- الإعلانات -

نوشہرو فیروز میں ایم پی اے شہناز انصاری کے قتل میں ملوث مبینہ ملزمہ کو گرفتارکرلیاگیا،گرفتار ملزمہ دیگر ملزموں کی بہن ہے تاہم مقدمہ درج نہ ہوسکا ۔

نجی ٹی وی کے مطابق نوشہرو فیروز میں رکن سندھ اسمبلی شہناز انصاری کے قتل میں پولیس نے اہم شواہد جمع کرلئے ہیں،شہناز انصاری پر فائرنگ کرنے والوں میں خاتون بھی شامل ہے،تفتیشی ذرائع کاکہنا ہے کہ شہنازانصاری دو روز سے دریاخان مری کے علاقے میں تھیں،شہناز انصاری کا ایک روز قبل اپنے بہنوئی کے خاندان سے تصفیہ ہو گیاتھا،گھر میں خواتین کے درمیان تکرار کے بعد معاملہ بڑھا۔

پولیس نے شہناز انصاری قتل کے الزام میں خاتون کو حراست میں لے لیاہے،حراست میں لی گئی خاتون سلمیٰ کھوکھر فائرنگ کرنے والے ملزم وقار کھوکھر کی بہن ہے جبکہ فائرنگ کرنے والے ملزم تاحال گرفتار نہ ہوسکے 

واضح رہے کہ گزشتہ روز رکن سندھ اسمبلی شہناز انصاری ایک قاتلانہ حملے میں جان کی بازی ہار گئی تھیں،پولیس کے مطابق پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن سندھ اسمبلی شہناز انصاری پر نوشہرو فیروز کے قریب گاﺅں چاناری میں فائرنگ کی گئی جس میں وہ شدید زخمی ہوگئیں۔ خاتون رکن اسمبلی کو فوری طور پر شدید زخمی حالت میں نواب شاہ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئیں۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ زمین کے تنازعہ پر پیش آیا ، انہیں 3 گولیاں لگیں جس کے باعث وہ جانبر نہ ہوسکیں۔

مقتولہ رکن سندھ اسمبلی کے بھائی کا کہنا ہے کہ شہناز انصاری اپنے بہنوئی کے چہلم پر آئی تھیں، مخالفین نے انہیں دھمکیاں دی تھیں اور چہلم میں شریک ہونے سے روکا تھا لیکن وہ رسم چہلم میں شریک ہوئیں۔ جب چہلم کے پروگرام کا اختتام ہوا تو ملزمان نے سیدھی فائرنگ کرکے خاتون کو قتل کردیا۔