- الإعلانات -

عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے اور چھوٹے کاروبار کے لیے آسانیاں فراہم کرنے کے حوالے سے بڑا فیصلہ

 وزیراعظم عمرا ن خان نے عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے اور چھوٹے کاروبار کے لیے آسانیاں فراہم کرنے کے حوالے سے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ لائسنسنگ کا طریقہ کار آسان اور خود کار نظام متعارف کرایا جائے، صوبائی حکومتیں 74 مختلف قسم کے لائسنسز فوری طورپر ختم کریں تاکہ عام آدمی آسانی کے ساتھ چھوٹا کاروبار شروع کر سکے۔ وزیر اعظم میڈیا آفس کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے اور چھوٹے کاروبار میں آسانیاں فراہم کرنے کے لئے وزیر اعظم نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے لوکل گورنمنٹ کی سطح پر مختلف کاروباری سرگرمیوں کے لیے درکار ڈیڑھ سو کے لگ بھگ مختلف لائسنسز کے نظام کو ختم کرنے اور ضروری لائسنسز کے لیے طریقہ کار آسان بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کو برو¿ے کار لاتے ہوئے خود کار نظام متعارف کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعظم نے صوبائی حکومتوں کو 74 مختلف قسم کے لائسنسز ختم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ صوبوں میں لائسنسنگ رجیم کے حوالے سے اجلاس کے دوران وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ موجودہ نظام میں مختلف میٹروپولیٹن کارپوریشنز، میونسپل کارپوریشنز، ٹاو¿ن کمیٹیوں و دیگر اداروں کی جانب سے کاروبار کے لیے کم و بیش ڈیڑھ سو قسم کے مختلف لائسنسز درکار ہوتے ہیں۔اس نظام میں کرپشن، رشوت ستانی اور چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد کو ہراساں کیے جانے والے افراد کی شکایت عام ہے۔ وزیر اعظم نے پیچیدہ لائسنسگ رجیم پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کریانہ، کلاتھ، کلچہ شاپ وغیرہ جیسے چھوٹے کاروبار کےلئے لائسنس کی شرط عام آدمی کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے مترادف ہے ایسے 74 قسم کے غیر ضروری لائسنسوں کی شرط کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ایسے کاروبار جہاں انسپیکشن وغیرہ درکار ہے وہاں جدید ٹیکنالوجی کو برو¿ے کار لاکر خود کار نظام بنایا جائے تاکہ جہاں اس نظام کو آسانیاں میسر آئیں وہاں کرپشن ، رشوت خوری اور حراساں کرنے کی روش کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ غیر ضروری لائسنس ختم کرنے کا عمل 30 دنوں میں مکمل کیا جائے۔ وزیر اعظم نے وفاقی دارالحکومت میں میونسپل سروسز کی مد میں فیسوں میں خاطر خواہ اضافے اور اس کے نتیجے میں عوام کو پیش آنے والے مشکلات پر سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو عوام کے تحفظات دور کرنے اور اس اضافے پر نظر ثانی کی بھی ہدایت کی