- الإعلانات -

رمضان المبارک میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ مساجد کھلی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

 وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق نے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ مساجد کھلی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، حکومت اور علماءکرام کے درمیان متفقہ اعلامیہ کی خلاف ورزی ہوئی تو کارروائی ہو گی، آئندہ جمعة المبارک کو یوم توبہ اور یوم رحمت کے طور پر منایا جائے گا، مدارس کے بچوں کیلئے بھی گھر بیٹھے تعلیم کا پروگرام لایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی پیر نورالحق قادری کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ معاون خصوصی اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے کہ کورونا کا پھیلاو¿ روکنے کے ساتھ نظام زندگی کو بھی چلانا ہے، علماءکرام نے وزیراعظم کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں مساجد کھلی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم علماءکرام کو مساجد میں 20 نکاتی اعلامیہ پر من و عن عمل کرنا ہو گا، اعلامیہ کی خلاف ورزی ہوئی تو کارروائی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے بچوں کیلئے بھی گھر بیٹھے تعلیم کا پروگرام لایا جائے گا، کورونا بڑا چیلنج ہے، ایمانی قوت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان چاہتے ہیں کہ مساجد آباد رہیں اور موجودہ صورتحال کے تناظر میں عبادت کے دوران خصوصی دعاﺅں کا اہتمام کیا جائے، آئندہ جمعة المبارک کو یوم توبہ اور یوم رحمت کے طور پر منایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ لاک ڈاﺅن کے دوران جن علماءکرام، خطباءاور نمازیوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان کی رہائی کا پہلے ہی حکم دے چکا ہوں تاہم اگر اب بھی ایسا کوئی فرد گرفتار ہے تو اسے فوری رہا کیا جائے، وزیراعظم عمران خان نے مدارس کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کیلئے وزارت خزانہ کو حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ علماءکرام کورونا کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کریں اور اس کیلئے حکومت انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مدارس، مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر مذہبی اداروں کیلئے یوٹیلٹی بلوں کو مو¿خر کرنے کی تجویز کو بھی معاشی ٹیم کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سکولوں کے طلباءکو ٹیلی ایجوکیشن دی جا رہی ہے، وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ اسی طرز پر مدارس کے طلباءکو تعلیم کی فراہمی کیلئے بھی پروگرام شروع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا بڑا چیلنج ہے، اس کا ایمان کی قوت سے مقابلہ کرنا ہے، حقوق اﷲ اور حقوق العباد میں توازن لا کر اس طرح کے چیلنج سے نمٹا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماءکرام سے مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا، کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال میں بہتری کے بعد علماءکرام سے معاشی صورتحال کے تناظر میں بھی مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے جو خطیب، مو¿ذن اور عملہ کے دیگر ارکان معاشی مشکلات کا شکار ہیں ان کو بھی دیگر طبقات کی طرح مالی امداد کی سہولت فراہم کرنے کیلئے طریقہ کار وضع کیا جائے گا