا مطالبہ ’فیشن‘ بن گیا ہے، ایک سوچ بن گئی ہے کہ کسی کو چھینک بھی آئے تو جوڈیشل کمیشن بن جائے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ ضرورت محسوس کی تو جوڈیشل کمیشن بھی بنادیا جائے گا۔

 

مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی جانب سے ایم کیو ایم قائد پر الزامات کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جودیشل کمیشن کا مطالبہ کیا تھا۔

جماعت کے سربراہ عمران خان نے مصطفیٰ کمال کو ’قابل بھروسہ‘ شخص قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ایم کیو ایم پر سنجیدہ الزامات لگائے ہیں، حکومت ان کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو سمجھیں گے کہ حکومت ذمہ داری نہیں لے رہی۔

دوسری جانب ایم کیو ایم خود پر عائد ہونے والے الزامات کو مسترد کررہی ہے۔

پارٹی کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر ندیم نصرت نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے گزارش ہے کہ ‘کسی’ پر ہاتھ رکھنے کے بجائے الطاف حسین سے بات کرے۔