- الإعلانات -

کورونا وائر س خطرناک عا لمی وباءہے جس کے سامنے پوری دنیابے بس ہے۔گورنر پنجاب

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ کورونا وائر س خطرناک عا لمی وباءہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے،بے شمار وسائل کے حامل ترقی یافتہ ممالک کورونا وائرس کے سامنے بے بس ہیں اس سے ایک بات پتہ چلتی ہے کہ سپریم پاور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے،زندہ قومیں ڈیزاسٹرز سے سیکھنے کے مواقع پیدا کر لیتی ہیں، ترقی یافتہ ممالک کا شعبہ صحت پاکستان سے کئی گنا بہتر ہے، ان ممالک کی شعبہ صحت کیلئے فنڈنگ ہم سے 20سے 30گنا تک زیادہ ہے جبکہ پاکستان کم وسائل کی بنا پرشعبہ صحت پر زیادہ خرچ نہیں کر سکتا، حکومت نے محدود وسائل میں کورونا سے متاثرہ افراد کیلئے لاہور ایکسپو سنٹر، کالاشاہ کاکو، ملتان، ڈیرہ غازی خان سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں قرنطینہ سنٹرز قائم کئے گئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو علاج معالجے کی سہولیات مہیا کی جا سکیں۔کورونا کو حکومت تنہا ڈیل نہیں کر سکتی،ماضی کی غلط معاشی پالیسیوں کے باعث مشکلات کا شکار ہیں،وزیر اعظم کے احساس کفالت پروگرام کے تحت 150ارب روپے کے پیکج سے ایک کروڑ 30لاکھ مستحق افراد کو گھر بیٹھے12000روپے مل رہے ہیں،جس ملک کا تجارتی خسارہ 19ارب ڈالر ہو گا وہ ترقی کیسے کر سکتا ہے،گزشتہ 5-4سالوں میں چینی پر 25 ارب روپے سبسڈی دی گئی جبکہ موجودہ حکومت نے صرف3 ارب روپے سبسڈی دی ہے، سبسڈی کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ جوں کی توں شائع کی گئی ہے،ٹیلی میڈیسن ہیلپ لائن پر 7 ہزار سے ز یادہ ڈاکٹرز رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں، ہزاروں لوگ روزانہ کی بیناد پر گھر بیٹھے چیک اپ کے ساتھ ساتھ طببی رہنمائی حاصل کر رہے ہیں جس سے ہسپتالوں میں لوگوں کا رش کم ہو گیا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے پی پی ٹی وی نیوز کے پروگرام”ڈائیلاگ“ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ صوبائی حکومتیں اپنے محدود وسائل میں کورونا وائس سے نپٹنے کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہیں۔ کورونا ایسی بیماری ہے جس کے لاحق ہونے کا مریض کو ابتدائی طور پر پتہ نہیں چلتا،ایسی صور ت میں احتیاط ہی بہترین علاج ہے۔ دنیا میں جن جن ملکوں نے اس وباء پر قابو پایا ہے ان کی جانب سے ایک ہی پیغام دیا جا رہا ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ اپنے گھروں میں رہیں اور خود پر کرفیو نافذ کریں۔صحت یاب ہونے والوں کا نظریہ ہے کہ 7ہفتے گھر میں رہے‘ سورج کی روشنی کو بھی گھر کے اندر سے دیکھا، 7ہفتے بعد ہم مضبوط بن کر ابھرے۔ آئسو لیشن سے بہت کچھ سیکھا ہے‘ وبا کا مقابلہ ہمت‘ جرات اور حوصلے کے ساتھ ساتھ احتیاتی تدابیر سے کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کی اکثریت حکومت کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کر رہی ہے لیکن چند نادان لوگ سمجھتے ہیں کہ انہیں کورونا ہو ہی نہیں سکتا وہ غلطی پر ہیں،ایسے لوگ کورونا کو گھر میں لانے یا دوسروں کو دینے کیلئے باہر نکلتے ہیں، ایسے حالات میں ہمیں اپنے آپ کو خطرہ میں نہیں ڈالنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کورونا ایک ایسا ایشو ہے کہ حکومت تنہا اس کو ڈیل نہیں کر سکتی‘وباءسے نمٹنے کیلئے ہمیں تمام سیاسی، مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ علماءا کرام کی معاونت بھی درکار ہے،علماءاکرام کو لوگوں کو بتانا چاہئے کہ مسجد میں آنے سے آپ کے وباءسے متاثر ہونے کا خدشہ ہے لہذا گھر پر ہی نماز ادا کر یں۔گورنر پنجاب نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف ہماری یونیورسٹیاں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، یونیورسٹیوں نے حفاظتی کٹس،سینی ٹائزر بنا لئے ہیں جبکہ دیگر کی ریسرچ پر کام ہورہا ہے، جو چیزیں ہمیں ملک میں 10سال پہلے بنا لینا چاہئیں تھیں اب وہ آئندہ دو سے تین ماہ میں بن جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ لاکھوں کی تعداد میں ڈیلی ویجز ز ‘دوکانوں پر کام کرنے والے، ریڑی والا‘ چھابڑی والا،دیہاڑی دار روزانہ کی بنیاد پر کماتے اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے وہ لوگ سخت مشکل میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈینگی اور کورونا وائرس میں بڑا فرق ہے، کورونا کا موازنہ ڈینگی سے نہیں کیا جا سکتا،کورونا وائرس انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہو رہا ہے، کرونا ایک ایسی آفت ہے جس کیلئے کسی ملک کی بھی کوئی تیاری نہیں تھی، اگلے چند ہفتے لوگوں کیلئے مشکل ہیں ایک بیماری اور دوسرا غربت کا حملہ ہے، کورونا صرف ہمارے ملک میں ہی نہیں پھیلی بلکہ چین‘ برطانیہ‘ اٹلی‘ امریکہ،فرانس سپین،جرمنی سمیت دیگر مما لک بھی اس کی لپیٹ میں ہیں جو تاحال اس پر قابو نہیں پا سکے،حکومت وباءسے نمٹنے کیلئے محدود وسائل میں بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔چوہدری سرور نے کہا کہ اللہ تعالی ٰ نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے،بد قسمتی سے غلط پالیسیوں کے باعث ہم نے خود کو معاشی طور پر مشکل میں ڈالا ہے، ماضی میں توانائی کے حصول کیلئے درآمدی ذرائع پر انحصار سے ہمارا تجارتی خسارہ بڑھ کر 19بلین ڈالر ہوگیا تھا جس ملک کا تجارتی خسارہ اتنا زیادہ ہو گا وہ ترقی کیسے کر سکتا ہے، ہائیڈرو، ونڈ اور سولر ٹیکنالوجی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے لگائے جاتے تو ہمیں توانائی بحران اور بھاری تجارتی خسارے کا سامنا نہ کرنا پڑتا،10یونیورسٹیوں نے سولر کمپنیوں کے ساتھ ایم او یو سائن کئے ہیں جس سے ان کی لاگت آدھی رہ جائے گی،منصوبے پر کسی یونیورسٹی کا ایک روپیہ خرچ نہیں ہوا،ترقی کیلئے ہمیں دوررس پالیسیاں بنانا چاہئیں تھیں۔گورنر پنجاب نے کہا کہ سکول، کالجز نے لاک ڈاو¿ن کے دوران طلباءکیلئے آن لائن کلاسز کا اجراءکیا ہے، مشکل وقت میں یونیورسٹیوں کی انتظامیہ کی جانب سے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے بھرپور اقدامات کئے گئے ہیں، یونیورسٹیاں وزیر اعظم کے ریلیف فنڈ میں بڑھ چڑھ کرعطیات جمع کرا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے مستحق افراد کیلئے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف پیکیج دیا ہے‘ وزیر اعظم کے احساس کفالت پروگرام کے تحت مستحق افرادکو 12ہزار روپے دیئے جا رہے ہیں،پیکیج غریب لوگوں کے لئے ہے اور یہ امداد مستحق لوگوں تک ہی پہنچنی چاہئے۔ اپوزیشن کی جانب سے اپنے لوگوں کو نوازنے یا ان کے ذریعے امداد کی تقسیم کرنے کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے،کسی سیاسی وابستگی سے بالا تر حکومتی امداد مستحقین تک پہنچ رہی ہے،وزیر اعظم کے احساس کفالت پروگرام کے تحت 150ارب روپے کے پیکیج سے ملک کے ایک کروڑ 30لاکھ مستحق افراد کو گھر بیٹھے12000روپے مل رہے ہیں، مستحق افراد کی تمام معلومات نادرا کے پاس موجود ہیں، گاڑی رکھنے اور بیرون ملک سفر کرنے والے تمام افراد کا ڈیٹا نادرا کے پاس موجود ہے، زکوة و عشر، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے پیسے لینے والوں کو احساس پروگرام سے امداد کی رقم نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی مختلف جیلوں میں بند قیدیوں کی سکریننگ کا عمل جاری ہے جوقیدی کورونا وائرس میں مبتلا ہیں ان کو قرنطینہ میں رکھا جائے گا تاکہ دوسرے قیدی وائرس سے محفوظ رہ سکیں، این جی اوز کے تعاون سے قیدیوں کو ماسک، صابن سمیت دیگر ضروری اشیاء فراہم کی گئی ہیں، آزاد لوگوں کی طرح قیدیوں کی زندگیاں بھی اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ ٹیلی میڈیسن ہیلپ لائن قائم کی تھی جس پر سات ہزار سے ز ائد ڈاکٹرز رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں، ہزاروں لوگ روزانہ کی بیناد پر گھر بیٹھے چیک اپ کے ساتھ ساتھ طببی رہنمائی حاصل کر رہے ہیں جس سے ہسپتالوں میں لوگوں کا رش کم ہوا ہے، اب مزید 2درجن سے زائد ٹیلی میڈیسن سنٹرز پنجاب میں کھول دیئے گئے ہیں بہت جلد بلوچستان،خیبرپختونخواہ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی سینٹرز قائم کئے جائیں گے،ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، چینی ماہرین سمیت دیگر لوگ اس بات پرمتفق ہیں کہ کورونا کو روکنے اور اپنے ڈاکٹرز کو بچانے کا بہترین طریقہ ٹیلی میڈیسن سنٹرز ہیلپ لائن ہے۔انہوں نے کہا کہ 6 برس قبل پنجاب ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کی بنیاد رکھی تھی جس کے تحت 65 رفاحی تنظیمیں کام کر رہی ہیں، تنظیموں نے غرباءکیلئے 3 لاکھ راشن بیگز دینے کی حامی بھری ہے، سرور فاو¿نڈیشن نے بھی 20ہزار راشن بیگ دینے کا وعدہ کیا ہے،60فیصد لوگ گندے پانی کی وجہ سے بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں،پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہماری ترجیح ہے اس سلسلہ میں سرور فاو¿نڈیشن 1.7ملین افراد کو روزانہ کی بنیاد پر صاف پانی کی فراہمی یقینی بنا رہی ہے، کورونا کے باعث نئے فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب پر عارضی طور پر کام رک گیا ہے،جہاں جہاں صاف پانی کے پلانٹس لگائے گئے ہیں وہاں بیماریوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔گورنر پنجاب نے آٹا چینی بحران پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم غریب قوم کا دردرکھتے ہیں مہنگائی ہونے کی وجہ سے انہوں نے اس ایشو پر ایکشن لیا، گزشتہ 5-4سالوں میں چینی پر 25 ارب روپے سبسڈی دی گئی ہے جبکہ موجودہ حکومت نے صرف3 ارب روپے کی سبسڈی دی، سبسڈی کے حوالے سے رپورٹ جوں کی توں شائع کی گئی، اس میں ڈاٹ اور قومہ کو بھی تبدیل نہیں کیا گیا، ملکی تاریخ میں پہلی بار صرف 3ارب روپے کی سبسڈی پر اتنی تحقیق ہوئی ہے جس کا کریڈٹ وزیر اعظم کو دینا چاہئے،وزیر اعظم عمران خان نے ثابت کیا ہے کہ ان کے نزدیک سب لوگ برابر ہیں، قانون کی حکمرانی سب سے اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سے بڑا اچھا ورکنگ ریلیشن شپ ہے ہم اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کر رہے ہیں۔ صوبہ میں گورنر کا کردار آئینی ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اوورسیز پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں، جو سالانہ 22 ارب ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں، 19 ارب ڈالر کے سالانہ خسار ے کو ختم کرنا بڑا چیلنج تھا،بہتر حکومتی پالیسیوں سے تجارتی خسارے کو73فیصد تک کم کیا ہے جو بڑا کارنامہ ہے،ملکی معیشت درست سمت گامزن ہے، آئی ایم ایف،ورلڈ بینک سمیت دیگر بین الااقوامی معاشی ادارے حکومتی پالیسیوں کے معترف ہیں،مہنگائی کی وجہ سے غریب آدمی پر بڑا مشکل وقت ہے لیکن معاملات انشاءاللہ جلد بہتر ہونگے،اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے،اوورسیز پاکستانی کمیشن کے ذریعے ایک سال میں 6 ہزار سے زائد کیسز کو حل کیا گیا ہے،اس کے ساتھ ساتھ عدلیہ میں بھی ان کے لئے ا سپیشل ٹربیونلز بنا ئے گئے ہیں جو ان کے مقدمات کی ترجیحی بنیادوں پر سماعت کرتے ہیں۔