- الإعلانات -

چین، ترکی، جاپان، کینیڈا، یورپی یونین، آسٹریلیا، اٹلی اور سعودی عرب سمیت 19 ممالک کے سفارتکاروں اور دفاعی اتاشیوں کا نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا دورہ

 پاکستان میں متعین چین، ترکی، جاپان، کینیڈا، یورپی یونین، آسٹریلیا، اٹلی، سعودی عرب سمیت 19 ممالک کے سفارتکاروں، دفاعی اتاشیوں نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا دورہ کیا جہاں پر انہیں سول و عسکری حکام کی جانب سے پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاﺅ، پاکستان کے بنیادی صحت نظام، کورونا وائرس ٹیسٹ کی صلاحیت، ذاتی تحفظ کے آلات(پی پی ایز) سمیت دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ پیر کو ڈین آف ڈپلومیٹک کور و ترکی کے سفیر، ڈین آف نان یورپین یونین و یوکرائن کے سفیر، ہیڈ آف یورپین یونین و سفیر یورپین یونین، کیوبا کے سفیر، چین، سوئٹزرلینڈ، کوریا، جرمنی، اٹلی کے سفرائ، آسٹریلیا، نائیجریا کے ہائی کمشنرز، سعودی سفارتخانے اور فرانسیسی سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشنز، مصر کے فرسٹ سیکرٹری، برطانوی ہائی کمیشن اور جاپان کے دفاعی اتاشیوں نے سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کے ہمراہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی وخصوصی اقدامات اسد عمر کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا۔ وفاقی وزیر اقتصادی امور خسرو بختیار، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے انسدادکوویڈ 19، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے نیشنل کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان، ڈائریکٹر جنرل آپریشنز اینڈ پلاننگ میجر جنرل آصف گورائیہ نے اجلاس میں خصوصی شرکت کی۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات نے غیر ملکی سفیروں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے عدم پھیلاﺅ اور حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد کے لئے فوجی وسول قیادت،چاروں صوبے بشمول آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی قیادت میں قومی یکجہتی، ہم آہنگی، باہمی تعاون اور اعتماد موجود ہے جس کی بدولت موثر منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس دنیا بھر میں پھیلا ہے اور ہر ملک اپنے زمینی حقائق کے مطابق فیصلے اور اقدامات اٹھا ر ہاہے اسی طرح پاکستان میں کورونا وائرس کے عدم پھیلاﺅ کے لئے زمینی حقائق ،معاشی اور سماجی نظام کو مد نظر رکھتے ہوئے اور صحت کے نظام کے ڈھانچہ کی استعداد کو دیکھتے ہوئے کورونا وائرس کے تدارک کے لئے منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس وصولی میں ایک تہائی تصور کریں تو ٹیکس وصولی میں 35فیصد کمی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 4فیصد بنتا ہے جو معیشت کا ایک بہت بڑا حصہ بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات قابل ستائش ہیں جبکہ آئی ایم ایف کے قرضوں کی ادائیگی ملتوی کرنے سے ملکوں کی لیکوڈیٹی میں اضافہ ہوا ہے جس سے کرونا وائرس کے تداک کے لئے کیے جانے والے اقدامات میں بہت مدد ملی ہے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی صحت ظفر مرزا نے نے کہا کہ اس وقت دنیا کے مخلتف ممالک میں 30ہزار سے زائد پاکستانی اپنی خدمات ان ممالک میں سرانجام دے رہے ہیں ،حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کی خدمات سے پاکستانی عوام بھی استفادہ حاصل کرے اس کے لئے ایک آن لائن پروگرام کا اجراءکیا جارہا ہے جس میں ڈاکٹر آن لائن علاج معالجے، امراض کی تشخیص، متعدی بیماریوں کا علاج کرسکیں گے۔ وفاقی وزیر اقتصادی امور خسرو بختیار نے کہا کہ جی 20ممالک کے لئے عالمی مالیاتی اداروں کا امداد اور قرضوں میں آسانیوں کے فیصلے سے ممبر ممالک کو کرونا وائرس جیسی عالمی وباءسے نمٹنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ جی 20ممالک کے وزراءخزانہ کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہونے چاہیں تا کہ ان اجلاسوں میں کورونا وائرس سے نمنٹے اور معیشت کے استحکام کے لئے تجربات شیئر کیے جاسکیں