- الإعلانات -

وفاقی حکومت کا16سال بعد ایک بار پھر غربت سروے کرانے پر غور

اسلام آباد:  وفاقی حکومت کا16سال بعد ایک بار پھر غربت سروے کرانے پر غور،حتمی فیصلہ وزیر اعظم کرینگے،آئندہ سروے میںدو ڈالر یومیہ کمانے اور 2350 کیلریز سے کم حاصل کرنے والے غریب تصور ہونگے،اس سے پہلے 1999میں بھی نواز شریف کے دور میں غربت سروے ہوا تھا ۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ملک میں 16 برس بعد بین الاقوامی معیار کے مطابق غربت سروے کروانے کا فیصلہ کر لیا ہے ، سروے کی حتمی تاریخ وزیر اعظم نواز شریف طے کریں گے ۔وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں غربت سروے بین الاقوامی معیار کے مطابق کروایا جائے گا ، سروے میں آمدن اور غذائیت دونوں کے ذریعے غربت جانچنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔ 2150 کیلریز یومیہ سے کم غذائیت حاصل کرنے والا غریب تصور کیا جاتا ہے ، آئندہ سروے میں 2350 کیلریز سے کم حاصل کرنے والے غریب تصور ہوگا۔ یومیہ ایک سے دو ڈالر کمانے والوں کو غریب تصور کیے جانے کا معاملہ بھی زیر غور ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ غربت سروے کی حتمی تاریخ وزیراعظم نواز شریف طے کریں گے، ملک میں پندرہ سال سے غربت سروے نہیں کیا گیا اس سے قبل 2008 میں غربت اسکور کارڈ تیار کیا گیا تھا ۔ دریں اثناء وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے ایک اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ حکومت نےغربت کی شرح کا جائزہ لینے اوراعدادوشمارجمع کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں ۔غربت سروے سے حکومت کو اپنی پالیسیاں وضع کرنے میں مدد ملے گی۔ غربت کے جائزے کے بعد حکومت تقسیم نو کی پالیسیوں اورپائیدار ترقی کے اہداف سمیت مناسب ترقیاتی اہداف طے کرسکے گی۔وزیر خزانہ نے خط غربت کے بارے میں فیصلہ کرنے کیلئے قابل اعتماد اعداد و شمار جمع کرنے اور ایک نیا نظام وضع کرنے کے لئے کی گئی کوششوں کوسراہا۔واضح رہے اس سے قبل 1999میں بھی نواز شریف کے دور میں ہی غربت سروے ہوا تھا