- الإعلانات -

تجارتی اور سرمایہ کاری روابط فروغ پا رہے ہیں

 ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکی کو بھی مشکل حالات کا سامنا رہا ہے، عزم و ہمت کے ساتھ ہم نے اپنی مشکلات پر قابو پایا، پاکستان اور ترکی کے درمیان سیاسی، دفاعی، تجارتی اور سرمایہ کاری روابط فروغ پا رہے ہیں، ہمارا دوطرفہ تجارتی حجم حقیقی صلاحیت سے کم ہے، پہلے مرحلے میں دوطرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر اور پھر بڑھا کر پانچ ارب ڈالر تک لے جانا ہوگا، ترک کمپنیاں پاکستان میں بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو یہاں پاک ترک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ترکی کے صدر نے کہا کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے جہاں آ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی ہے۔ بہترین مہمانداری پر پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت عارف علوی کے ساتھ کل میری بات چیت ہوئی اور آج قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان سے خطاب کا موقع ملا۔ ہم نے اعلیٰ سطح پر اپنے تعاون کو بڑھایا ہے۔ بزنس فورم کا اجلاس ہمارے لئے مفید ثابت ہوگا جس میں بزنس کمیونٹی کے نمائندے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تعلقات اقتصادی شراکت سے اب سیاسی، تجارتی اور سرمایہ کاری روابط میں فروغ پا رہے ہیں۔ توقع ہے کہ پاکستانی قیادت سے ہونے والی ملاقاتیں دوطرفہ تعلقات میں مفید ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطح کے دوروں سے دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات سامنے آتے ہیں۔ ہم دوطرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر سے پانچ ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں۔ ترک صدر نے کہا کہ اعلیٰ سطح پر تذویراتی تعاون کونسل کا چھٹا اجلاس آج ہو رہا ہے۔ ہمیں اپنے تجارتی تعلقات کو اس سطح پر لے جانے کی ضرورت ہے جس کے وہ حق دار ہیں۔ پاکستان اور ترکی کا باہمی تجارتی حجم اپنی صلاحیت سے بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ ترکی کی کمپنیاں پاکستان میں توانائی، تعمیرات اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ ترکی کی کمپنیاں دفاع، صحت اور دیگر شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔ ہم تیل و گیس کے شعبے میں اپنی کمپنیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کی مضبوط روایات نوجوان اور باصلاحیت نوجوان آبادی اور دیگر وسائل سے مالا مال ہیں۔ ترک صدر نے کہا کہ ترکی کو بھی مشکل حالات کا سامنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کاروبار میں آسانیوں کے لئے اہم اقدامات کر رہا ہے۔ رجب طیب اردوان نے کہا کہ ترکی کا قرضہ 72 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد تک لائے ہیں، عزم و ہمت سے اپنی مشکلات پر قابو پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے نتیجے پاکستان میں توانائی کا مسئلہ حل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ توانائی اور ٹرانسمیشن لائنوں کے منصوبے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ دونوں ممالک ٹرانسپورٹیشن، صحت، تعلیم اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں۔ ترک کمپنیاں پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کے شعبہ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون فروغ پا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے عوام کو علاج کے لئے مغربی ممالک جانا پڑتا ہے۔ ہم نے ترکی میں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہسپتال بنائے ہیں جہاں پر بہتر خدمات اور علاج معالجہ کی سہولیات میسر ہیں، اس شعبہ میں بھی ہم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔ علاج کے لئے دنیا سے لوگ ترکی کا رخ کرتے ہیں اور پاکستانی عوام بھی ترکی آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے سیاحت کے شعبہ میں بہت ترقی کی ہے اور 2009ء سے 2018ء کے دوران ترکی کا دورہ کرنے والے سیاحوں کی تعداد 13 ملین سے بڑھ کر 51 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کے ساتھ ساتھ بینکاری کے شعبہ میں بے حد ترقی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کو مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی کمپنیاں بھی مختلف شعبوں میں ترکی میں سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نہ صرف بین الاقوامی سرمایہ کاری کی حمایت کرتا ہے بلکہ ترکی کی شہریت کی بھی پیشکش کرتا ہے اور پاکستانی بھائیوں کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ترکی کی اقتصادی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا سرکاری قرضہ 30 فیصد تک کم کیا ہے اور سیاحت کے شعبے میں 9 لاکھ افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ 22 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی لائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط بینکاری شعبے، ابھرتی ہوئی ہوا بازی کی صنعت اور بڑھتی ہوئی برآمدات کی وجہ سے ترکی مختلف رکاوٹوں کے باوجود اقتصادی ترکی کی راہ پر گامزن ہے۔ صدر اردوان نے کہا کہ پاکستان وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں کاروباری ماحول کو فروغ دینے کیلئے اہم اقدامات کر رہا ہے