- الإعلانات -

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل سید ذوالفقار عباس بخاری کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو

 وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل سید ذوالفقار عباس بخاری نے کہا ہے کہ 30 سالہ گند کی صفائی میں وقت لگتا ہے، مشکل وقت گزر گیا، سولہ ماہ کے قلیل عرصے میں ایک ملین کے قریب افرادی قوت باہر بھیجی زرمبادلہ 20 ارب ڈالر سے 23.5ارب ڈالر تک پہنچ گیا ، ہدف 35 ارب ڈالر سالانہ ہے, برانڈ پاکستان سے سیاحت کے دروازے کھلیں گے، ای او بی آئی میں لوٹ کھوسٹ کا خاتمہ کر دیا، پنشن 8500 کردی کم از کم اجرت تک لے جانا چاہتے ہیں، مریم نواز شریف کو ملک سے جانے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے، جنہوں نے سمندر پار پاکستانیوں کو عزت نہیں دی آج وہ خود سمندر پار پاکستانی بن چکے ہیں, آٹا و چینی بحران پر ایف آئی اے کی رپورٹ پر من و عن عمل ہوگا،گزشتہ سولہ ماہ کے دوران 7500 پاکستانی قیدیوں کو وطن واپس لائے۔ گزشتہ روز صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ 30 سالہ گند صاف کرنے میںکچھ وقت تو لگتا ہے گزشتہ سولہ ماہ کے دوران قوم نے کھٹن وقت دیکھا اب بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہیں اور وزیر اعظم عمران خان پہلے ہی 2020 کو مشکلات کے خاتمے کا سال قرار دے چکے ہیں, ہم نے زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی کام پر توجہ مزکور کر رکھی ہے ، یہی وجہ ہے کہ ان 16 ماہ کے دوران ایک ملین کے قریب افرادی قوت باہر بھیجی ہے ، زرمبادلہ جو پہلے20 ارب ڈالر تھا اب 23.5ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے ہمارا ٹارگٹ ہے کہ اسے 35 ارب ڈالر سالانہ تک لے جانا ہے اس کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ بھی ایم او یو کیے جا رہے ہیں ، قطر کے لیے ایک لاکھ افرادی قوت کا ٹارگٹ مکمل کر چکے ہیں ، خلیجی ممالک کے ساتھ ساتھ جاپان, ساوتھ کوریا, رومانیہ, ملائشیا, جرمنی پر کام جاری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جاپان کے لیے افرادی قوت کے لیے لینگویج سینٹر کھولے جائینگے جہاں جاپانی زبان سکھائی جائیگی ۔انہوں نے کہاکہ جب ہم اقتدار میں آئے تو افرادی قوت 7/8 ممالک تک محدود تھی اسے ہم 25 ممالک تک لے جائینگے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے وعدے کے مطابق اب تک 7500 پاکستانیوں کو دنیا کی مختلف جیلوں سے واپس لانے میں کامیاب ہوئے ہیں جن میں سعودی عرب سے 2620,یو اے ای سے 3500, عراق سے 668, ملائشیا سے 1500سمیت کویت قطر اور بحرین سے قیدیوں کی واپسی ہوئی ہے۔ زلفی بخاری نے کہا کہ جن جن حکمرانوں نے ماضی میں سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل پہ توجہ نہیں دی آج وہ خود سمندر پار پاکستانی بن چکے ہیں جن میں سب سے بڑے نواز شریف ہیں۔ سمندر پار پاکستانیوں کی زمین جائیدادپر قبضوں کی شکایات کے حوالے سے زلفی بخاری نے کہا کہ ان مقدمات کی سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک کورٹ کے قیام پر کام جاری ہے جلد ان پاکستانیوں کو خوشخبری ملے گی ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محنت نیک نیتی سے او پی ایف کا خسارہ ختم کر دیا گیا ، آج ادارہ منافع میں چلا گیا ہے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے صحت کارڈ, تعلیم صحت اور پنشن کی سہولیات پر بھی کام کر رہے ہیں انہیں ای او بی آئی سے پنشن دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ای او بی آئی میں اصلاحات لائے ہیں، خورشید شاہ دور میں ہونے والی لوٹ کھسوٹ پہ قابو پایا ہے، مختلف جائیدادوں کی واپسی ممکن ہو رہی ہے جس سے ای او بی آئی کے وسائل میں اضافہ ہوا ہے او ای سی ٹاورز کو لیز کر دیا ہے ،بوڑھے پنشنرز کی پنشن کو 8500تک لے گے ہیں ہماری کوشش ہے کہ ای او بی آئی کے وسائل سے اس پنشن کو کم از کم تنخواہ کے برابر لایا جائے ،اصلاحات سے ایک سہ ماہی میں کلیکشن 23 ارب روپے ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای او بی آئی ایکٹ میں تبدیلی لائی جا رہی ہے جس سے بھٹہ مزدور, گھریلو ملازم بھی اس میں شامل کیے جائینگے جبکہ فری لانس جرنلسٹس کو بھی شامل کیا جائے گا اور یہی ریاست مدینہ کا نقشہ ہو گا۔ زلفی بخاری نے کہا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 24ملین مزدور ہیںتاہم رجسٹرڈ تعداد صرف چار ملین ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹورازم پالیسی کے تحت کچھ لوگوں کو پی ٹی ڈی سی سے فارغ کیا ہے، ہوٹلز چلانا حکومتوں کا نہیں بلکہ نجی شعبہ کا کام ہے، سرکاری ریسٹ ہاوسز, موٹلز 30 سالہ لیز پہ دیئے جاینگے ٹورازم کے لیے پاکستان میں بہت مواقع ہیں ، پانچ سالہ ایکشن پلان مرتب کیا ہے کررونا کی وجہ سے کچھ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں 18 اپریل کو برانڈ پاکستان کی لانچنگ کا پروگرام ہے یہ بہت بڑا برانڈ ہے جس سے پوری دنیا کی توجہ پاکستان کے سیاحتی مقامات کی جانب توجہ مبذول کروانا ہے۔ زلفی بخاری نے کہا کہ بلاشبہ بے روزگاری و مہنگائی بڑا مسئلہ ہے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرکے عوام کو ریلیف جلد دیا جائے گا، تعمیراتی سیکٹر کو فعال کرکے بے روزگاری کے مسئلے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتخابی وعدے پورے کیے جا رہے ہیں این اے 53 کے علاقوں بالخصوص سواں میں زیادہ فنڈز خرچ کیے جا رہے ہیں اسی طرح بہارہ کہو, بری امام سمیت دیگر علاقوں میں مسائل کا حل اولین ترجیح ہے