- الإعلانات -

علماء کرام رمضان المبارک کے ماہ مقدس میں مقبوضہ کشمیر کی آزادی ، اہل کشمیر پر استعمار کے مظالم کے خاتمے کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں گے،صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان

صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ حکومت کی اپیل پر پاکستان کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے علما نے اجتماعی طور پر اس عزم کا اظہار کیاہے کہ وہ رمضان المبارک کے ماہ مقدس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی اور اہل کشمیر پر استعمار کے مظالم کے خاتمے کے لیے خصوصی دعاؤں کے اہتمام کے ساتھ ساتھ بھارتی حکمرانوں کے مسلمانوں کے خلاف مکروہ عزائم کو بے نقاب کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ علماء کرام نے اس بات پر مکمل اتفاق کا اظہار کیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کی وبا کے خاتمہ کے لیے قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں عوام کی تربیت و رہنمائی کے ساتھ ساتھ اْن تمام ہدایات پر خود بھی عمل کریں گے جنہیں ماہرین صحت اس وبا کے خاتمہ کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔ ہفتہ کے روزویڈیو لنک کے ذریعے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی طرف سے بلائی گئی پاکستان کے چاروں صوبوں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے علما کی مشاورتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد اْنہوں نے اور وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے علماء کے ساتھ کئی مشاورتی نشستیں کیں جن میں تمام مکاتب فکر اور مسالک کے علماء نے اتفاق و اجماع سے حکومت کی کوششوں کا ساتھ دینے کا عہد کیا ہے۔ ویڈیو کانفرنس میں صدر آزاد کشمیر کے ساتھ چیف سیکرٹری مطہر نیاز رانا، اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن اور ممتاز عالم دین کفایت حسین نقوی، مولانا مفتی ابراہیم عزیز، علامہ حمید الدین برکتی، مولانا دانیال شہاب اثری اور سیکرٹری امور دینیہ سردار جاوید ایوب بھی شریک ہوئے جبکہ ویڈیو لنک کے ذریعے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے گورنر اور چیف سیکرٹری صاحبان نے اپنے اپنے صوبوں اور علاقوں کی نمائندگی کی اورمختلف صوبوں کے علماء کرام نے کرونا وائرس کی وبا کے پیش نظر رمضان المبارک، نماز با جماعت، تراویح اور نماز جمعہ کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر سے وفاقی حکومت اور صدر مملکت کو آگاہ کیا۔آزاد جموں و کشمیر کی قیادت کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، چیف سیکرٹری مطہر نیاز رانا اور علماء کرام نے ویڈیو کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ آزاد کشمیر میں تمام مکاتب فکر کے علما میں مکمل مذہبی اور مسلکی ہم آہنگی موجود ہے اور وہ حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ کرونا وبا سے نمنٹنے کے لیے نہ صرف بھرپور تعاون کر رہے ہیں بلکہ اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسلامی احکامات اور شریعت کے اْصولوں کی روشنی میں آگے بڑھ کر قیادت کا فریضہ بھی سر انجام دے رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کے علماء صفائی ستھرائی اور طہارت کی اہمیت کا عوام الناس میں شعور بیدار کرنے کے علاوہ لوگوں کو مشکل کی اس گھڑی میں غریب، نادار اور معاشی لحاظ سے کمزور لوگوں کی زکوة، صدقات اور عطیات کے ذریعے مدد کرنے کا جذبہ اْبھارنے میں اہم اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور علماء کرام کا یہ بھی موقف ہے کہ صرف صاحب علم لوگ ہی مختلف امور میں فتویٰ جاری کریں اور اس کے لیے کوئی مقتدر اور قابل اعتبار ادارہ ہونا چاہیے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ علماء کرام اس بات کے لیے پر عزم ہیں کہ وہ وزارت صحت کی گاہیڈ لائن کے مطابق ماہ رمضان نماز باجماعت، تراویح اور جمعتہ المبارک کے اجتماعات میں نمازیوں کی رہنمائی کریں گے اور کسی ایسا کوئی کام نہیں کریں گے جس سے کرونا وبا کی پھیلاؤ میں اضافہ ہو یا جس سے انسانوں کی زندگی خطرات سے دو چا ر ہو جائے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ علماء کرام لاک ڈاؤن اور کرونا وائرس کی وجہ سے عوام میں پائے جانے والے خوف، مایوسی اور اور ڈیپریشن اور دوسری ذہنی بیماریوں کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے ویڈیو کانفرنس سے اپنے خطاب میں اس بات پر خاص زور دیا کہ ایک ایسے وقت میں جب آزاد کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر کے لوگ کرونا کی وبا کے خلاف لڑ رہے ہیں بھارت کی فوج نے کشمیریوں پر مظالم کی انتہا کر دی ہے اور اْنہیں کرونا وائرس کی وبا سے بچانے کے لیے صحت کی وہ سہولتیں نہیں دی جا رہی ہیں جو اْن کی زندگی بچانے کے لیے ضروری ہیں۔ ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر میں کرونا مریضوں کے حوالے سے اعداد و شمار اور اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حکومت کی کوششں سے آگاہ کیا۔ چیف سیکرٹری مطہر نیاز رانا نے ویڈیو لنک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مساجد آزاد کشمیر کے معاشرے کا محور و مرکز ہیں اور حکومت علماء کرام کے تعاون و ر ہنما ئی سے کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں آگے بڑ ھ رہی ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ عزم ہے کہ وہ احترام رمضان اور انصرام رمضان کی تمام تفصیلات علماء کے مشورے سے طے کرے گی