- الإعلانات -

بھارتی ہائی کمیشن کا ناظم الامور دفتر خارجہ طلب ،9 فروری کو بھارتی قابض افواج کی طرف سے جنگ بندی لائن کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا،ترجمان دفتر خارجہ

 پاکستان نے پیر کو بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامورکو دفتر خارجہ طلب کیا اور 9 فروری 2020 ءکو بھارتی قابض افواج کی طرف سے جنگ بندی لائن کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل (جنوب ایشیاءو سارک) زاہد حفیط چغتائی نے بھارتی ہائی کمیشن کے ناطم الامور گورو اہلووالیا کو دفتر خارجہ طلب کرکے 9 فروری 2020ءکو لائن آف کنٹرول کے ساتھ ضلع کوٹلی کے دیہات جبر، سندھارا، سنمبل گلی اور دبسی پر بھارتی قابض افواج کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا جس کے نتیجہ میں بچوں اور خواتین سمیت 10 بےگناہ شہری شدید زخمی ہو گئے۔ بھارتی قابض افواج کی اندھا دھند اور بلااشتعال فائرنگ کے نتیجہ میں جبر گاﺅں کے محمد شبیر ولد شیخ محمد، جمیلہ بی بی دختر محمد دین، محمد امین ولد محمد دین، محمد یاسین، محمد سفیان ولد محمد یاسین شدید زخمی ہو گئے جبکہ سندھارا گاﺅں کے محمد حلیم ولد جمیل الدین، محمد ذیشان ولد محمد حلیم، محمد جنید ولد محمد حلیم کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسی طرح سنمبل گلی گاﺅں میں بھارتی قابض افواج کی اندھا دھند فائرنگ سے زبیدہ بی بی دختر محمد ظہیر اور دبسی گاﺅں کے رہائشی ظہیر ولد نقیب اللہ شدید زخمی ہو گئے۔بھارتی قابض افواج کی طرف سے ایل او سی کے ساتھ آبادیوں میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل (جنوب ایشیاءو سارک) زور دیا کہ بھارت کے ایسے بے حسی کے اقدامات 2003ءکے جنگ بندی معاہدے اور بین الاقوامی انسانی حقوق اور بین الاقوامی اقدار کی صریح خلاف ورزی اور ایل او سی پر مزید کشیدگی کو بڑھاوا دینے کے مترادف ہے اور علاقائی امن و سلامتی کے لئے خطرے کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر کشیدگی میں اضافہ کرکے بھارت اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بدتر ہوتی صورتحال سے توجہ ہٹا نہیں سکتا۔ ڈائریکٹرجنرل (جنوبی ایشیاءو سارک) نے بھارت پر زوردیا کہ وہ جنگ بندی سمجھوتہ کا احترام کرے، تازہ ترین اور اس سے قبل ہونے والی جنگ بندی کی دانستہ خلاف ورزیوں کے واقعات کی تحقیقات کرائے ، ”ایل اوسی“ اور ”ورکنگ باﺅنڈری“ پرامن برقرار رکھے۔ انہوں نے زوردیا کہ بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے پاکستان اور بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تفویض کردہ کردار ادا کرنے کی اجازت دے