- الإعلانات -

عوام کوصحت عامہ کی سہولیات کی فراہمی اورانہیںمحفوظ بنانا، معاشرے کے کمزوراورغریب طبقات کونقدمعاونت اورمعیشت کے پہیہ کو آہستہ آہستہ پائیداراندازمیں چلانا حکومت کی اولین جیح ہے

وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ واقتصادی امورڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ کوروناوائرس سے پیداہونے والی صورت حال میں عوام کوصحت عامہ کی سہولیات کی فراہمی اورانہیںمحفوظ بنانا، معاشرے کے کمزوراورغریب طبقات کونقدمعاونت اورمعیشت کے پہیہ کو آہستہ آہستہ پائیداراندازمیں چلانا حکومت کی اولین جیح ہے، امیدہے عالمی بنک، آئی ایم ایف اور گروپ 20 کے ممالک ایسا منصوبہ سامنے لائیں گے جس سے پاکستان جیسے ترقی پذیرممالک کونہ صرف اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کوپوراکرنے بلکہ وباء سے بری طرح متاثرہونے شہریوں کو ریلیف کی فراہمی میں بھی آسانی ہوگی۔انہوں نے ان خیالات کااظہارپاکستان میں چین کے سفیریاوجنگ کے ساتھ ملاقات میں گفتگوکرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم کے مشیرنے کورونا وائرس کی عالمگیروباء سے نمٹنے میں چین کی جانب سے پاکستان کواب تک فراہم کی جانیوالی معاونت پرچین کی حکومت کاشکریہ اداکیا ۔انہوں نے چینی سفیرکو وباء سے متاثرہونے والے شہریوں اورکاروباروصنعتوں کیلئے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ امدادی پیکج کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ مشکل کی اس گھڑی میں عوام کوصحت عامہ کی سہولیات کی فراہمی اورانہیںمحفوظ بنانا، معاشرے کے کمزوراورغریب طبقات کونقدمعاونت اورمعیشت کے پہیہ کو آہستہ آہستہ پائیداراندازمیں چلانا حکومت کی اولین جیح ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے اس ضمن میں 1200 ارب روپے سے زائد کے جامع امدادی پیکج کا اعلان کیاہے، اس پیکج میں مزدوروں اورمحنت کشوں کیلئے 200 ارب روپے، چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کے کاروباراورزراعت کیلئے 100 ارب روپے،سیلزٹیکس ری فنڈ کیلئے 107 ارب روپے، انکم ٹیکس ری فنڈ کیلئے 50 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔اس کے علاوہ احساس پروگرام کے تحت معاشرے کے سب سے کمزورطبقات کو نقد معاونت کی فراہمی کاسلسلہ بھی جاری ہے،پیٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں کمی اوربجلی وگیس کے بلوں کی موخرادائیگی بھی اس پیکج کا حصہ ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے تعمیرات کے شعبہ کیلئے کئی مراعات کااعلان کیاہے، اس سے روزگارکے متلاشی افراد کو باعزت روزی کمانے کے مواقع میسرآئیں گے۔ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے چین کے سفیرکوکورونا وائرس کی عالمگیروباء سے ملک کی مجموعی معیشت پرپڑنے والے اثرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ وباء سے عالمی معیشت کسادبازاری کاشکارہوچکی ہے اورپاکستان میں اس کے نتیجہ میں برآمدات اورترسیلات زرمیں کمی آسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ممالک کا اقتصادی نقصانات کوبرداشت کرنے کی صلاحیت کے حوالہ سے الگ الگ استعدادہے اورحالیہ معاشی سست روی سے ترقی پذیرممالک کی معیشتیں بری طرح سے متاثرہوں گی، موجودہ منظرنامہ کوسامنے رکھتے ہوئے عالمی بنک، آئی ایم ایف اور گروپ 20 کے ممالک ترقی پذیرممالک کے قرضوں میں ریلیف کی بات کررہے ہیں کیونکہ اس کے بغیریہ ممالک شدید متاثرہوں گے۔وزیراعظم کے مشیرنے اس امید کااظہارکیا کہ عالمی بنک، آئی ایم ایف اور گروپ 20 کے ممالک ایسا منصوبہ سامنے لائیں گے کہ جس سے پاکستان جیسے ترقی پذیرممالک کونہ صرف اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کوپوراکرنے بلکہ وباء سے بری طرح متاثرہونے شہریوں کو ریلیف کی فراہمی میں بھی آسانی ہوگی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان وباء سے پیداہونے والی غیرمعمولی صورت حال سے نمٹنے میںمزید چینی معاونت کا منتظر ہے