- الإعلانات -

پاکستانی شہریوں کی حفاطت یقینی بنانے کیلئے چینی سفارتخانے کے تعاون سے طلبہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ پاکستانی شہریوں کی حفاطت یقینی بنانے کیلئے چینی سفارتخانے کے تعاون سے طلبہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔اس معاملے میں حکومت متحرک ہے اورصورتحال پر پوری نظر رکھے ہوئے ہے۔اپنے شہریوں کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھایاجائے گا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان وزارت خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے عالمی ادارہ صحت اوراقوام متحدہ نے چینی اقدامات کی تعریف کی ہے ۔چین میں موجود پاکستانیوں کی مدد کی ہر ممکن مددکیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔بیجنگ میں موجودپاکستانی سفارتخانہ مستقل طور پر چین میں موجود تمام پاکستانی طالبعلموں سے رابطہ کیا ہے ۔جو طلبہ رجسٹرڈ نہیں ہیں ان کیلئے ایمرجنسی نمبر ز جاری کئے ہیں تاکہ ان کی مدد کو بھی یقینی نہیں بنایاجاسکے۔

پاکستانیوں کے چین سے انخلا کے معاملے پر ترجمان وزارت خارجہ نے کہا ابھی کسی ملک نے وہاں سے اپنے شہری نہیںنکالے ہیں مذاکرات ہورہے ہیں، ہم بھی اپنے شہریوں کی حفاطت یقینی بنانے کیلئے چینی سفارتخانے کے تعاون سے طلبہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔حکومت متحرک ہے اور پوری نظر رکھے ہوئے ہے۔

بھارت کی جانب سے جنگی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا بھارت کی جانب سے جنگی جنون میں مبتلا بیانات اور اقدامات کا ایک سلسلہ چل نکلا ہے جو کہ بہت بدقسمت بات ہے۔بی جے پی حکومت اور قیادت اپنے ملک میں جاری کشمیر اور اقلیت مخالف بلوں پر سے توجہ ہٹانے کیلئے کوئی جارحیت کرسکتی ہے۔ اس خطرے سے آگاہ ہیں۔اور مسلح افواج ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کی صورتحال اوربھارتی اقدامات کومنظر عام پر لانے کیلئے اندرون اور بیرون ملک کوششیں جاری ہیں۔سو سے زائد ممالک میں ہمارے پروگرام ترتیب دیئے جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا افغانستان میں احتجاج کی خبریں موصول ہوئی ہیں اور اس حوالے سے افغانستان حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔