- الإعلانات -

فورجی معاملے پر وفاقی حکومت نیب کے موقف سے متفق نہیں ،عدالت نیب تفتیشی کی مانے یاوفاقی حکومت کی؟اسلام آبادہائیکورٹ،پی ٹی اے کے دو سابق ممبران کی ضمانت قبل ازگرفتاری منظور

اسلام آبادہائیکورٹ نے فور جی لائسنس نیلامی میں قومی خزانے کو50 ارب روپے کے نقصان کے الزام میں پی ٹی اے کے 2سابق ممبران کی ضمانت قبل ازگرفتاری منظور کرلی،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فورجی معاملے پر وفاقی حکومت نیب کے موقف سے متفق نہیں ،عدالت نیب تفتیشی کی مانے یاوفاقی حکومت کی؟دونوں کے الگ الگ موقف ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں فور جی لائسنس نیلامی میں قومی خزانے کو50 اب روپے کے نقصان کے الزام میں پی ٹی اے کے دو سابق ممبران کی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری پرسماعت کی،چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں بنچ نے درخواست پر سماعت کی،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ فورجی معاملے پر وفاقی حکومت نیب کے موقف سے متفق نہیں ،موجودہ چیئرمین پی ٹی اے کون ہے جنہوں نے 2019 میں لائسنس کی تجدید کی،کیاوہ ملزم ہیں؟عدالت نے استفسار کیا کہ کیاموجودہ چیئرمین پی ٹی اے اس کیس میں ملزم ہیں ؟،پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ اگرچیئرمین پی ٹی اے کے خلاف ثبوت ملاتوگرفتار کریں گے،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ ہم نے کل ہی اپنے فیصلے میں کہا کہ نیب من پسند گرفتاریاں نہیں کرسکتا ،پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ جس کے خلاف ہمارے پاس شواہد آئیں گے اس کے خلاف ایکشن لیں گے ۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیانیب نے نئے چیئرمین پی ٹی اے کوکوئی کال اپ نوٹس بھیجا؟آپ جس کو گرفتار کرتے ہیں ان کے بارے میں ماحول ایسابناتے ہیں وہ کرپٹ ہیں،عدالت کے مدنظر ہے نیب من پسند گرفتاریاں کرتا ہے،پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ ایساتاثر ٹھیک نہیں کہ ہم من پسند لوگوں کو گرفتار کرتے ہیں،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ نیب کو ہرعمل کرپٹ ہی کیوں نظرآتا ہے؟کسی کی غلطی بھی توہوسکتی ہے،نیب جوکچھ کہہ رہاہے یہ دیگر بزنس کمیونٹی کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہاکہ نیب یہ کہہ رہاہے یہ ملزم ہے وفاق بھی ان کیساتھ اس میں شامل ہے،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ کیاکل آپ یہ کہیں گے جس شخص نے جواب جمع کرایااس کاذاتی موقف ہے،عدالت نے نیب سے استفسار کیاکہ کیاآپ نے موجودہ سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی کیخلاف کارروائی شروع کی؟۔عدالت نیب تفتیشی کی مانے یاوفاقی حکومت کی؟دونوں کے الگ الگ موقف ہیں ۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد فور جی لائسنس نیلامی میں قومی خزانے کو50 ارب روپے کے نقصان کے الزام میں پی ٹی اے کے 2سابق ممبران کی ضمانت قبل ازگرفتاری منظور کرلی