- الإعلانات -

شفافیت کو یقینی بنانا حکومت کی اہم ترجیح ہے،آئی پی پیز سے متعلق رپورٹ کابینہ اجلاس میں پیش ہوئی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اصلاحات اسد عمر کی میڈیا کو بریفنگ

 وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اصلاحات اسد عمر نے کہا ہے کہ شفافیت کو یقینی بنانا حکومت کی اہم ترجیح ہے،آئی پی پیز سے متعلق رپورٹ کابینہ اجلاس میں پیش ہوئی، کابینہ نے یہ رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے قانون کے مطابق کمیشن آف انکوائری تشکیل دیا جا رہا ہے، کمیشن آف انکوائری فارنزک یا مزید تحقیقات کرنے کا مجاز ہو گا، عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام کی امانت ہے اور ہم عوام کو جواب دے ہیں۔منگل کو میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی پی پیز سے متعلق رپورٹ کابینہ اجلاس میں پیش ہوئی، کابینہ نے یہ رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے قانون کے مطابق کمیشن آف انکوائری تشکیل دیا جا رہا ہے،کمیشن آف انکوائری فارنزک یا مزید تحقیقات کرنے کا مجاز ہو گا، قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کوکوئی معافی نہیں ہونی چاہئے کمیشن کی تحقیقات کی روشنی میں ذمہ داروں کا تعین ہو گا ہم چاہتے ہیں کہ میڈیا ٹرائل کی بجائے قانون کے مطابق فیصلے ہوں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جس نے ایسا کام کیا قانون کی خلاف ورزی کی اس شخص کو معاف نہیں کیا جائے گا یہ متوسط طبقے کا پیسہ ہے ایسے افراد کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا ۔ اسد عمر نے کہا کہ یہ دیکھے بغیر کہ کون اس میں شامل ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا ہے کہ وہ کاروباری لوگ جنہوں نے پاکستان میں بجلی کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے مدد دی کاروبار صنعت اور زراعت کو بجلی مہیا کی سب نے غلط کام نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ شفاف طریقے سے قانون کے لوازمات پورے کرتے ہوئے رپوٹ مرتب کی جائےگی یہ ان کے مفاد میں بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج سے چند سال پہلے میں جب اسمبلی میں اپوزیشن میں بیٹھا تھا تو اس وقت کے وفاقی وزیر بجلی نے کیا کیا باتیں کیں میڈیا ٹرائل کے ذریعے یہ فیصلے نہ کیے جائیں ، وزیراعظم عمران خان نے قوم کے ساتھ وعدہ کیا تھا اس کی تشکیل ایک بار پھر شفاف طریقے سے ذمہ دارانہ طریقے سے کرائی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام کی امانت ہے اور ہم عوام کو جواب دے ہیں ایسے فیصلے پہلے بھی کیے آج بھی ایسا ہی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں کہا کہ رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ حکومت کی شفافیت کے عزم کا اعادہ ہے،چاہتے ہیں کہ عوام کا پیسہ صرف عوامی مفاد پر ہی خرچ ہو