- الإعلانات -

7 دن ہو گئے ہیں ملزمان کو جیلوں سے پیش نہیں کیا جا رہا، کیا حکومت اتنی نااہل ہے کہ . . .” چوہدری شوگر ملز کیس کی سماعت ائندہ سال تک ملتوی لیکن عدالت کو یہ بات کیوں کہنا پڑی؟ خبرآگئی

کیس کی سماعت کے آغاز پر احتساب عدالت کے جج چوہدری امیر خان نے جوڈیشل حراست مین ملزمان کو عدالت میں پیش نہ کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئےکہا کہ 7 دن ہو گئے ہیں ملزمان کو جیلوں سے پیش نہیں کیا جا رہا، کیا حکومت اتنی نااہل ہے کہ ملزمان کو پیش نہیں کرا سکتی؟جس پر نیب پراسکیوٹر حافظ اسداللہ اعوان نے کہا کہ لاء اینڈ آڈر کی صورت حال ٹھیک نہیں ہے، جس پر فاضل جج نے استفسار کیا کہ کیا وکلا نے جوڈیشل کسٹڈی کے ملزمان کو پیش کرنے کا کہہ رکھا ہے،معافی کیوں نہیں مانگ لی جاتی معاملہ ختم کریں۔

اس موقع پر ایڈوکیٹ سلمان نے کہا کہ ہائیکورٹ میں تو روٹین کی کاروائی ہو رہی ہے، وکلا کی جانب سے کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔جس پر جج چویدری امیر خان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملزمان کو پیش نہیں کر سکتے تو چوڑیاں پہن کر گھر بیٹھ جائیں، ملک میں جنگ نہیں لگی کہ ملزمان کو پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے بڑا اور کیا غیر قانونی اقدام ہو سکتا ہے، تھانے اور عدالتیں بند کر دیں اگر نظام نہیں چل سکتا۔

عدالت نے ڈی آئی جی اور سپریڈنٹ جیل کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا اور کیس کی سماعت 3 جنوری تک ملتوی کر دی۔