- الإعلانات -

نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس، گندم اور چینی سکینڈل کی تحقیقات کا فیصلہ

 قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آباد میں ہوا ۔اجلاس میںڈپٹی چیئرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل اکاﺅ نٹبلٹی نیب ، ڈی جی آپریشن نیب اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں2 انکوائریوں کی منظوردی دی گئی۔جن میںسی ڈی اے کے افسران و اہلکاران اور دیگر، ریورگارڈن ہاﺅسنگ سکیم کی انتظامیہ اور دیگر اور پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ میں میگا کرپشن کی انکوائریز شامل ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میںانٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی انتظامیہ اور دیگر کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال متعلقہ محکمہ کو قانون کے مطابق کارروائی کے لئے بھجوانے کی منظوری دی۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میںگندم اور چینی پرائم میگا اسکینڈل کے تمام پہلوﺅں خصوصاََ اربوں روپے کی دھوکہ دہی، قیمتوں میں اضافہ ، مبینہ سمگلنگ اور سبسڈی وغیرہ کی بھر پور ،جامع ،مفصل ،آزادانہ اور قانون کے مطابق تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں پرائیویٹائیزیشن کمیشن آف پاکستان کے افسران/اہلکاران اور دیگر،جسٹس ملک محمد قیوم سابق اٹارنی جنرل پاکستان اور دیگر، پروفیسر ڈاکٹر اکرام اللہ خان ہیڈ آف ڈرمیٹالوجی پمز اسلام آباد اور دیگر، انٹیرئیرایمپلائزکو آپریٹوہاﺅسنگ سوسائٹی کی مینیجنگ کمیٹی راجہ علی اکبر اور دیگرکے خلاف انکوائری اب تک عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق بند کرنے کی منظوری دی گئی۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کا ایمان ۔کرپشن فری پاکستان ہے۔نیب فیس نہیں کیس کو قانون کے دائرے میں منطقی انجام تک پہنچانے پر ےقین رکھتا ہے ۔نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقوم برآمد کرنے کے ساتھ ساتھ میگا کرپشن کے وائٹ کالر مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچا نے اور بڑے پیمانے پر جعلی ہاﺅسنگ /کوآپریٹو سو سائ´یٹیوں سے عوام کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی کو اولین ترجیح سمجھتاہے۔ چئیرمین نیب نے کہا کہ نیب نے گزشتہ 2 سال میں 610 مقدمات میں بدعنوانی کے ریفرنس معزز احتساب عدالتوں میں دائرکئے ہیں۔ نیب نے چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قےادت میںاحتساب سب کےلئے کی پالیسی کے تحت گزشتہ دو سال میں 178 ارب روپے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے جو ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے خصوصاََ ورلڈ اکنامک فورم کی حالےہ رپورٹ میںنیب کی آگاہی اور تدارک کی پالسیی کو سراہا ہے جو نیب کےلئے اعزازکی بات ہے۔ نیب کے اس وقت 1275 بدعنوانی کے ریفرنسز معزز احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی مالیت تقریباََ 943 ارب روپے ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ غیر قانونی ہاﺅسنگ سوسائٹیزکی بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنے کےلئے عوام کو ان کی نشاندہی اور ریگولیٹرز کو اپنا کردار بروقت ادا کرناچائیے۔ا خبارات اور الیکٹر انک میڈےا کو بھی ہاوسنگ سوسائٹیزکی اشتہاری مہم کی تشہیر کرنے سے پہلے چند ضروری چیزیں جن میں ہاوسنگ سوسائٹی کےلئے زمین کی موجودگی،لے آوٹ پلان کی منظوری اور این او سی شامل ہے، کا جائزہ لینا چائیے کیونکہ بعض ہاﺅسنگ سوسائٹیز مبےنہ طور پر صرف کاغذوں پر موجود ہوتی ہیں اور انہوں نے متعلقہ ریگولیٹرسے منظوری نہیں لی ہوتی اس کے باوجود وہ پر کشش تشہری مہم کے ذریعے عوام کی عمر بھر کی کمائی لوٹنے کا سبب بنتی ہے۔ چیئرمین نیب نے نیب کے تمام ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی کہ شکایات کی جانچ پڑتال ، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز مقررہ وقت کے اندر قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائی جائیں اور تمام انوسٹی گیشن آفیسرز اور پراسیکوٹرز پوری تےاری ، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق معزز عدالتوں میں نیب کے مقدمات کی پیروی کریں تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے۔ نیب کی یہ دیرینہ پالیسی ہے کہ قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بارے میں تفصیلات عوام کو فراہم کی جائیں جو طریقہ گزشتہ کئی سالوں سے رائج ہے جس کا مقصد کسی کی دل آزاری مقصود نہیں ۔ تمام انکوائریاں اورانویسٹی گیشنز مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہیں جوکہ حتمی نہیں۔ نیب قانو ن کے مطابق تمام متعلقہ افراد سے بھی ان کا موقف معلوم کر نے کے بعد مزید کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے