- الإعلانات -

سپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس‘ ‘ وزیر مملکت شہریار خان آفریدی کی کمیٹی کو بریفنگ

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کیا جائے جبکہ وزیر مملکت شہریار خان آفریدی نے بتایا ہے کہ1097 تبلیغی اور زائرین کو گذشتہ پانچ دن میں وطن واپس لایا گیا ہے۔ جمعہ کو سپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی نے زائرین، تبلیغی جماعت اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی فوری وطن واپسی سے متعلق پیشرفت کا جائزہ لیا اور وزارت خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو افغانستان، ایران اور مشرقِ وسطٰی میں پھنسے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کے لئے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ ذیلی کمیٹی کے چیئرمین شہریار خان آفریدی نے اس موضوع پر ہونے والی پیشرفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ بیرون ملک مختلف ممالک میں پھنسے 1097 تبلیغی جماعت کے ارکان کو خصوصی پروازوں کے ذریعے واپس پاکستان لایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تبلیغی جماعت کے 237 افغان شہریوں کو کورونا ٹیسٹ کے منفی نتائج آنے کے بعد واپس بھیج دیا گیا ہے۔اسپیکر کو یہ بھی بتایا گیا کہ جب سے کمیٹی نے یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، کورونا کے منفی ٹیسٹ ملتے ہی مزید 243 غیر ملکیوں کو بھی پاکستان سے باہر بھجوایا گیا ہے، اس کے علاوہ لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے پاکستان کے مختلف حصوں میں پھنسے ہوئے تبلیغی جماعت کے ہزاروں ار اکین کو اپنے اپنے گھروں میں واپس بھیج دیا گیا ہے۔شہریار آفریدی نے بتایا کہ 263 پاکستانیوں کو جاپان اور بنکاک سے اسلام آباد واپس لا کر قرنطین کردیا گیا تھا اور ان کے نمونے کورونا وائرس ٹیسٹ کے لئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ تفتان بارڈر سے 50 زائرین کو پنجاب لایا گیا تھا اور بعد ازاں قرنطینہ کا وقت پورا کرنے کے بعد ان کے گھر بھیج دیا گیا تھا۔اس کے علاوہ ، ایک اور پرواز میں متحدہ عرب امارات سے 250 پاکستانیوں کو وطن واپس لایا گیا تھا ، جنہیں قرنطینہ کی مدت پوری کرنے کے بعد ان کے گھر بھیج دیا گیا تھا۔ وزیر مملکت شہریار آفریدی نے کمیٹی کو بتایا کہ جدہ سے ایک پرواز 542 پاکستانیوں کو وطن واپس لائی جن کو قرنطین کردیا گیا۔شہریار آفریدی نے کمیٹی کو بتایا کہ 200 قیدی جنکو متحدہ عرب امارات نے رہائی دی ا±نہیں فیصل آباد پہنچتے ہی قرنطینہ میں رکھا گیا۔ شہریار آفریدی نے ایران ، افغانستان اور خلیجی ریاستوں میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی وطن واپسی سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی۔اسپیکر قومی اسمبلی نے شہریار آفریدی کی زیرقیادت پارلیمانی کمیٹی کی کوششوں اور بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے میں بے مثال کوششوں پر وفاقی اور صوبائی حکومت کے عہدیداروں کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے پھنسے ہوئے زائرین اور تبلیغی جماعت کے ممبروں کو ان کے اپنے گھروں تک واپس جانے میں سہولت فراہم کرنے پر عہدیداروں کی تعریف کی۔تاہم اسد قیصر نے افغانستان میں پھنسے پاکستانیوں کو فوری طور پر وطن واپس لانے پر افغان حکام کی جانب سے تاخیر کا جائزہ لیا اور وزارت خارجہ کو اس عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف سے بھی رابطہ کیا اور ہدایت کی کہ اس عمل کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے تاکہ پھنسے پاکستانیوں کو ہنگامی بنیادوں پر واپس لایا جاسکے۔اسپیکر نے پاکستان میں افغانستان کے سفیر اور کابل میں پاکستانی مشن سے بھی رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ معاملہ اعلی سطح پر اٹھایا جاسکے اور پاکستانی شہریوں کی واپسی میں رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔انہوں نے آئندہ ہفتے پارلیمانی کمیٹی کا خصوصی اجلاس بلانے کی بھی ہدایت کی جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر ، وزیر مذہبی امور نورالحق قادری ، ڈاکٹر معید یوسف اور دیگر اسٹیک ہولڈر شرکت کریں گے۔اسپیکر سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، قطر ، عمان اور ایران سے پاکستانی مزدوروں کی واپسی کا معاملہ بھی اٹھائیں گے۔قومی اسمبلی کے اسپیکر نے فیصل آباد کے قرنطینہ مرکز میں کھانے پینے اور حفظان صحت کے ناقص معیار کا نوٹس لیا اور وزیراعلیٰ پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے کی فوری تحقیقات کا حکم دیں۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اسپیکر 21 اپریل کو رمضان کے مقدس مہینے میں مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے میں مدد کے لئے علمائے کرام اور مذہبی جماعتوں کے رہنماو¿ں سے بات کریں گے