- الإعلانات -

ماضی کے حکمرانوں نے اپنے بچوں کا سوچا عوام کا نہیں اورایسے فیصلے کئے جن کا خمیازہ آج عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ڈاکٹر فردوش عاشق اعوان

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوش عاشق اعوان نے کہا ہے کہ سابق حکومتوں کے غلط اقدا مات کی وجہ سے حکومت کو مشکل فیصلے کرنے پڑے،ماضی کے حکمرانوں نے اپنے بچوں کا سوچا عوام کا نہیں اورایسے فیصلے کئے جن کا خمیازہ آج عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ، ماضی میں مسائل کو کارپٹ کے نیچے چھپایا گیا، بلوں میں اضافہ ایک مشکل فیصلہ ہے’ اب معیشت بہتر ہو رہی ہے اور ملک ترقی کی جانب رواں دواں ہے، رواں سال عوام کیلئے ریلیف کا سال ہے،گندم کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈائون کیا جائیگا’ عوام کی سہولت کیلئے یوٹیلیٹی سٹوروں پر6ارب کا ریلیف پیکج دیا گیا ہے، مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف وزیر اعظم نے آہنی ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے’ ملک کی ترقی کیلئے سیاسی اور معاشی استحکام آپس میں جڑے ہیں’سیاسی بونے مڈٹرم الیکشن کی باتیں کر رہے ہیں’ووٹ کو عزت دینے والے اپنی اصل منزل پر جا چکے ہیں’اتحادیوں کے جائز مطالبات پورے کریں گے’ پارلیمنٹ کو اب اپنا حقیقی کردار ادا کرنا ہے’تحریک انصاف ایک ریفارمز ایجنڈا لے کر آئی ہے’جو عناصر روڑے اٹکا رہے ہیں اب ان کی سنی نہیں جائے گی’پرفارمنس پر زیرو ٹالرنس ہے ۔ وہ اتوار کو لاہور پریس کلب میں میٹ دی پریس میں اظہار خیال کر رہی تھیں، لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری سمیت دیگر عہدیداربھی اس موقع پر موجود تھے،’ فردوس عاشق اعوان نے اس موقع پر یقین د ہانی کروائی کہ صحافیوں کے ساتھ ہونے والی کسی بھی زیادتی کا ازالہ کیا جائے گا،پی ٹی آئی اور عمران خان میڈیا کو اپنی طاقت سمجھتے ہیں ،ہم میڈیا کو ساتھ بٹھا کر معاملات میں بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں،جس پولیس اہلکار نے پریس کلب کے صدر کے ساتھ بد تمیزی کی ہے اس پر تحقیقات جاری ہیں اور جلداس کا تدارک کیاجائے گا۔ انہوںنے مزیدکہاکہ ملک میں جاری معاشی چیلنجز کے باعث صحافی بھی معاشی بحران کا شکار ہوئے،آج معیشت درست سمت میں گامزن ہے جس کے اثرات صحافتی اداروں میں بھی جلد نظر آئیں گے،اب صحافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر صحافیوں اور میڈیا کے مسائل حل کرنے کا وقت آ گیا ہے،صحافیوں اور پریس کلبوں کی سرپرستی حکومت کرے گی اور ان کی گرانٹس شروع کی جا رہی ہیں۔ انہوںنے مزید بتایاکہ پریس کلب میں انفارمیشن سنٹر بنا کر عوام کو دی جانے والی سہولتیں اور حکومتی ایجنڈہ عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا،اگلے دورے میں لاہور پریس کلب میں انفارمیشن سنٹر کا افتتاح کروں گی۔ ان کاکہناتھاکہ لاہور پریس کلب نے شوکت خانم ہسپتال بنانے میں ہراول دستے کا کردار ادا کیااوروزیراعظم عمران خان کی خواہش ہے کہ آج ایک بار پھر ملک کو چیلنجز سے نکالنے کے لئے اورہماری خامیوں پر قابو پانے کے لئے پریس کلب ہماری رہنمائی کریں۔ انہوںنے مزید بتایاکہ ہم نے میڈیا کنسلٹیشن کمیشن بنایا ہے،ہم میڈیا ورکرز اور مالکان کو ایک ساتھ بٹھا کر ان کے جائز مطالبات حل کروائیں گے۔ان کا کہناتھاکہ ہم صحا فی کالونی کے مسائل اورصحافیوں کی بے روزگاری، سوشل سکیورٹی، ہیلتھ کارڈ، گرانٹس سمیت تمام مسائل حل کرینگے۔ انہوں نے یقین دلایاکہ صحافی اظہارالحق کی گرفتاری کے معاملے پر بھی وزیراعظم سے بات کروں گی۔ انہوںنے بتایا کہ حکومت نے متفقہ ویج بورڈ ایوارڈ کا اعلان کر دیا ہے جس سے صحافیوں کے کافی مسائل حل ہوں گے اس کیخلاف مالکان سمیت کوئی عدالت میں نہیں گیا۔ انہوںنے کہاکہ اشتہارات کی پالیسی پر بھی عملدرآمد شروع کیا جا رہا ہے ۔ انہوںنے لاہور پریس کلب کو چھ سولرپینل اور چودہ ایئرکنڈیشن دینے کا بھی وعدہ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف میں یہ جمہوری حق ہے کہ ہر کوئی بات کر سکتا ہے’تحریک انصاف ہی ایسی پارٹی ہے جس میں لوگ کیبنٹ میٹنگ میں اختلاف رائے رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جنوبی پنجاب کو نظر انداز کیا گیا’ میں سمجھتی ہوں کہ پہلے نمبر پر جنوبی پنجاب کا بجٹ ہونا چاہئے تاکہ اس علاقے کی محرومیوںکو دورکیا جاسکے ماضی میںزیادہ بجٹ لاہور کو پیرس بنانے پر خرچ کر دیا گیا ایک بارش کے بعد آپ نے لاہور کو دیکھ لیا’ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بیوروکریسی میں موجود کچھ لوگ حکومتی کاموں کی راہ میں رکاوٹ ہیں جس سے حکومتی کارکردگی متاثر ہوتی ہے’اس نا انصافی کا تدارک ہوگا’ ‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اینکرز کے ساتھ معاملات یا جوتا دکھا نے کے معاملہ کا وزیر اعظم عمران خان نے نوٹس لیا ہے اور اس کو ہماری پارٹی نے بھی پسند نہیں کیا’ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے ہم پریس کلب کے ساتھ ریزولیشن کمیٹی بنائیں گے تاکہ ان واقعات کا تدارک ہو سکے’ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بدحال معیشت ہمیں ورثے میں ملی جو کہ 30ہزار ارب قرضے سے جڑی ہے اگر ہم اس کو درست نہ کرتے تو ہم بینک کرپٹ ہو جاتے اور ایسی صورتحال میں دنیا کا کوئی ملک ہمارے ساتھ کاروبار نہ کرتا اور نہ ہی ایسی صورت میںروپے کی کوئی ویلیو ہوتی اگر پی ٹی آئی کی حکومت اپنے دوست ممالک کے ساتھ ملکر ان مشکلات پر قابو نہ پاتی تو معیشت اور زیادہ خراب ہو جاتی’ حکومت بر وقت اقدامات نہ کرتی تو آج سب کچھ آپ کی برداشت سے باہر ہوتا’ سابق حکمران عوام کو چھوڑ کر بیرون ممالک کھانے کھا رہے ہیں’ہمیں موجودہ صورتحال کا اور مہنگائی کا پورا احساس ہے لیکن اب معیشت مستحکم ہو رہی ہے’ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے انڈسٹریلائزیشن پروگرام کے تحت انشاء اللہ باہر سے بہت ساری انویسٹمنٹ آ ئے گی’ اب بین الاقوامی طور پر پاکستان کی صورتحال بہتر ہو گئی ہے جو ریفارم ایجنڈا بنایا گیا ہے صوبے اس پر عمل کریں اور وفاق اپنا کردار ادا کرے اور صوبائی حکومتیں ان وسائل کو عوام پر خرچ کریں اس سے انڈسٹری آگے بڑھے گی’ جب آپ کی معیشت مضبوط ہو گی تو غریب کا چولہا چلے گا اس سے مہنگائی کے مسئلے سے نکلنے میں مدد ملے گی’ اس وقت ورلڈ بنک بھی آپ کے ساتھ ہے’اب ہم تکلیف کے مرحلہ سے نکل چکے ہیں’صوبے ریفارمز ایجنڈے پر عمل کریں