- الإعلانات -

رواں ماہ کے وسط میں ترک صدر رجب طیب اردوان کا دورہ متوقع ہے،دونوں ممالک کے مابین تجارتی شراکت میں اضافہ ہوسکتا ہے،ترک صدر کا بہت جامع دورہ ہوگا۔ عمران خان

وزیر اعظم عمران خان نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میانمار کی طرز پر اقلیتوں کی نسل کشی کی تیاری کررہی ہے،بھارت میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے تحت 50 کروڑ افراد کو شہریت کی فہرست سے خارج کر دیا جائے گا،امریکہ اور ایران کے مابین جنگ ٹل گئی،رواں ماہ کے وسط میں ترک صدر رجب طیب اردوان کا دورہ متوقع ہے،دونوں ممالک کے مابین تجارتی شراکت میں اضافہ ہوسکتا ہے،ترک صدر کا بہت جامع دورہ ہوگا۔ غیر ملکی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اقلیتی مسلم آبادی کو شہریت کے حقوق سے محروم کر رہے ہیں، بھارت میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے تحت 50 کروڑ افراد کو شہریت کی فہرست سے خارج کر دیا جائے گا،میانمار میں بھی پہلے رجسٹریشن ایکٹ شروع کیا اور مسلمانوں کو الگ کیا اور پھر نسل کشی کی گئی۔عمران خان نے بھارت میں مسلمانوں کی نشل کشی کے خطرے کا اظہار کیا۔وزیر اعظم عمران نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی کارروائیوں، مشرق وسطیٰ، افغانستان کی صورتحال، پاک ترک تعلقات، ملکی معیشت، موسمیاتی تبدیلیوں، بھارت کے ساتھ تعلقات اور دیگر امور پر تفصیل سے بات کی۔بھارت میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستان اور بنگلہ دیش میں نئی دہلی سے تارکین وطن کی آمد کے امکان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ بنگلہ دیش پہلے ہی تارکین وطن کو لینے سے انکار کرچکا ہے، مجھے لگتا ہے کہ بنگلہ دیش پہلے ہی پریشان ہے کیونکہ بھارت نے آسام میں نے کم از کم 20 لاکھ افراد کو شہریت سے محروم کردیا لیکن ان لوگوں کا کیا ہوگا۔امریکا اور ایران کے مابین حالیہ کشیدگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ کشیدگی ابھی بھی موجود ہے لیکن سفارتی کوششوں کے بعد خطے میں جنگ کا خطرہ ٹل گیا،ہم محسوس کرتے ہیں، ہم نے اپنا کردار ادا کیا جو تناؤ میں کمی کا باعث بنا لیکن اس کا کوئی مستقل حل ہونا چاہیے۔
پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک)میں چین کےقرضوں سےمتعلق خدشات اورتنقید کومسترد کرتے ہوئےوزیراعظم عمران خان نے واضح کیا یہ بات بالکل بے بنیاد ہے کہ پاکستان چین کے قرضوں کے جال میں پھنس رہا ہے۔مشرق وسطیٰ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بھرپور کوشش ہوگی کہ نفرت کی آگ کو کم کرکے تمام فریقین کو صلح کی میز پر لایا جائے تاکہ ممالک اپنے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر توجہ مرکوز کرسکیں۔وزیراعظم عمران خان نے امید ظاہر کی کہ رواں ماہ کےوسط میں ترک صدر رجب طیب اردوان کا دورہ متوقع ہے اور اس دوران دونوں ممالک کے مابین تجارتی شراکت میں اضافہ ہوسکتا ہے،  بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں ترکی کان کنی میں پاکستان کی مدد کرسکتا ہے، پاکستان ایک ایسا ملک ہےجو معدنیات سے مالا مال ہے لیکن ہم نے سونے اور تانبے کے حصول کے لیے کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی، ترک صدر کا بہت جامع دورہ ہوگا۔وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ 1920 میں خصوصی طور پر مسلمانوں نے مشکل وقت میں ترکی کی مدد کی تھی۔علاوہ ازیں انہوں نے 2020 میں ترکی اور برصغیر کے مسلمانوں کے مابین سخاوت اور تعلقات کاصد سالہ تقریب منانے کی تجویز پیش کی۔