- الإعلانات -

ترکی کے صدر نے جرأت اور دلیری کے ساتھ کشمیری عوام کے حقوق کے لئے آواز بلند کی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

 (اے پی پی) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ترک صدر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کے دوران جرأت اور دلیری کے ساتھ کشمیری عوام کے حقوق کے لئے آواز بلند کی، پاکستان اور ترک عوام ایک ہیں، دونوں ممالک معاشی اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں تیزی سے ایک دوسرے کے قریب ہو رہے ہیں، ترک برادر ملک پاکستان کو ٹیکنالوجی کی فراہمی سے اقوام عالم کے نقشہ پر مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔ فردوس عاشق اعوان نے جمعہ کو پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان اور تک قوم اور قیادت ایک ہیں۔ ترکی مسلم اقوام عالم کو مشترکہ ایجنڈے کے ساتھ آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ پاکستان اور مسلم دنیا کے مسائل کو ایک مشترکہ حکمت عملی سے حل کرنے کے لئے ترک کوششیں قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترک عوام اور قیادت کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے کشمیری عوام سے بھارتی ظلم، جبر اور استبداد پر وزیر اعظم عمران خان کے دو ٹوک مؤقف کی تائید کی اور آواز بلند کی۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی طرف سے ہم ترک صدر رجب طیب اردوان اور وہاں کے عوام کے خصوصی طورپر مشکور ہیں کہ انہوں نے کشمیر میں بھارت ہندتوا ظلم و جبر پر پاکستانی مؤقف کو عالمی سطح پر بلند کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترک صدر نے اپنے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان کی آواز میں آواز ملائی ہے اور اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی عوام کی توقعات اور امنگوں پرپورا اترے ہیں۔ طیب اردوان نے اپنے خطاب میں پاکستان اور ترک عوام کو ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط رشتے سے جوڑنے کی کوشش کی ہے ۔دونوں ممالک کے عوام کئی صدیوں سے دلوں کے رشتے سے تزویراتی شراکت کے روپ دھار چکے ہیں۔ ترک صدر کا موجودہ دورہ دو طرفہ تعلقات، تجارت، معیشت اور تکنیکی اقدامات کو تقویت دے گا اور دونوں ممالک کے مشترکہ منصوبے ایک دوسرے کے حقیقی کلیدی تجارتی شراکت داری میں بدلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کو ڈیجیٹلائز کرنے کے لئے جن تصورات کو اختیار کیا ہے ترک صدر نے اس حوالے سے فنی اور تکنیکی مہارتوں کی اشتراکیت کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترک خاتون اول دنیا کی خواتین کے لئے اسلامی معاشرے کے اعتبار سے ایک رول ماڈل ہیں اور پاکستان کی خواتین کے جذبات کی عکاسی کی ہے۔ ان کی کوششوں سے خواتین کی معاشرتی اور روشن اقدار سے درخشاں چہرہ متعارف ہو رہا ہے