- الإعلانات -

یہ وقت سیاست کا نہیں ،تمام مخالفین سے صلح کا مشورہ دیا ہے یورولوجی ہسپتال کے دورے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے کی گفتگو

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہاہے کہ اس وقت کوئی سیاست کی طرف نہیں دیکھ رہا۔لوگ ملک کی طرف دیکھ رہے ہیں اس وقت سیاست نہیں ہونی چاہیے ،ایک اور نیک ہو کر ایک سٹریٹیجی اپنانی چاہیے اور لوگوں کو ایک لائن اور لینتھ پر بولنا، کھیلنا ہے ،دنیاناکام اور کورونا بڑھ رہاہے۔ہمیں اس طرح غریب اور سفید پوش کو بچانا ہے کہ دنیا کو کورونا سے نقصان بھی نہ ہو اور وہ بھوک سے بھی نہ مرے مخیر حضرات اور بڑے اداروں کو وزیر اعظم کے ریلیف فنڈ میں دل کھول کر عطیات دینے چاہیں ۔ ۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے منگل کو راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی میں قائم کورونا ہسپتال کے دور ے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا شیخ رشید احمد نے کہا کہ میں نے مشورہ دیا ہے کہ یہ صلح کا وقت ہے ، رمضان آرہاہے۔ہمیں تما م سیاسی مخالفین کے ساتھ ،میڈیا کے ساتھ اپنے تمام اختلافات کو بھول کر صلح کر لینی چاہئے عید کے بعد یا جب یہ کورونا چلا گیا تو سیاست کر لیں گے۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کورونا کی وجہ سے پاکستان نہیں آیا کورونا کی فلائٹ پہ آیا ہے ،وہ یہاں ایک نیشنل گورنمنٹ کا خواب لے کر آیا تھا ،اسے پتہ نہیں تھا کہ اس کے خلاف اتنے سیریس کیس ہیں ،میں نے مذاق میں ایک بات کہی ،نیب نے سیریس لے لیا ، میرے سنگل کالمی بیان کو سات کالمی بنادیا گیا،،۔قبل ازیں انہوں نے ہسپتال بارے مکمل بریفنگ لی اور میڈیا کو بتایاکہ راولپنڈی میں کورونا سے مجموعی اموات 6،ٹوٹل مریض 196جبکہ55ڈسچارج ہو چکے ہیں ، 135زیر علاج ہیں وینٹی لیٹر پر 5مریض ہیں ،3ھائی فلو میں ہیں۔راولپنڈی میں ڈاکٹرز ،طبی عملے سے لیکر صفائی والوں تک سب نے زبردست کام کیا۔اس کے باوجود ہماری تیاری مکمل ہے ،سٹیڈیم میں بھی ہسپتال بنا رہے ہیں ،ہمارے پاس بے نظیر ہاسپیٹل ،ہولی فیملی ہاسپیٹل ،یورولوجی ہاسپیٹل ہے جبکہ ماں بچہ ہسپتال تیار ہو رہاہے جس میں 9بڑے ھال ہیں اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال راجہ بازار کو بھی نیا بنانے جارہے ہیں اور اگر ضرورت پیش آئی تو تمام نجی ہسپتالوں کی خدمات لے لیں گے ،6وینٹی لیٹر ریلوے کے ہیں۔ہم نے کل تافتان میں ٹرین بھیجی ہے جو کہ تافتان میں تیار کھڑیئ ہے۔انگریز نے 100سال پہلے ہاسپیٹل ٹرین میں بنائے ہیں اور انہوں نے میڈیکل کوچز بنائی ہیں تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں ان کوچز کو بطور بیڈ استعمال کیا جا سکے۔پاکستان ریلوے کا پنڈی لاہور ،کراچی ،ملتان ،کوئٹہ، پشاور سمیت سات ریلوے ہاسپیٹل کھڑے ہیں۔کسی بھی جگہ موبائل ہاسپیٹل کی ضرورت ہوئی تو فوری طور پر 24گھنٹوں میں موبائل ہسپتال بھیج دیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ گذشتہ روز ریلوے کے مزدوروں نے 5کروڑ ایک لاکھ 85ہزار روپیہ ایک دن کی تنخواہ دی ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ سارے بڑے بڑے ادارے اور لوگ جو پاکستان کے سر پر کھڑے ہوئے ان کو عمران خان فنڈ میں دل کھول کر عطیات دینے چاہیئں کیونکہ غریبوں سے زیادہ ضرورت مند سفید پو ش طبقہ ہے ،کورونا لاک ڈا?ن سے سب سے زیادہ متاثر چھوٹا دکاندار ہو ا ہے وہ بے چارہ پس گیاہے جس نے قسط دینی ہے۔انہوں نے کہاکہ میں امید رکھتا ہوں کہ 25اپریل یا یکم مئی سے محدود ٹرینیں آئسولیشن کے ساتھ چلا دیں گے ،ریلوے اس بحران کے وقت چمن بھی پہنچ گیاہے ،کسی گا?ں میں بھی ضرورت پڑی ہمارے 750اسٹیشن ہیں ہم وہاں تک اپنا ہاسپیٹل پہنچا دیں گے کیونکہ مسئلہ آئسولیشن کا ہے تو ریلوے کے پا س آئسولیشن کے لیے بہت ڈبے ہیں