- الإعلانات -

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا تنازعات اور میڈیا کے کردار بارے بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مناسب الفاظ کے چناﺅ کے ساتھ مو¿ثر ابلاغ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں کوئی بھی خبر آگے بڑھانے سے پہلے لازماً اس کی تصدیق کرنی چاہئے، جھوٹی اور جعلی خبروں کے پیچھے ہمیشہ ایک پوشیدہ ایجنڈا ہوتا ہے جس کا مقصد قوموں کے مابین اور معاشروں کے اندر تنازعات کو ہوا دینا ہوتا ہے، ہمیں سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ اور محتاط استعمال کو یقینی بنانے کے لئے عوامی سطح پر آگاہی پیدا کرنا ہوگی، دنیا میں اخلاقیات کی بجائے تجارت انصاف کا نیا پیمانہ بن چکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں کنونشن سینٹر میں تنازعات اور میڈیا کے کردار کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ سوشل میڈیا اپنے مثبت پہلوﺅں کے علاوہ پروپیگنڈا اور جھوٹی خبروں کے جدید آلہ کے طور پر بھی استعمال ہو رہا ہے، اس حوالے سے خبر دار رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کے مختلف ادارے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور میرے حوالے سے بھی مختلف انٹرویوز اور خبروں کو متعدد مرتبہ سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ دنیا میں زیادہ تر جنگیں مخصوص ایجنڈے کے تحت غلط معلومات کی بنیاد پر مسلط کی گئی ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے مغربی میڈیا کا حوالہ دیا جو عام طور پر اسلام کے خلاف خبروں کو زیادہ نمایاں کرتا ہے جس کے نتیجہ میں مسلمان برادری میں نفرت اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ 90ءکی دہائی میں عراق پر حملے کا جواز پیدا کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے متعلق تسلسل سے جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں اور اس کے نتیجہ میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں جبکہ املاک کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔ اس کا اثر عراق، ایران، لیبیا اور شام تک گیا اور پوری انسانیت کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ صدر عارف علوی کہا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ آج کی دنیا میں اخلاقیات کی بجائے تجارت انصاف کا نیا پیمانہ بن چکی ہے۔ انہوں نے قوم پر زور دیا کہ وہ غلط معلومات کا شکار نہ بنیں کیونکہ اسلامی تعلیمات میں بھی اس کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور کوئی بھی خبر بغیر تصدیق آگے نہیں بڑھانی چاہیے۔ صدر مملک نے کہا کہ امریکہ کے گزشتہ انتخابات میں جعلی خبروں کا اثر رہا ہے اور خدشہ ہے کہ پاکستان میں بھی 2023 ءکے آئندہ انتخابات میں جعلی تصویر کشی اور خبروں کے ذریعے عوامی رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کیا جا سکتا ہے