- الإعلانات -

25 غیر ملکی این جی اوز کو پاکستان میں کام کرنے کی منظوری

اسلام آباد: وزارت داخلہ نے 25 بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (آئی این جی اوز) کو نئے طریقہ کار کے تحت رجسٹریشن کرانے اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد پاکستان میں باضابطہ طور پر کام کرنے کی اجازت دے دی۔

آئی این جی اوز کو پاکستان میں کام کرنے کی منظوری وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے زیر صدارت وزارت داخلہ میں ہونے والے اجلاس میں دی گئی۔

130 غیر ملکی این جی اوز نے پاکستان میں نئے طریقہ کار کے تحت کام کرنے کی اجازت مانگی تھی، جن میں 25 کو ملک کی کام کرنے کی باضابطہ اجازت دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کام کرنے کی باضابطہ اجازت ان غیر ملکی این جی اوز کو دی گئی، جنہیں سیکیورٹی ایجنسیوں نے کلیئر قرار دیا تھا، چند آئی این جی اوز نے اب تک مطلوبہ دستاویزات جمع نہیں کرائیں جس کے لیے انہیں 15 روز کی مہلت دی گئی ہے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ مہلت ختم ہونے کے بعد ان آئی این جی اوز کے حوالے سے کیا فیصلہ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ نے، پاکستان میں کام کرنے کی اجازت مانگنے والی کسی غیر ملکی این جی او کی درخواست اب تک رد نہیں کی ہے، جبکہ ان این جی اوز کی رجسٹریشن کا عمل آئندہ چار سے چھ ہفتوں میں مکمل ہوگا۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جن غیر ملکی این جی اوز کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے اُن میں کے این کے جاپان، میڈیسنز سانز فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) آپریشنل سینٹر بیلجیئم، ایم ایس ایف فرانس، ایم ایس ایف ہالینڈ، رائل کامن ویلتھ سوسائٹی فار دی بلائنڈ برطانیہ، قطر چیرٹی، جی پیگو کارپوریشن امریکا، اوکسفام جی بی برطانیہ، ہیل پیگ انٹرنیشنل برطانیہ، کیئر انٹرنیشنل امریکا، سیکورز اسلامک فرانس، ایسوسی ایشن فار ایڈ اینڈ ریلیف جاپان، جے ای این جاپان، انٹرنیشنل میڈیکل کارپس امریکا، سعودی ریلیف کمیٹی فار افغانستان، ریلیف انٹرنیشنل امریکا، ورلڈ لرننگ انکارپوریٹڈ امریکا، ساکورا وہیل چیئر پراجیکٹ جاپان، ایکٹنگ اگینسٹ ہنگر امریکا، مڈلینڈ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن برطانیہ، ٹیرے ڈیز ہومز سوئٹزرلینڈ، دی فریڈ ہولوز فاؤنڈیشن آسٹریلیا، ہیلتھ کیئر فار آل انٹرنیشنل برطانیہ، کنگ عبداللہ ریلیف کیمپین فار پاکستان سعودی عرب اور امریکن ریفیوجی کمیٹی انٹرنیشنل امریکا شامل ہیں۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ اسی طریقہ کار کے تحت مقامی این جی اوز کی رجسٹریشن کے لیے تیار ہے۔

نجی سیکیورٹی کمپنیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے ہدایت کی جن سیکیورٹی کمپنیوں نے اب تک کوائف جمع نہیں کرائے ان کے لائسنس منسوخ کردیئے جائیں۔

اجلاس میں ’اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ‘ کا بھی جائزہ لیا گیا اور وزیر داخلہ کو بتایا گیا کہ منصوبہ افتتاح کے لیے تیار ہے۔