- الإعلانات -

پوری کوشش ہے کہ ایسا نظام تشکیل دیں کہ سول ملٹری ریسرچ کا انٹرفیس بنے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر دیئے گئے بیان میں انہوں نے کہا سائنس اور ٹیکنالوجی میں 1970کی دہائی تک پاکستان تیسری دیناکے اکثر ممالک سے بہت آگے تھا،1971 میں سانحہ مشرقی پاکستان ہوا، ہمارا تمام ترفوکس دفاع پر چلا گیا، غلطی یہ ہوئی کہ امریکا اور چین کی طرح سول ملٹری انٹرفیس بناتے ملٹری ریسرچ سول اور سول ریسرچ ملٹری شعبوں میں ٹرانسفر ہوتی فواد چودھری نے مزید کہا کہ ’یہ نہیں ہوا، اب پوری کوشش ہے کہ ایسا نظام تشکیل دیں کہ سول ملٹری ریسرچ کا انٹرفیس بنے۔اس ہفتے وزیر اعظم کو 30 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ پلان پیش کریں گے غیر روائتی برآمدات جن میں بائیوٹیکنالوجی کا سب سے بڑا حصہ ہو گا ہماری معیشت کو بدل کر رکھ دے گا۔‘ وفاقی وزیر کے مطابق ’ایسے ٹیکس سٹرکچر کی سفارش کی ہے کہ دینا بھر سے لوگ ٹیکنالوجی خصوصاً بائیو ٹیکنالوجی کیلئے پاکستان کو دیکھیں۔ اگر حکومت نے اپنا فوکس سائنس اورٹیکنالوجی پر رکھا تو ہم 25 سالوں میں ترقی پذیر ملکوں سے نکل کر ترقی یافتہ ملکوں میں آ جائیں گے۔