- الإعلانات -

سپریم کورٹ میںچیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں لارجر بینچ کی کورونا وائرس از خودنوٹس کیس کی سماعت

سپریم کورٹ نے کورونا وائرس از خودنوٹس کیس کی سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کر دی ہے۔عدالت عظمی  نے پنجاب حکومت کی جانب سے بین الصوبائی  مشروط سفری پابندی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے بین الصوبائی سفر کے لیے کورونا سرٹیفکیٹ کی پابندی کی شرط بھی ختم کر دی ہے جبکہ کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے کیے گئے اقدامات سے متعلق وفاق ،چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان سے تفصیلی رپورٹس بھی  طلب کر لی ہیں۔عدالت عظمی نے کورونا وائرس سے متعلق  ہونے والے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔ پیر کو  چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانج رکنی لارجر بینچ نے کورونا وائرس ازخودنوٹس کیس پرسماعت کی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل خالد جاوید خان عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔دوران سماعت   چیف جسٹس گلزار احمد نے کورونا وائرس کیخلاف حکومتی اقدامات پر ریمارکس دیئے کہ عدالت کی آبزرویشن سے نقصان ہوگا، لہذا ریمارکس دینے میں بہت احتیاط برت رہے ہیں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عدالت کو حکومتی ٹیم نے صرف اعدادو شمار بتائے، بریفنگ میں حکومتی ٹیم سے پانچ سوال پوچھے گئے  تھے۔چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ قانون سازی کے حوالے سے حکومت کا کیا ارادہ ہے؟ کیا ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے پارلیمان قانون سازی کرے گا؟کئی ممالک ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے قانون سازی کر چکے ہیں ،کیا ملک بند کرنے سے پہلے اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ، حکومتی مشیران اور وزرا مملکت پر اتنی رقم کیوں خرچ کی جا رہی ہے ؟ ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کوئی ملک کرونا سے لڑنے کیلئے پیشگی تیار نہیں تھا ،وہاں قانون سازی کی گئی ۔کیا یہاں پرپارلیمنٹیرینز پارلیمنٹ میں بیٹھنے سے خوفزدہ ہیں ؟ وفاقی و صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے راستے اختیار کر رکھے ہیں ، ہر سیاستدان اپنا علیحدہ بیان دے رہا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ  عدالت سیاسی لوگوں کے بیانات پر نہ جائے وفاقی اور صوبائی حکومتیں کورونا سے نمٹنے کیلئے  اپنی صلاحیت کے مطابق تدابیر اختیار کر رہی ہیں۔ جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کہ سماجی فاصلہ رکھنے کے احکامات پر حکومت کیا عمل کروا رہی ہے؟ جس  پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ  سماجی فاصلے کیلئے عوام کو خود بھی ذمہ داری لینا ہوگی، پولیس یا فوج 22 کروڑ عوام کو فاصلہ رکھنے  پر کیسے زبردستی کروا سکتے ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک وقت تھا ملکی معیشت کی بنیاد صنعتوں پر تھی،اب صنعتیں گودام بن چکی ہیں،ملک میں نجی سرمایہ کاری نہیں آرہی تو حکومت خود صنعتیں لگائے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آج وزیراعظم عمران خان قرض واپسی کیلئے مہلت کی اپیل کر رہے ہیں،وزیراعظم عمران خان  کی ایمانداری پر کوئی شک و شبہ نہیں ہے ،وزیراعظم کے پاس صلاحیت موجود  ہے کہ وہ  کام کے دس بندوں کا انتخاب کر سکیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلی بار پاکستان کو ایماندار وزیراعظم ملا ہے، پاکستان کے پاس یہ آخری موقع ہے بہتری نہ آئی تو نہ جانے کیا ہوگا۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خدشہ ہے ہم یہ آخری موقع بھی ضائع نہ کر دیں۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے  استفسار کیا کہ قانون سازی کے حوالے سے حکومت کا کیا ارادہ ہے؟پارلیمان نے ہی اس مسئلے کو حل کرنا ہے، پارلیمان کا اجلاس بلانے میں کیا ڈر ہے؟عدالت پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا حکم نہیں دے سکتی۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت عظمی کی آبزرویشن سے  متعلق حکومت کو آگاہ کروں گا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ سویلین ہوں یا فورسز سب اپنی کوشش کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ حکومت کے علاوہ سب حکومتوں کی تفصیلات ہمارے پاس ہیں, انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ ایسے حالات میں بھی پیسہ بنا رہے ہیں,زندگی بچانے کے معاملات میں بھی پیسے کھائے جائیں تو  مقصد ختم ہو جاتا ہے۔ وکیل امان اللہ کنرانی نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں جانے کے لیے کرونا سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا ہے۔چیف جسٹس  نے پنجاب حکومت کی جانب سے بین الاضلاعی مشروط سفری پابندی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ صوبائی  حکومت یہ پابندی کیسے لگا سکتی ہے۔دوران سماعت ایڈیشنل ایڈوووکٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے آرڈیننس 2020 کے ذریعے پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 15 وفاقی حکومت کا دائرہ اختیار ہے۔دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹر ز کو غیر معیاری غذا کی فراہمی کی شکایات ہیں ،ویڈیو دیکھی کہ ڈاکٹرز کھانے کی بجائے عام آدمی سے حفاظتی کٹس مانگ رہے ہیں ، پاکستان میں اتنے بڑے مینوفیکچررز موجود ہیں کیا وہ حفاظتی کٹس نہیں بنا سکتے ؟ڈاکٹرز اور طبی عملے کو حفاظتی کٹس کی فراہمی ترجیح ہونی چاہئے۔ یہ معاملہ ملک بھر کی عوام کی صحت کا ہے۔جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیئے کہ ملک میں کروناٹیسٹ کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت ہے۔دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا  کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کیا۔دوران سماعت چیف جسٹس کے استفسارپراٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل سامان بغیر ڈیوٹی چین بھجوانے کی انکوائری کی جارہی ہے،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ پہلے آٹا اورچینی باہربھیجی گئی ،اب میڈیکل آلات امپورٹ کرینگے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کورونا کے معاملہ پر صوبائی حکومتیں اور وفاق ایک پیج پر نہیں ہیں ،ہر سیاستدان اپنا علیحدہ بیان دے رہا ہے، سندھ میں کراچی کے کئی علاقے بند کردیئے گئے ہیں ،کیا اب پھر پورا کراچی بند کردینگے ؟۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ملک بھر میں  حفاظتی اقدامات کرکے ضروری کاروبار چلنے دیا جائے، ملکی معیشت پہلے ہی کمزور ہے، لوگوں کو کھانے پینے سے محروم نہیں کیا جا سکتا، انشاء اللہ ملک اس مشکل وقت سے نکل آئے گا۔دوران سماعت صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے دلائل دیئے  کہ ملک بھر میں  دس ہزار ڈاکٹرز کی رجسٹریشن رکی ہوئی ہے، جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ پی ایم ڈی سی کا معاملہ عدالت عظمیٰ  میں ہے اس پر الگ سے فیصلہ کرینگے۔ عدالت نے کیس پر سماعت 20 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے  وفاقی حکومت  اور  تمام صوبائی حکومتوں سمیت گلگت بلتستان حکومت سے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے کیے گئے اقدامات سے متعلق تفصیلی رپورٹس طلب کرتے ہوئے ملک بھر میں  ڈاکٹرز کومکمل سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے  تمام حکومتوں کو سینٹری ورکرز کو حفاظتی یونیفارم دینے کا حکم بھی دیا ہے۔عدالت نے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے زبانی بتایا گیا کہ صوبے میں 8 ارب روپے کا راشن تقسیم کیا گیا،تفصیل نہیں دی گئی،اس حوالے سے آئندہ سماعت پر تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔عدالت عظمی نے پنجاب حکومت کی جانب سے بین الصوبائی  مشروط سفری پابندی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے  بین الصوبائی سفر کے لیے کورونا سرٹیفکیٹ کی پابندی کی شرط ختم کرنے کا حکم دیا ہے