- الإعلانات -

وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی سرکٹ ہاﺅس میں پریس کانفرنس

وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کے دارالحکومت کا فیصلہ اس کی منتخب اسمبلی کرے گی۔یہ معاملہ ہم نے اس خطے کے منتخب نمائندوں پر چھوڑ دیا ہے تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔سرکٹ ہاﺅس ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہاکہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ صوبے کا قیام تحریک ا نصاف حکومت کے منشور کا حصہ ہے۔انہوں نے کہاکہ دارالحکومت کہاں ہوگا اس بارے میں ابہام پیدا کیاگیا۔ایسی خبریں درست نہیں ہیں کہ جنوبی پنجاب صوبے کا سیکرٹریٹ بہاولپور میں قائم کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے طویل مشاورت کے بعد صوبے کے قیام کے حوالے سے اہم فیصلے کیے۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ تمام فیصلے مشاورت سے کیے جائیں اور کسی پر کوئی رائے مسلط نہ کی جائے۔یہ فیصلہ اس لیے کیاگیا تاکہ صوبے کے قیام کی جانب پیش رفت ہو سکے۔مشاورتی اجلاس میں یہ فیصلہ ہواتھا کہ ابتدائی طور پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساﺅتھ ملتان میں اور ایڈیشنل آئی جی ساﺅتھ بہاولپور میں کام کرے گا۔ان دو افسروں کی تعیناتی کے بعد انہیں کہا جائے گا کہ وہ سیکرٹریٹ کے قیام کے لیے اقدامات کریں۔اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ یکم جولائی سے سیکرٹریٹ کام شروع کردے۔حکومت چاہتی ہے کہ یکم جولائی سے یہ سیکرٹریٹ ملتان اور بہاولپور میں کام شروع کریں تاکہ اس بجٹ میں اس خطے کے لیے رقم بھی مختص کی جائے۔اس کے بعد اگلا مرحلہ صوبے کے قیام کے حوالے سے قانون سازی کا ہے ۔ ہم نے آگے بڑھنے کافیصلہ کیا تاکہ صوبے کے قیام کی راہ ہموارہوسکے۔صوبے کا دارالحکومت کہاں ہوگا یہ فیصلہ منتخب اسمبلی پورے خطے کی مشاورت کے ساتھ کرے گی۔وزیرخارجہ نے مزید کہاکہ ملتان کی ترقی بہاولپور کی ترقی کے ساتھ منسلک ہے۔اسی طرح بہاولپور کی ترقی ملتان،رحیم یارخان اور ڈیرہ غازی خان کی ترقی کے بغیرممکن نہیں۔انہوں نے کہاکہ میں نے کل پھر وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اس معاملے پر بات کی ہے اور ان سے بات کرنے کے بعد میں آج آپ سے مخاطب ہوں۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ماضی میں بھی صوبے کے قیام کے لیے کوششیں کی گئیں لیکن جب بھی بات آگے بڑھی تو اختلافات کو ہوا دے دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ جنوبی پنجاب صوبے کا قیام اس خطے کی عوام کا حق ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ مستقبل میں جنوبی پنجاب کے لیے مختص رقوم یہیں خرچ ہوںگی۔1970ءسے 2019ءتک جو بھی حکومتیں رہیں ان کے اعداد وشمار دیکھ لیں ہر دور میں جنوبی پنجاب کواس کاپورا حق نہیں ملا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اعداد وشمار کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ غربت بھی اسی خطے میں ہے۔انہوں نے کہاکہ وقت آگیا ہے کہ ہم متحد ہو کر اس سمت میں پیش قدمی کریں تاکہ اس خواب کو عملی تعبیر دی جاسک