- الإعلانات -

قصور سکینڈل میں ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی جائے: پیمرا

Kasur

قصور سکینڈل میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی تحقیقات جاری ہیں۔ آج جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی ہدایت پر متاثرین کا طبی معائنہ کرایا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سکینڈل میں اب تک دو درجن سے زائد شکایات درج کروائی جا چکی ہیں۔ اور اس سلسلے میں ایک اہم ملزم رمضان عرف جانا کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیے ہے ۔ دوسری جانب پاکستان الیکٹرانک میڈیا اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ٹی وی چینلز کو ہدایات دی ہیں کہ وہ قصور اسکینڈل کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کریں۔ پیمرا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ بچوں اور ان کے والدین کے چہرے میڈیا پر نہ دکھائے جائیں اور نہ ہی ان کی شناخت ظاہر کی جائے۔ پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلز کو یہ ہدایات بھی دی گئیں ہیں کہ وہ واقعے کی گرافک تفصیلات بھی فراہم نہ کریں۔ میڈیا ریگولیٹری ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچے پہلے ہی شدید صدمے سے دوچار ہیں، لہذا میڈیا کو ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انھیں مزید کریدنا نہیں چاہیے۔ گذشتہ دنوں میڈیا میں آنے والی خبروں میں انکشاف کیا گیا تھا کہ قصور سے پانچ کلو میٹر دور قائم حسین خان والا گاؤں میں 14 سال سے کم عمر کے 280 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ اس دوران ان کی فلم بندی بھی کی گئی۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پانچ رکنی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم(جے آئی ٹی) بھی تشکیل دی۔ قصور واقعے کے حوالے سے یونیسیف جنوبی ایشیا کے مقامی نائب ڈائریکٹر فلپ کوری کا کہنا ہے کہ ’کسی بچے کو تشدد، بدسلوکی یا استحصال کا شکار نہیں بننا چاہیے، قصور میں ہونے والے سنگین نوعیت کے جرائم کے بعد یہ بات زور پکڑتی ہے کہ بچوں کو اس قسم کی بدسلوکی سے ہر صورت بچایا جائے۔‘ یونیسیف کے نائب ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ضلع قصور میں گذشتہ کئی سالوں سے بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی رپورٹس انتہائی خوفناک ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یونیسیف مقامی اور قومی حکام سے ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے تاکہ کوئی بچہ ایسے خوفناک واقعات کا شکار نہ ہوسکے۔