- الإعلانات -

احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے ابتدائی چار روز کے دوران 17 لاکھ اور 74 ہزار خاندان مستفید ہو چکے ہیں، ڈاکٹر ثانیہ نشتر

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ حکومت نے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت اتوار دوپہر تک مجموعی طور پر 22 ارب اور 46 کروڑ روپے تقسیم کر دیئے ہیں جس سے 17 لاکھ اور 74 ہزار خاندان مستفید ہو چکے ہیں، حکومت مشکل وقت میں ملک کے پسے ہوئے طبقے کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان تک جلد از جلد شفافیت اور باعزت طریقے کے ساتھ رقم کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، اسی لئے چھٹی والے دن بھی کام کر رہے ہیں، ایک بار میسیج کر کے جواب کا انتظار کریں اور بار بار میسیج نہ کریں، عوام سے اپیل ہے کہ جب تک آپ کو بلانے کیلئے تاریخ والا مسیج نہ آئے گھر سے نہ نکلیں، رقم کی تقسیم کے دوران بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا۔ اتوار کو پی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ابھی تک احساس پروگرام میں شامل ہونے کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، پروگرام میں رجسٹر ہونے کیلئے 8171 پر اپنا شناختی کارڈ نمبر ایس ایم ایس کریں، بیلنس کے بغیر بھی میسیج پہنچ جائے گا، ضروری نہیں کہ آپ اپنے موبائل فون سے ایس ایم ایس کریں، کسی کے بھی موبائل فون سے میسیج بھیج سکتے ہیں تاہم اس بات کا خیال رکھیں کہ جس موبائل فون سے آپ نے میسیج کیا ہے آپ کی اس سے جان پہچان ہونی چاہیے کیونکہ جواب بھی اسی کے نمبر پر آئے گا۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ لوگوں کو میسیجز سمجھنے میں بھی دشواری ہو رہی ہے، حکومت تین قسم کے میسیجز بھیج رہی ہے، ایک میسیج کیا جاتا ہے کہ آپ اس پروگرام کیلئے اہل نہیں ہیں، دوسری طرف ان لوگوں کو میسیج کیا جا رہا ہے جن کی جانچ پڑتال ابھی ہو رہی ہے، انہیں چاہیے کہ وہ اب اگلے پیغام کا انتظار کریں، اسی طرح ان لوگوں کو میسیجز بھیج رہے ہیں کہ آپ امداد کیلئے اہل ہیں، انہیں بھی چاہیے کہ وہ دوسرے میسیج کا انتظار کریں جس میں یہ لکھا ہو گا کہ آپ رقم کیلئے اہل ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ رقم وصولی کی تاریخ بھی درج ہو گی۔ معاون خصوصی برائے تخفیف غربت انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس ہجوم سے پھیلتا ہے اسلئے عوام سے اپیل ہے کہ جب تک آپ کو بلانے کیلئے تاریخ والا مسیج نہ آئے گھر سے نہ نکلیں۔انہوں نے کہا کہ اس دوران جن لوگوں کے سربراہ فوت ہو گئے ہیں تو انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ایسے لوگوں کو چاہیے کہ کال سینٹر میں کال کریں اور اس حوالے سے آگاہ کریں تو اس کے بعد انہیں اس رقم کیلئے اہل قرار دیا جائے گا۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ دیہاڑی دار اور نادار طبقے کے لوگ اس امداد کے حقدار ہیں، جن لوگوں کی تنخواہیں رکی ہوئی ہیں وہ اس امداد کے حقدار نہیں ہیں اسلئے کسی دوسرے کا حق مار کر اپنے لئے گناہوں کے انبار نہ لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں 17 ہزار پوائنٹس بنائے گئے ہیں جن میں سے نصف سے زیادہ کام کر رہے ہیں، بعض جگہوں پر اچھی طرح سے کام ہو رہا ہے اور بعض جگہوں سے اس حوالے سے شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں، اس کے علاوہ بعض جگہوں سے یہ بھی شکایات آ رہی ہیں کہ مستحقین کی رقم میں سے کٹوتی کی جا رہی ہے، بدعنوان عناصر کے خلاف کریک ڈائون جاری ہے اور اب تک 40 لوگوں کے خلاف ایف آر درج ہو چکی ہیں اور ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی