- الإعلانات -

چینی اور آٹے کی مصنوعی مہنگائی کی تحقیقات ہو رہی ہیں عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں چینی اور آٹے کی مصنوعی مہنگائی کی تحقیقات ہو رہی ہیں،جن طبقوں نے مہنگائی کرکے پیسہ بنایا ان کا پتہ چلتا جا رہا ہے جو بھی ملوث ہوا اس کو نہیں چھوڑیں گے، ایسا نظام لا رہے ہیں کہ کسی بھی چیز کے مہنگا ہونے سے قبل اس کا پتہ چل جائیگا اور بروقت اس کا انتظام کیا جائیگا،جب حکومت ملی تو ملک میں 40ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ تھا، 60ارب ڈالر کی چیزیں ہم باہر سے منگوا رہے تھے اور 20ارب ڈالر کی اشیاء ہم دنیا کو برآمد کررہے تھے جس کی وجہ سے روپے کی قدر گر گئی اور دالیں گھی سمیت کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہوئیں، حکومت صحت کے شعبہ میں انقلابی اقدامات اٹھا رہی ہے،طبی آلات کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے تاکہ نجی شعبہ آگے آئے اورزیادہ سے زیادہ ہسپتال بنیں،ہسپتالوں کی نجکاری کرنے کا تاثر غلط ہے بلکہ ہسپتالوں کو خود مختار بنانے کے ساتھ ساتھ ان میں بہترین مینجمنٹ سسٹم لایا جا رہا ہے، فلاحی ریاست کے ماڈل کی طرف جا رہے ہیں، مہینوں اور سالوں میں پاکستان تبدیل ہو گا اور سسٹم بھی تبدیل ہو گا، قانون کی حکمرانی ہو گی اور ملک میں عدل اور انصاف کا نظام آئے گا، دنیا میں سبز پاسپورٹ کی عزت ہوگی،میڈیا میں اس وقت باقاعدہ منصوبہ بندی سے حکومت کے خلاف بے بنیاد مہم چلائی جا رہی ہے۔ وہ ہفتہ کے روز گورنر ہائوس لاہور میں صحت انصاف کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور،وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ،وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت وزرائ،اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سمیت مختلف شخصیات موجود تھیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت کی طرف سے صحت انصاف کارڈ کا اجراء صحت کے شعبہ میں ایک انقلابی قدم ہے،اس پروگرام سے 70لاکھ خاندان مستفید ہوں گے جبکہ اب تک 50لاکھ خاندانوں کو ہیلتھ انشورنس کارڈکی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمزور طبقے کی زندگی میں بہتری لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، صحت کے شعبہ میں ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات لا رہے ہیں جس سے شعبہ میں بہتری آئے گی، ہسپتالوں کی نجکاری نہیں کی جارہی بلکہ اصلاحات کا عمل متعارف کروا رہے ہیں، پاکستان میں صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لا رہے ہیں، ہیلتھ مینجمنٹ سسٹم میں اصلاحات لا رہے ہیں تا کہ سرکاری ہسپتال بھی پرائیویٹ ہسپتال کی طرح کام کریں جہاں جزاء اور سزا کانظام ہو، سرکاری ہسپتالوں میں جزاء اور سزا کا عمل متعارف کروا رہے ہیں، خیبر پختونخواہ میں پہلی بار صحت انشورنس کارڈ متعارف کروایا جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں نے ہمیں دو تہائی اکثریت سے کامیاب کروایا، صحت، تعلیم اور روزگار کی فراہمی فلاحی ریاست کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ریاست مدینہ بھی پہلے دن قائم نہیں ہو گئی تھی اس میں بھی کچھ عرصہ لگا تھا، صحت انصاف کارڈ کے ذریعے کسی بھی نجی ہسپتال میں علاج کرایا جا سکے گا،ہم فلاحی ریاست کے ماڈل کی طرف جا رہے ہیں، مہنگائی سے جس نے بھی فائدہ اٹھایا جلد اس کا پتہ لگا رہے ہیں، مہنگائی کے خلاف جامع اقدامات کر رہے ہیں، مہنگائی کرنے والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے، پاکستانی کو عظیم فلاحی ریاست بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی مہنگائی میں ملوث عناصر کا پتہ لگا رہے ہیں ان کو نہیں چھوڑیں گے،ہم مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر پاکستان کو عظیم ریاست بنائیں گے جہاں انسانیت کا تحفظ اور کمزور طبقے کی ذمہ داری ریاست پر ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں عدل اور انصاف کا نظام آئے گا،دنیا میں سبز پاسپورٹ کی عزت ہوگی، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے پوچھیں کہ سبز پاسپورٹ کی عزت پہلے سے زیادہ ہے، پاکستان عظیم ملک بنے گا، باہر کی دنیا سے لوگ پاکستان میں نوکریاں ڈھونڈنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافہ کی تحقیقات ہو رہی ہیں، ملک میں ایسا نظام لائیں گے جس کے ذریعے آئندہ کوئی چیز مہنگی ہونے سے پہلے اس کا تعین کیا جائے گا ۔ قبل ازیں تقریب سے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار ، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے خطاب کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس موقع پر لوگوں میں صحت کارڈ تقسیم کئے