- الإعلانات -

پشاور،ملازمین کی بس میں دھماکے سے 15 افراد ہلاک

پشاور: سنہری مسجد روڈ کے قریب پشاور سیکریٹریٹ کے ملازمین کی بس میں دھماکے سے 15 افراد ہلاک اور خواتین و بچوں سمیت 25 سے زائد زخمی ہوگئے۔

دھماکا سنہری روڈ کے قریب پشاور سیکریٹریٹ کی بس میں ہوا، جس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

ایس پی کینٹ پشاور کاشف ذوالفقار نے دھماکے میں 15 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بس معمول کے مطابق اپنے مقرر وقت پر مردان سے سرکاری ملازمین کو لے کر پشاور آرہی تھی، جبکہ دھماکا خیز مواد بس کے اندر نصب تھا۔

ایس ایس پی آپریشنز عباس مجید مروت کے کہا کہ بس میں 40 سے زائد افراد سوار تھے اور بظاہر دھماکا پلانٹڈ ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا۔

بم ڈسپوزل یونٹ کے مطابق بس میں 8 کلو گرام بارودی مواد ٹائم ڈیوائس کے ساتھ سی این جی کے چار سلینڈرز کے قریب نصب کیا گیا تھا، جس کے پھٹنے سے مکمل طور پر تباہ ہوگئی.

دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کردیئے۔

زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اور دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں چند زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

صورتحال کے پیش نظر پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے بم دھماکے کی مذمت اور اس میں قیمتوں جانوں کی ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بزدلانہ حملے دہشت گردی کے خلاف قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتے، جبکہ حملے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم جانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے انسانیت کے دشمن ہیں۔

انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔