- الإعلانات -

خیبر پختونخوا میں تباہی 74 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے .

پشاور /اسلام آباد /شانگلہ /مظفر آباد /وادی خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان آزاد کشمیر میں شدید بارشوں کے باعث مکانات کی چھتیں گرنے اور سیلابی پانی میں بہہ جانے کے واقعات میں بچوں اور خواتین سمیت 74 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے . لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ قراقرم کئی مقامات سے بند ہوگئی  دونوں اطراف میں سینکڑوں مسافر گا ڑیاں اور مسافر پھنس کر رہ گئے بحرین میں رابطہ پل سیلابی پانی میں بہہ گیا. دریائے سوات میں اونچے درجے کا سیلاب آ گیا. پشاور میں شدید بارش کے باعث سڑکیں اور گلیاں ندی نالوں میں تبدیل ہو گئیں.صورتحال کے پیش نظر پی ڈی ایم اے نے سوات کے ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا  بارشوں کا سلسلہ آئندہ 24 گھنٹوں تک جاری رہنے کی پیشن گوئی کی گئی ۔ اتوار کو حکام کے مطابق حالیہ شدید بارشو ں سے شانگلہ میں 13 اور سوات میں 4، چلاس میں 4، تانگیر میں 5، تھور، دیر، چترال، چارسدہ، ملاکنڈ اور مانسہرہ میں ایک ایک کوہستان میں 9 ہلاکتیں ہوئی ہیں بیس سے زائد افراد زخمی ہیں جنھیں قریبی ہسپتالوں میں منتقل کرا دیاگیا سوات میں پولیس کے مطابق تحصیل کبل کے علاقے توتانو بانڈی میں خاتون بچی سمیت سیلابی ریلے میں بہہ گئی . دکوڑک میں بھی ایک شخص پانی کے تیز بہاؤ کی نظر ہوا، بنجوٹ میں آسمانی بجلی گرنے سے چھ سالا بچہ جاں بحق ہوا . کالام میں لینڈ سلائیڈنگ سے رابطہ سڑک بند ہوگئی ضلع شانگلہ میں پولیس کے مطابق علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ سے 40 سے زائد گھر وں کو نقصان پہنچا جس میں 9 افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔ شانگلہ میں شدید بارشوں سے مختلف مقامات پر سلائیڈنگ سے راستے بند ہوگئے برساتی نالوں میں طغیانی سے چار گاڑیاں اور متعدد پن بجلی گھر تباہ ہوگئے ہیں۔گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے علاقے چلاس میں مکان کی چھت گرنے سے چار افراد جا ں بحق تین خواتین زخمی ہوئیں پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں باپ اور تین بچے شامل ہیں ہلاک و زخمی ہونے والوں کو مقامی لوگوں نے ملبے سے نکال کر قریبی ہسپتال منتقل کردیا۔ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شہراہ قراقرم ہربن نالا اور دیگر نو مقامات پر بند ہوگئی ہیں جس سے کئی مسافر گاڑیاں پھنس گئیں۔سوات کے علاقے بحرین میں دریا میں طغیانی کے باعث رابطہ پل بہہ جانے سے مقامی لوگوں کو مشکلات کا سامنا رہا  دریائے سوات میں اونچے درجے کا سیلاب کا خطرہ ہے ادھر لائن آف کنڑول سے متصل ضلع نیلم کے علاقے سرگن میں مٹی کا تودہ گرنے سے آٹھ افراد دب کر جاں بحق ہو گے۔وادی نیلم میں قائم پولیس کے مرکزی کنڑول روم کے انچارج محمد ہاشم کے مطابق تحصیل شادرہ کے علاقے سرگن سام گام میں آنے والی لینڈ سلاڈنگ کی زد میں ایک مکان آیا جس کے نتیجے میں تین خواتین سمیت پانچ بچے جاں بحق اور ایک خاتون زخمی ہو گی۔جاں بحق ہونے والے تمام افراد کا ایک ہی خاندان سے تعلق ہے ۔پولیس کے مطابق ان تمام افراد کی لاشوں کو ملبے سے نکال لیا گیا  امدادی کاروائیوں میں فوج سمیت ضلعی انتظامیہ نے حصہ لیا۔ادھر پشاور میں گزشتہ رات ہونے والی شدید بارش کے باعث سڑکیں اور گلیاں ندی نالوں میں تبدیل ہو گئیں رابطہ پل زیر آب آنے کے باعث سیلابی پانی بٹہ تل پل مارکیٹ میں داخل ہوگیا جس کی وجہ سے 30 سے زائد دکانیں زیر آب آگئیں اور دکانداروں کا لاکھوں روپے کا نقصان ہوگیا۔ سیلابی پانی داخل ہونے کے کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مارکیٹ میں حکومتی مشینری نہ پہنچ سکی ادھر چارسدہ میں بھی شبقدر کے گاؤں چلماری میں مکان کی چھت گرنے سے ایک بچہ دب کر جاں بحق ہو گیا  ماں اور بھائی شدید زخمی ہو گئے۔ بالاکوٹ کے گاؤں پھاگل کاغان میں بھی گھر کی چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا  بٹگرام کے علاقے شملائے میں مکان کی چھت گرنے سے خاتون جاں بحق ہوئی۔ دوسری جانب شدید بارشوں کی وجہ سے کوہستان میں مختلف مقامات پر شمالی علاقوں کو ملانے والی بین الاقوامی شاہراہ ریشم ٹریفک کیلئے بند ہوگئی ہے اور بلا ک کے دونوں اطراف میں سینکڑوں مسافر گا ڑیاں اور مسافر پھنس کر رہ گئے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق مالاکنڈ، ہزارہ ڈویژن  گلگت بلتستان آزاد کشمیر اسلام آباد اور پشاور سمیت مختلف شہروں میں بارش  بالائی علاقوں میں پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔ادھر دوسری جانب پروونشل ڈیزازسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے ) نے کے پی کے میں بارش کے باعث مختلف حادثات میں 36 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بارشوں کے باعث 7 مکانات تباہ ہوئے پی ڈی ایم اے کے مطابق امدادی کارروائیوں کا آغاز کردیا گیا ہے  حکام بارشوں کے باعث ہونے والی تباہی کا تخمینہ بھی لگا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے بارشوں کے باعث ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو فوری طور پر بند سڑکیں کھولنے کا حکم دیا