- الإعلانات -

کرونا وائرس، چین میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی سے متعلق کیس کی سماعت ، ہائیکورٹ نے کابینہ کے فیصلے کی کاپی طلب کر لی

تفصیلات کے مطابق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی پالیسی سے متعلق آئندہ سماعت پرآگاہ کیاجائے، کابینہ نے جو بھی فیصلہ کیا ہے 20 مارچ تک آگاہ کیاجائے۔بچوں کے والدین نے عدالت میں استدعا کی کہ ہماری بچوں کو وطن واپس لانے کا حکم دیا جائے ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ پوری دنیامیں جوہورہااس کوسامنے رکھ کربتائیں کیاحکم دے سکتے ہیں؟۔

سرکاری وکیل نے عدالت میں بتایا کہ صدر پاکستان چین کا دورہ کررہے ہیں۔ ڈی جی وزارت خارجہ نے عدالت میں بتایا کہ صدر کے دورے سے متعلق ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، کابینہ کے فیصلے سے ابھی ہمیں آگاہ نہیں کیا گیا

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکلا جس طرح قریب کھڑے ہیں یہ بھی منع ہے۔ڈی جی وزارت خارجہ نے عدالت میں کہا کہ چینی صوبہ ہوبے میں موجود پاکستانیوں کورقم دی جائےگی۔عدالت میں خاتون آبدیدہ ہو گئی اور کہا کہ ہمارے بچوں کوپاکستان لے آئیں،پیسے بھی نہ دیں۔درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ ایک طالبعلم نے بتایاچین میں کرونا کی کوریج پرپابندی ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دوسرے ملک کی پالیسی میں ہم مداخلت نہیں کرسکتے، معاملہ اتنا پیچیدہ ہے امریکانے یورپ کی فلائٹ پرپابندی لگادی۔ درخواستگزار نے کہا کہ کابینہ نے کیا فیصلہ کیا ؟ کوئی بھی بتانے والا نہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس پوری دنیا کا مسئلہ بن چکا ، بعض معاملات قانونی نہیں ہوتے،حکومتی پالیسی میں مداخلت نہیں کرسکتے۔ ڈی جی وزارت خارجہ نے عدالت میں بتایا کہ چین میں جاں بحق پاکستانی کاکرونا سے تعلق نہیں، چینی پولیس کے مطابق پاکستانی کی موت کرونا سے نہیں ہوئی