- الإعلانات -

پاکستانی آم اور کینو کے لیے افریقی مارکیٹ کھلنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

پاکستانی آم اور کینو کے لیے افریقی مارکیٹ کھلنے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ مشرقی افریقہ کی وسیع منڈی کے گیٹ وے کینیا کے قرنطینہ ڈپارٹمنٹ نے پاکستانی آم اور کینو کی امپورٹ کی اجازت دینے اور دونوں ملکوں کے درمیان قرنطینہ معاہدہ جلد طے کرنے کا عندیہ دیا ہے جس کے بعد پاکستان سے کینیا کو آم اور کینو کی ایکسپورٹ شروع کردی جائیگی۔

نیروبی میں جاری پاکستان افریقہ ٹریڈ کانفرنس کے موقع پر کینیا کے قرنطینہ حکام اور امپورٹرز سے پاکستانی وزارت تجارت سمیت پھل اور سبزیوں کے پاکستانی ایکسپورٹرز کی ملاقاتیں ہوئی ہیں جن میں دونوں ممالک کے مابین قرنطینہ معاہدہ کرنے اور افریقی مارکیٹ میں پاکستانی آم اور کینو کی رسائی آسان بنانے پر غور کیا گیا۔

پاکستانی وفد میں فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز کی نمائندگی کرنے والے پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلی وحید احمد کے مطابق کینیا کے قرنطینہ حکام پاکستان کا دورہ کرکے قرنطینہ نظام کے ساتھ آم اور کینو کی پراسیسنگ کا جائزہ لے چکے ہیں۔ اس ضمن میں پاکستانی وزارت تجارت اور وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ بھی اپنا ہوم ورک مکمل کرکے کینیا حکام کو بھیج چکی ہیں۔ نیروبی میں ہونے والی ملاقات میں کینیا کے حکام نے بتایا کہ پاکستان افریقہ قرنطینہ معاہدہ کے لیے سفارشات کینیا کی حکومت کو ارسال ک جاچکی ہیں جن کی منظوری ملتے ہیں پاکستان سے آم اور کینو کی درآمد شروع کردی جائیگی۔

وحید احمد کے مطابق کینیا مشرقی افریقہ کا گیٹ وے ہے اور پاکستانی آم اور کینو کی اچھی مارکیٹ بن سکتا ہے۔ قرنطینہ معاہدہ طے پانے کی صورت میں پاکستان کو آئندہ سیزن سے ایک بہتر مارکیٹ مل جائیگی جو آئندہ تین سال میں مستحکم مارکیٹ بن سکتی ہے۔

کینیا ترش پھلوں کی اچھی منڈی ہے جہاں مراکش اور مصر سمیت دیگر ملکوں سے بھی ترش پھل امپورٹ کیے جاتے ہیں جبکہ کینیا میں موسم گرما میں ام دستیاب نہیں ہوتا اس لیے پاکستانی آم کے لیے بھی کینیا میں کافی مواقع موجود ہیں۔

کینیا کے نجی شعبہ نے بھی پاکستان کے ساتھ پارٹی کلچر سیکٹر میں تعلقات کو مضبوط بنانے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ کینیا کے ایکسپورٹرز نے پاکستان سے ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کی ٹیکنالوجی لینے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ وحید احمد کے مطابق پی ایف وی اے کی کوششوں سے پاکستان میں آم کو فروٹ فلائیز سے پاک کرنے کے لیے ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ ٹیکنالوجی عام ہوچکی ہے۔ کینیا کے نجی شعبہ کو پاکستان ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ ٹیکنالوجی فراہم کرے گا اس سلسلے میں جلد دونوں ملکوں کے نجی شعبوں میں فالو اپ ملاقاتیں ہوں گی۔

وحید احمد نے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ کینیا کے ساتھ جلد از جلد قرنطینہ معاہدہ طے کیا جائے اور نیروبی میں پاکستانی سفارتخانہ متحرک رہے تو آم کے آئندہ سیزن سے ہی کینیا کو ایکسپورٹ کا آغاز کیا جاسکتا ہے جس سے برآمدات کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔