- الإعلانات -

سپریم کورٹ نے پنجاب کی سول اورڈسٹرکٹ کورٹ کو نمبر الاٹ کرنے سے متعلق کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرارسے پیشرفت رپورٹ طلب کرلی،،،جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے۔۔۔کچھ چیزیں عقل استعمال کرکے کرنی چاہیئں

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔۔۔۔ڈپٹی رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ پیش ہوئے۔۔۔جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے استفسار کیا کہ ججز کے تبادلے کے بعد مقدمات کہاں جاتے ہیں؟؟۔۔۔۔لوگ سارا دن دھکے کھاتے ہیں۔۔کیس سے متعلقہ کورٹ روم نہیں ملتا۔۔۔سینیر وکلا کا کہنا تھا کہ بعض واوقات عدالتی کمرے ڈھونڈنے کے چکر میں کیس ہی گزر جاتا ہے۔۔۔جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ڈپٹی رجسٹرار پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کو مشکلات ہوتی ہیں تو سوچیں عام آدمی کا کیا حال ہوگا۔۔۔۔۔معاملہ ہائیکورٹ کی حدود میں آتا ہے لیکن سپریم کورٹ اپنی آنکھیں بند نہیں رکھ سکتی۔۔عدالت نے حکم دیا کہ پنجاب کی تمام سول اینڈ ڈسٹرکٹ کورٹس کو روم نمبر اردو اورانگریزی میں جاری کیا جائے۔۔۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور قاعدہ کمیٹی معاملے جلد از جلد حل کریں۔۔سماعت 16 مارچ کو دوبارہ ہوگی۔