- الإعلانات -

سنی اتحاد کونسل نے مشرف فیصلے پر تفصیلی شرعی اعلامیہ جاری کردیا

سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضاکی ہدایت پر سنی اتحاد کونسل کے پچاس جید مفتیان کرام نے تفصیلی شرعی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ قضا کے احکام کتا ب اللہ ، سنت رسول اور اجماع سے ثابت ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ”اے داؤد! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنادیا لہذٰا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو۔”(٢٦:٣٨) قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہے: ”آپ(ﷺ )ان کے معاملات میں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی کے مطابق ہی فیصلہ کریں۔”(المائدہ:٤٩) ان دو آیات سے واضح ہوا کہ قاضی (جج) کے لیے ضروری ہے کہ شریعت اسلامیہ کی روشنی میں فیصلے کرے۔حدیث مبارکہ میں نبی مکرم رحمت دوعالم ﷺنےارشادفرمایاکہ”کوئی حاکم غصہ کی حالت میں دوآدمیوں کےدرمیان فیصلہ نہ دے۔ ”(صحیح بخاری شریف)۔امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ قاضی (جج)میں سب سے اعلیٰ اور اچھی خوبی یہ ہے کہ وہ غصہ میں نہ آئے اور کسی فریق سے عنادو کینہ نہ رکھے۔(بدائع الفوائد)۔

ضرور پڑھیں: پرویز مشرف کیخلاف تفصیلی فیصلہ ، فواد چوہدری نے ایک مرتبہ پھر بیان جاری کر دیا

تفصیلی شرعی اعلامیہ میں علماء نے کہا ہے کہ صرف ایک فریق کو سننا اور دوسرے کو سنے بغیر مذکورہ قاضی(جج) کا فیصلہ دینا شرعاََ جائز نہیں اور نہ ہی یہ فیصلہ معتبر ہے۔سنن ابو دائود میں سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم رحمت دو عالمﷺنے حکم دیا کہ مدعی اور مدعا علیہ کو (فیصلے کے وقت) قاضی (جج)کے سامنے موجود ہونا چاہیے۔ سنن ترمذی میں حضرت علی شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم سے رووایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ :جب تمہارے پاس دو شخص فیصلہ کی غرض سے حاضر ہوں تو کسی ایک کے لیے اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا جب تک دوسرے کونہ سن لیں۔ مشرف کیس میں فیصلہ ایک فریق کو سنے بغیر سنایا گیا ، متذکرہ حدیث سے فیصلہ غیر شرعی ثابت ہوتا ہے۔جید مفتیان کرام نے شرعی اعلامیہ میں مزید کہا کہ مسلمان کی میت کو فوری دفنانا حکم شرعی ہے۔ میت کا مثلہ ناجائز ہے اور مسلمان کی عزت و حرمت کعبہ کی حرمت سے زیادہ ہے۔ احادیث نبوی سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جیسا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا یہ طرز عمل تھا کہ اگر میدان جنگ میں یا اس قسم کے حالات میں آپ کو کوئی نعش پڑی ملتی تو آپ ﷺاس کی تدفین کا حکم دیتے اور اپنی نگرانی میں دفن کرواتے اور یہ نہ پوچھتے کہ یہ مومن کی نعش ہے یا کافر کی ۔(السیرة الحلبیہ)۔ حضرت عبد اللہ بن یزیدؓ سے روایت ہے کہ آقائے رحمتﷺ نے ڈاکہ زنی اور میت کے مثلہ سے منع فرمایا۔(بخاری)۔

مفتیان کرام نے انسانی جان کی حرمت کے بارے میں سنن ابن ماجہ کی حدیث بیان کی کہ :حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:میں نے حضور اکرم رحمت دوعالم ﷺ کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا :(اے کعبہ!)تو کتنا عمدہ ہے او رتیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمدﷺ کی جان ہے، مومن کے جان و مال کی حرمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہیے۔”اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”میت کی ہڈی توڑنا زندہ انسان کی ہڈی توڑنے جیسا ہے۔”امام طیبی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ میت کی بے حرمتی جائز نہیں جیسا کہ زندہ کی توہین ناجائز ہے۔

مفتیان کرام نے کہا کہ اپنے فتویٰ کو ثابت کرنے کے لیے کسی بھی قاضی (جج ) سے مناظرہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ قاضی (جج) کا تین دن نعش لٹکانے کا حکم غیر شرعی ہے اور شریعت اسلامیہ سے جہالت پر مبنی ہے۔قاضی(جج) کے لیے بنیادی شرط یہ بھی ہے کہ وہ قرآن و سنت اور شریعت کا وسبع علم رکھتا ہو اور اجتھاد کی اہلیت بھی رکھتا ہو جیسا کہ امام احمد بن حنبل اور دوسرے آئمہ نے اس شرائط کو بیان کیا ہے۔(اعلام الموقعین)۔ مشرف کیس کا فیصلہ قر آن و سنت سے متصادم اور آئین پاکستان کے بھی خلاف ہے،اس فیصلے سے قاضی(جج) کی عدم اہلیت بھی واضح ہے۔اجتماعی شرعی اعلامیہ جاری کرنے والوں میں شیخ الحدیث علامہ سعید قمر سیالوی، مفتی محمد حسیب قادری، مفتی محمد کریم خان، مفتی رحمت اللہ رضوی، مفتی محمد بخش رضوی، مفتی محمد وزیرالقادری، مولانا محمد سلطان چشتی، مولانا اللہ وسایا سعیدی، مولانا محمد صدیق قادری، مفتی محمد لیاقت علی، مفتی وسیم خان، مولاناوجاہت حسین قادری، مفتی محمد امیر خان، مفتی عبد القدیر ،مولانا عبد الشکور، علامہ محمد اعظم نوری و دیگر شامل ہیں۔