- الإعلانات -

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کشمیریوں کی جس واضح انداز میں حمایت کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی، دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ ترکی پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گاوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب

 وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے کشمیریوں کی جس واضح انداز میں حمایت کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی، انہوں نے دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ ترکی پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا، پاکستان اور ترکی کے تاریخی اور دوستانہ تعلقات کو تزویراتی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جا رہا ہے، دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے 13 ایم او یوز کو عملی شکل دی جائے گی، کوالالمپور سمٹ میں وزیراعظم کی عدم شرکت سے ترکی اور ملائیشیا کے پاکستان کے ساتھ تعلقات متاثر ہونے کا تاثر ہرگز درست نہیں، دونوں ممالک کی قیادتوں کے پاکستان کے ساتھ روابط نے ثابت کر دیا کہ ہما ے تعلقات میں رتی برابر بھی فرق نہیں آیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خارجہ نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے دو روزہ دورہ پاکستان مکمل ہونے پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ترک صدر نے مسئلہ کشمیر پر تشویش کا اظہار کیا اور کشمیریوں کی جس طرح واضح حمایت کا پیغام دیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر پاکستان کے موقف اور لائحہ عمل کو سراہا گیا ہے اور اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستان اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔ ایسے موقع پر صدر رجب طیب اردوان نے دنیا کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ ترکی پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا، ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر ترک صدر کی حمایت قابل تحسین ہے، انہوں نے اس حوالے سے واضح موقف پیش کیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات تاریخی نوعیت کے ہیں اور ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں، دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہو رہے ہیں اور اب اس بہترین دوستی کو تزویراتی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جا رہا ہے، صدر رجب طیب اردوان کے دورے میں اس حوالے سے اہم اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترک صدر کے دورے کے دوران مشترکہ بزنس فورم کا انعقاد ایک اہم پیش رفت تھی۔ وزیراعظم عمران خان اور صدر رجب طیب اردوان نے مشترکہ طور پر بزنس فورم کی صدارت کی جس میں 100 کے قریب ترک کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ دو روز میں بی ٹو بی اجلاس ہوئے جن میں دونوں ممالک کی کاروباری شخصیات میں رابطے قائم ہوئے اور مفید بات چیت ہوئی اس دوران مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے ایم او یوز تیار کئے گئے، وزیراعظم عمران خان اور صدر رجب طیب اردوان کی موجودگی میں ان ایم او یوز پر دستخط کئے گئے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اب ان ایم او یوز کو منصوبوں کی صورت میں عملی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک اہم معاہدہ سٹرٹیجک اکنامک فریم ورک سے متعلق ہے جس پر وزیراعظم عمران خان اور صدر رجب طیب اردوان نے دستخط کئے۔ اس کا تصور وزیراعظم عمران خان کے دورہ ترکی میں پیش کیا گیا تھا جسے بے حد سراہا گیا۔ اس حوالے سے پورا ایک سال بات چیت جاری رہی اور دونوں اطراف سے متعلقہ وزارتوں نے اسے حتمی شکل دینے کیلئے کام کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دو طرفہ تعلقات کو سٹرٹیجک پارٹنر شپ میں تبدیل کرنے کیلئے 71 نکاتی لائحہ عمل پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مجموعی طور پر 7 نشستیں ہوئیں جن میں 7 مشترکہ ورکنگ گروپس میں بات چیت کے دوران جتنے معاملات طے پائے گئے ان کی دونوں ممالک کی قیادت نے منظوری دیدی ہے جس کے نتیجے میں مفاہمت کی 13 یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ دو طرفہ بات چیت میں ایک اور اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ دو نئے ورکنگ گروپس طے پائے ہیں ان میں سے ایک دفاعی صنعت کے شعبہ میں تعاون سے متعلق ہے۔ دونوں ممالک میں اس شعبہ میں تعاون درست سمت میں جاری ہے جبکہ اس حوالے سے مزید تعاون کے روشن امکانات موجود ہیں۔ اسی طرح ایک ورکنگ گروپ پانی و زراعت کے شعبہ میں تعاون کے متعلق ہے۔ پاکستان کیلئے ایک زرعی ملک ہونے کی حیثیت سے یہ شعبہ انتہائی اہم ہے، اس کیلئے ترکی کے تجربات سے استفادہ کیا جائے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر طیب اردوان نے دورے کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کئے ہیں اس دورے سے ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات تاریخی ہیں اور آج پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوالالمپور سمٹ میں وزیراعظم کی عدم شرکت سے یہ تاثر ابھرا کہ ترکی اور ملائیشیا کے پاکستان کے ساتھ تعلقات متاثر ہوئے ہیں، یہ تاثر ہرگز درست نہیں، دونوں ممالک کی قیادتوں کے پاکستان کے ساتھ روابط نے ثابت کر دیا کہ ہمارا موقف درست تھا، پاکستان نے انہیں ہر مرحلے پر اعتماد میں لیا اور ہما رے تعلقات میں رتی برابر بھی فرق نہیں آیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کی وکالت کرینگے اور انہوں نے یہ ثابت کر دکھایا کہ ترکی پاکستان کا بہترین دوست ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صدر رجب طیب اردوان کے دورہ کے دوران طے پانے والے ایم او یوز کو حقیقی شکل دی جائے گی جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو گا