- الإعلانات -

بھارت مقبوضہ کشمیر کو اقلیتی ریاست میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری بھارتی روئیے کا نوٹس لیں شاہ محمود قریشی

 وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کو اقلیتی ریاست میں تبدیل کرنا چاہتا ہے،کورونا وبا کے چیلنج کے باوجودبھارت نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کو معمول بنائے رکھا ، ہندوستان اپنی ہندتوا سوچ کی عکاسی کر رہا ہے، اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری بھارتی روئیے کا نوٹس لیں۔ ہفتہ کو اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت جب پوری دنیا کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مصروف ہے، اس وبا کے مضمرات سے اپنی معیشتوں کو بچانے اور بے روزگاری سے نمٹنے میں لگی ہوئی ہے ، ایسے وقت میں بھارت کے رویے میں ذرہ برابر تبدیلی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت، مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے، ڈومیسائل کے قوانین اور قواعد و ضوابط میں تبدیلیاں کر رہا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا جائے جو اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان، کی طرف سے گذشتہ پانچ سال سے، لاین آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں میں، ہر گزرتے سال کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کی جاتی ہے جس کا نشانہ خواتین اور بچے بھی بنتے ہیں اور ہمارے سیکورٹی فورسز کے جوان بھی نشانہ بنتے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک طرف ہندوستان سارک ممبر ممالک کو اس وبائی چیلنج سے نمٹنے کیلئے اکٹھے ہو کر مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی بات کرتا ہے تو دوسری طرف لائن آف کنٹرول پر ان کی طرف سے جارحانہ خلاف ورزیاں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے اس حوالے سے خصوصی اجلاس بلایا اور انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے لاک ڈاؤن کرنا ہے تو سیز فائر کا کیجئے۔بھارت نے کرونا کیلئے، بلا سوچے سمجھے 21 دن کا لاک ڈاؤن کیا۔ تاریخ میں 1947 کے بعد دوسری بڑی ہجرت اب دیکھنے میں آئی، لاکھوں کی تعداد میں لوگ دہلی اور بڑے شہروں سے نکل کر مضافات میں منتقل ہوئے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین اعتماد سازی کے جتنے اقدامات طے پاتے رہے ان میں سب سے اہم سیز فائر کی پابندی تھی لیکن بھارت نے اسی کی خلاف ورزی کو معمول بنائے رکھا۔ ہندوستان اپنی ہندتوا سوچ کی عکاسی کر رہا ہے ہم نے ہر عالمی فورم پر اس کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ میں نے صدر سیکورٹی کونسل اور سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو بار ہا خطوط لکھ کر ان اقدامات کی نشاندہی کی ہے۔ کل میں نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو ایک اور خط لکھا ہے جس میں، ہم نے باقی عوامل کے ساتھ ساتھ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس وقت پوری دنیا کو بھارت کے اس جارحانہ رویے کا نوٹس لینا چاہیے، پاکستان ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہا ہے۔پاکستان نے نہ صرف موجودہ وبائی چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے سارک ممالک کی وزرائے صحت ویڈیو کانفرنس کے انعقاد کی پیشکش کی بلکہ کووڈ 19 سارک ایمرجنسی فنڈ کیلئے 3 ملین ڈالر اپنے حصے کے طور پر، مختص کئے اور سیکرٹری جنرل سارک کو اس بابت آگاہ بھی کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف یہ مطالبہ کیا ہے کہ اس ایمرجنسی کووڈ 19 فنڈ کو سیکرٹری جنرل سارک کی سربراہی میں دے دیا جائے اور اس کے قواعد و ضوابط سے متعلقہ امور، ممبران کی مشاورت سے طے کیے جائیں